بھارت: قبول اسلام میں قانونی رکاوٹیں، ہندو شہری عدالت چلاگیا

بھارت میں ایک ہندو شہری اسلام قبول کرنے میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عدالت چلا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے شہر بھروچ کے 32 سالہ جگنیش پٹیل نے گجرات ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے تاکہ مقامی انتظامیہ تبدیلی مذہب کے عمل جان بوجھ کرکی جانے والی تاخیر نہ کرے۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق بھروچ کے کلیکٹر نے ان کے مؤکل کی تبدیلی مذہب کا سرٹیفکیٹ سے متعلق درخواست ایک سال سے روک رکھی ہے حالانکہ علاقائی مجسٹریٹ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ان کے مؤکل پر اس حوالے سے کوئی دباؤ نہیں اور وہ مذہب تبدیل کرنےکےلیے اہل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے بھروچ کے کلیکٹر کو حکم دیا ہے کہ وہ جگنیش پٹیل کی درخواست کا جلد ازجلد فیصلہ کرتے ہوئے 8 ہفتوں کے اندر اسے نمٹائے۔
جگنیش پٹیل نے کلیکٹر کے پاس جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ اسلام کی جانب مائل ہیں اور مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔
وکیل کے مطابق کلیکٹر نے ان کے مؤکل کی درخواست پر ایک سال سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، ریاستی قوانین کے تحت انہیں یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہے تب ہی وہ قانونی طور پر اسلام قبول کرسکیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.