فارن فنڈنگ کیس کا مرکزی ملزم عمران احمد نیازی ہے۔مولانا فضل الرحمن

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ  (پی ڈی ایم ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ کل الیکشن کمیشن کے باہر فارن فنڈنگ کیس کیلیے احتجاج کیا جائے گا کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس کے پیسوں کو انتشاراورالیکشن میں دھاندلی کیلیے استعمال کیا گیا، 21 جنوری سے 27 فروری تک ملک بھر میں جلسے ہوں گے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کل الیکشن کمیشن کے سامنے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے بھرپور احتجاج کریں گے، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس کا مرکزی ملزم عمران احمد نیازی ہے ۔ اس نے غیر قانونی طریقے سے پوری دنیا سے فنڈ اکٹھے کیے اورانہیں سیاسی انتشار اور دھاندلی کیلیے استعمال کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران نیازی نے مادر آف این آر او لے کر پاکستان  میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا اور چندوں کے نام پر حاصل کیے گئے فنڈز کو خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے ذاتی کاروبار اور انتشار پھیلانے کیلئے استعمال کیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے یہ مطالبہ کرنے جائیں گے کہ جس جرم کا اعتراف ہوچکا ہے اس کا فوری فیصلہ سنایا جائے، مزید تاخیر سے شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں، قوم کو اس تذبذب سے نکالنے کیلیے اس پارٹی کی قیادت کے خلاف فیصلے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ ایک طرف تو الیکٹڈ وزیراعظم کے خلاف چھ ماہ میں فیصلہ  سنادیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب سلیکٹڈ کے خلاف کیس کا فیصلہ چھ سال سے نہیں سنایا جارہا۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ کے جلسوں کا شیڈول بھی طے کرلیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم نے 21 جنوری کو کراچی میں’اسرائیل نامنظور ملین مارچ‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پانچ فروری کو پورے ملک میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جائے گا اوراس کے ساتھ ایک بڑا جلسہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں کیا جائے گا جس میں کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ نو فروری کو حیدرآباد ،13 فروری کو سیالکوٹ ، 16 فروری کو پشین بلوچستان، 23 فروری کو سرگودھا اور27 فروری کو خضدار میں ریلی اور جلسہ کیا جائے گا،اس کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.