حکومت نے براڈشیٹ سے متعلق معاہدے کی من پسند دستاویزات پبلک کردیں

مشیر داخلہ واحتساب شہزاداکبر نے براڈشیٹ سے متعلق معاہدے کی اپنی من پسند دستاویزات پبلک کردیں، شہزاداکبر کاکہناہے کہ نوازشریف کی ایون فیلڈپراپرٹی کی مد میں براڈشیٹ کو حصہ دیا گیا،21 اعشاریہ 5 میں سے 20 اعشاریہ 5 ملین شریف خاندان کی مد میں اداکرنا پڑے،ہمیں یہ ماضی کے خمیازے بھگتنے پڑ رہے ہیں ،اس میں لکھا ہے کہ ایون فیلڈسمیت دیگر اثاثے ثابت ہو چکے ہیں ،اگریہ ماضی کے بھی این آراوز ہیں توانہیں بھی دیکھناچاہیے،2018 کے آرڈر میں لکھا ہے شہبازشریف نے 7 اعشاریہ 3 ملین نیب کو اداکیے،یہ این آراو کی قیمت ہے جو ہمیں ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔

مشیر داخلہ واحتساب شہزاداکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ لائبلٹی اورکوانٹم کی دستاویزمنظرعام پر لارہے ہیں ،وزیراعظم کی ہدایت پر براڈشیٹ کے دستاویزمنظرعام پر لارہے ہیں ،2016 کی یہ دستاویز پبلک کیے بغیر شفافیت نہیں آسکتی۔

شہزاداکبر نے کہاکہ براڈشیٹ کے ساتھ ریکوری کامعاہدہ2000 میں ہوا،اس وقت جون 2000 میں پرویز مشرف کی حکومت تھی ،جولائی 2000 میں آئی اے آر سے بھی ایک ریکوری کامعاہدہ ہواتھا،دسمبر2000 میں نوازشریف ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے ،اکتوبر2003 میں حکومت نے براڈشیٹ کیساتھ معاہدہ منسوخ کیا،براڈشیٹ کیساتھ سیٹلمنٹ پر ادائیگی کے وقت پی پی کی حکومت تھی، ہماری اگست2018 میں حکومت آئی تھی، براڈشیٹ معاملے پر ہائیکورٹ میں اپیل 2019 میں کی تھی ،اپیل کافیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آتا ہے۔

مشیر داخلہ نے کہاکہ 31 دسمبر2020 کو ادائیگی کردی جاتی ہے،فہرست میں نام موجود ہیں جس مد میں پیسے حکومت پاکستان نے ادا کیے،انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی ایون فیلڈپراپرٹی کی مد میں براڈشیٹ کو حصہ دیا گیا،21 اعشاریہ 5 میں سے 20 اعشاریہ 5 ملین شریف خاندان کی مد میں اداکرنا پڑے،ہمیں یہ ماضی کے خمیازے بھگتنے پڑ رہے ہیں ،اس میں لکھا ہے کہ ایون فیلڈسمیت دیگراثاثے ثابت ہو چکے ہیں ،اگریہ ماضی کے بھی این آراوز ہیں توانہیں بھی دیکھناچاہئے۔شہزاداکبر نے کہاکہ 2018 کے آرڈر میں لکھا ہے شہبازشریف نے 7 اعشاریہ 3 ملین نیب کو اداکیے،یہ این آراو کی قیمت ہے جو ہمیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ چوری کااندازہ 16ارب روپے لگایا گیا یہ ہے وہ این آراو کی قیمت،وزیراعظم کے حکم کے مطابق فیصلے کو پبلک کردیا ہے، شون گروپ ،شیرپاﺅ ودیگرکی مدمیں صرف1 اعشاریہ 08 ڈالر ادا کیے ،ماضی میں آپ کی ہی حکومتوں نے دو بار این آراو دیاہے،ہم سب کادل دکھتا ہے کہ احتساب ہوتانظرنہیں آرہا،احتساب ہوتانظر نہ آنے کی اصل وجہ ماضی کے این آراو ہیں ،قانون کے مطابق پراسس سے گزارکرسزادلانا ضروری ہے۔

شہزاداکبرنے کہاکہ براڈشیٹ سے 2000 کے معاہدے کو31 دسمبر2020 سے دیکھنا ضروری ہے،ایک شخص ڈس کوالیفائی ہو گیا مگرپارٹی آج بھی لیڈر مانتی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیب نے جوریکوریزکی ہیں وہ الگ ہیں ،دوسرانیب کے پاس جو شواہد تھے ان کی ریکوریزہونی ہے،انہوں نے کہاکہ جولائی 2019 میں ہائیکورٹ میں اپیل پر فیصلہ ہمارے خلاف آیا،اپیل میں ہماراموقف تھاکہ ریکوریز نہیں ہوئیں۔

مشیر داخلہ نے کہاکہ براڈشیٹ کے معاہدے میں منصورالحق کانام نہیں ،ہمیں اپنے اداروں پر بھی اعتماد کرناچاہیے ،براڈشیٹ کو ادائیگی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ہوئی،48 گھنٹے میں وزیراعظم نے سفارشات مانگیں ،یہ پبلک کی جائیں۔

شہزاداکبر نے کہاکہ ایک چیزواضح ہے ماضی کی ڈیلزاوراین آراو کاخمیازہ بھگتناپڑ رہا ہے،ڈیل کومفاہمت کانام دیاجاتا ہے جو ملک وقوم کیلیے بڑا نقصان ہے،انہوں نے کہاکہ کمیٹی ہی بتائے کی کہ کس کے خلاف اورکیاکارروائی ہونی چاہیے ،چیئرمین نیب کاتعین ن لیگ اورپی پی دور میں ہوا، ہماری نظرمیں نیب اس وقت بہت اچھا کام کررہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.