کراچی اسٹاک ایکسچینج پرحملہ بھارت نے کرایا۔وزیر اعظم

وزیراعظم  نے کہاکہ ہمیں کوئی شک نہیں کہ  کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کا پلان بھارت میں بنایا گیا، بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلیے بڑا منصوبہ بنایا تھا ، دہشتگرد بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے ، میں اپنے چاروں شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں جنہوں نے قربانی دے کر دہشتگردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بنایا ۔

اپوزیشن کی غیر موجودگی میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں سب سے پہلے پاکستان کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتاہوں، سب انسپکٹر شاہد شہید ، سیکیورٹی گارڈز افتخار شہید، خدایار شہیداور حسن علی شہید ہمارے ہیروز ہیں ، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حسن علی کی بہن کو جب پتا چلا کہ وہ شہید ہو گئے ہی تو بھی صدمے کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔عمران خان نے کہا کہ انہوں نے قربانیاں دے کراور ہماری سیکیورٹی فورسز نے مقابلہ کر کے بڑے دہشتگردی کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بڑا منصوبہ بنایا تھا ، دہشتگرد بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے تھے ،ان کا مقصد تھا کہ اسٹاک ایکسچینج میں لوگوں کو یرغمال بناتے ، جو ایک مرتبہ ممبئی میں بہت بڑی دہشتگردی ہوئی تھی ، ان کا پلان بھی یہی تھاکہ اسی طرح بے قصور لوگوںکو قتل کرتے ۔

وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ یہ پلان ہمیں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان سے ہواہے ، گزشتہ دو ماہ سے میں نے اپنے وزراءکو بتایاہے کہ ہماری تمام ایجنسیاں ہائی الرٹ پر تھیں ، ہم نے اپنی انٹیلی اجنسیوں کی وجہ سے چار بڑی دہشتگردی کی کارروائیوں کو پہلے ہی ناکام بنا دیاجن میں سے د و اسلام آباد میں ہونی تھیں ۔ ہماری اس کی پوری تیاری تھی ، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

زیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوروناایس اوپیزکے تحت معیشت کھولی،لاک ڈاون میں دیہاڑی دارطبقہ متاثرہوتاہے،مجھ پرلاک ڈاون کے حوالے سے تنقید کی گئی، دنیابھرمیں سیاحت کے برے حالات ہیں،ہم نے سمارٹ لاک ڈاون کواپنایا،تاکہ معیشت چل سکے،اگرمجھ سے پوچھاجاتاتومیں کبھی سخت لاک ڈاون نہیں کرنے دیتا،ہمیں بھی مکمل لاک ڈاون کاکہاگیالیکن ہم نے زیادہ سخت لاک ڈاون نہیں کیا، آج دنیاسمارٹ لاک ڈاون کی طرف گئی ہے۔

عمران خان کا کہناتھا کہ ہمیں ابھی بھی معاشی طورپرچیلنجز کاسامنا ہے، پاورسیکٹرکاساراقرضہ ماضی کی حکومتوں کاہے،پی آئی اے دنیا کی بہترین ایئرلائن تھی،پی آئی اے میں اب مافیابیٹھاہواہے،گیارہ سالوں میں دس بارپی آئی اے کے سربراہ تبدیل ہوئے،اداروں میں بڑے بڑےمافیازبیٹھے ہوئے ہیں،ہمیں اداروں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ اسٹیل ملزپرآج ڈھائی سوارب کاقرضہ چڑھ چکاہے،پاکستان اسٹیل بندہے،34ارب کی تنخواہیں د ے چکے ہیں ۔ ان کا کہناتھا کہ ہم نے پہلے سال 4ہزارارب روپے جمع کیے،4 ہزارمیں سے 2ہزارارب قرضوں پر سود کی مد میں اداکیا۔ان کا کہناتھا کہ پاورسیکٹرملک پرعذاب بناہواہے، پاورسیکٹرٹھیک کرنے کیلیے تبدیلیاں لائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.