آرزو فاطمہ کیس: عدالت نے نکاح کے گواہوں کو اشتہاری قرار دیدیا

سندھ ہائیکورٹ میں آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے نو مسلم آرزو اور علی اظہر کے نکاح کے گواہوں کو اشتہاری قرار دے ديا۔
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق آرزو فاطمہ کے والدین کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے چھوٹی بیٹی کو 44 سالہ پڑوسی نے 12 اکتوبر 2020ء کو اغواء کیا، اس کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا جس کے بعد کم عمری کے باوجود اس کی شادی کرادی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس طرح اُن کے مطابق یہ کیس اغواء کے ساتھ ساتھ ریپ کا بھی ہے، معاملہ میڈیا پر آنے اور عدالتی حکم پر پولیس نے لڑکی کو بازیاب کرایا، جبکہ اغواء کے کیس میں نامزد ملزم اور لڑکی کے شوہر کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں 9 نومبر کو جبراً مذہب کی تبدیلی کے الزام اور کم عمری میں شادی کے کیس میں لڑکی آرزو فاطمہ کی سیل شدہ میڈیکل رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی گئی، میڈیکل رپورٹ کے مطابق آرزو کی عمر 14–15 سال کے درمیان ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں منگل کو ہونیوالی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ آرزو اور علی اظہر کے نکاح کے گواہ دانش اور حبیب مقدمے کے اندراج کے بعد سے مفرور ہیں۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ جاری کردیئے۔
سندھ ہائیکورٹ نے آرزو فاطمہ اغواء اور زبردستی شادی کے مقدمے کو ٹرائل کیلئے سیشن عدالت بھیج دیا۔
کراچی کی ریلوے کالونی کے رہائشی والدین کے مطابق ان کا تعلق مسیحی مذہب سے ہے اور ان کے پیش کردہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے جاری کردہ کم عمر بچوں کے سرٹیفیکیٹ کے مطابق ان کی بیٹی کی تاریخ پیدائش 31 جولائی 2007 ہے جس کے تحت اس کی موجودہ عمر 13 سال 3 ماہ بنتی ہے۔
درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی کو ان کے 44 سالہ پڑوسی نے 12 اکتوبر کو اغوا کیا۔ اس کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا جس کے بعد کم عمری کے باوجود اس کی شادی کرا دی گئی۔ اس طرح اُن کے مطابق یہ کیس اغوا کے ساتھ ساتھ ریپ کا بھی ہے۔ معاملہ میڈیا پر آنے اور عدالتی حکم پر پولیس نے لڑکی کو بازیاب کیا۔ جب کہ اغوا کے کیس میں نامزد ملزم اور لڑکی کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت نے لڑکی کے شوہر سمیت معاونت کاروں کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے ملزم کے ڈی این اے رپورٹ اور دیگر شواہد جمع کرکے پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔
بچی کے والدین کی جانب سے دفعہ 5،8،9 سندھ چائلڈ میرج قانون سال 2016 اور چائلد میرج ایکٹ سال 2013 کے سیکشن 6 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر کے سیکشن 100 کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اغوا اور ریپ کے سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ سندھ میں 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا بھی جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب افراد بشمول نکاح خواں کو قید کے ساتھ جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔ جب کہ ایسی شادی کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ کم عمری میں مذہب تبدیل کرنے پر کوئی قانونی قید نہیں ہے۔

تبصرے بند ہیں.