حقوق نسواں کے عملبردار یورپ میں خواتین غیر محفوظ

احمد نجیب زادے
یورپی یونین ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں یورپی خواتین کو آزاد خیال معاشرے میں بھی غیر محفوظ قرار دے دیا۔ ایجنسی نے کہا کہ یورپی خواتین کی اکثریت نے زیادتیوں، جسمانی حملوں یا ہراساں کئے جانے کے خوف سے اپنی آمد و رفت محدود کر دی ہے۔ یورپی سماج کے تحقیقاتی ادارے فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ 16 سے 29 برس تک کی عمر والی 83 فیصد یورپی خواتین نے اپنی ذات اور عزت کی حفاظت کی خاطر کہیں جانے یا کسی فرد کے ساتھ وقت گزارنا ترک کردیا ہے اور اپنی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔ یورپی تجزیہ نگاروں نے اس رجحان کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یورپی ایجنسی فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی (ایف آر اے) نے یہ تصدیقی اعداد و شمار پورے یورپی یونین کے تمام ستائیس ممالک میں 35 ہزار یورپی خواتین سے انٹرویو اور تجزیاتی جانچ سروے کے بعد جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر یورپی عورت کو اپنی ز ندگی میں ایک سے زائد بار زیادتی یا ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے۔ اکثر خواتین سے زیادتی و ہراسانی کے واقعات عوامی مقامات، سڑکوں، پارکس، راہداریوں، جم، شراب خانوں میں ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال یورپی یونین کے 27 ممالک میں دو کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ خواتین و کم سن لڑکیوں پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ بات اگر صرف زیادتی کے متعلق کی جائے تو یہ تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے کہیں زیادہ ہے جو پولیس یا متعلقہ اداروں میں رپورٹ کئے جاتے ہیں۔ جبکہ مرد و خواتین اور لڑکوں پر حملوں کا تناسب دیکھا جائے تو یہ تعداد دس کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔

یاد رہے کہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متمدن اور تعلیم یافتہ یورپ میں خواتین سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ ہے جہاں نوجوان لوگوں، نسلی و مذہبی اقلیتوں اور معذور افراد کو دوسروں کی نسبت تشدد کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے۔ یورپی حکومتیں اس خطرناک رجحان پر اپنا دامن یہ کہہ کر چھڑاتی ہیں، چونکہ اس طرح کے زیادہ تر جرائم منظر عام پر نہیں آتے یا رپورٹ نہیں کئے جاتے اس لئے ان پر قابو پانا زیادہ مشکل ہے۔ یورپین نیوز نے لکھا ہے کہ اس رپورٹ میں جن کروڑوں خواتین پر تشدد اور جسمانی حملوںکی بات کی گئی ہے وہ ایک محدود تعداد ہوسکتی ہے۔ کیونکہ یہ بات طے ہے کہ ایسے واقعات کو جھیلنے والی خواتین اور کم سن لڑکیاں رپورٹ نہیں کرتیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

سروے میں شامل41 فیصد خواتین نے تسلیم کیا ہے کہ سماجی حیثیت کو برقرار رکھنے کی وجہ سے ان واقعات کو کہیں بھی یا متعلقہ فورم پر کمپلین سے احتراز کرنا پڑا۔ کسی یورپی ملک میں ہراسیت کی یہ شرح 15 فیصد رہی تو کہیں 62 فیصد، لیکن اس کا تناسب 41 فیصد پایا گیا ہے۔ اسی لیے 83 فیصد یورپی خواتین نے تو گھروں سے نکلنا بند کردیا ہے۔ فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی کی اس رپورٹ کے خالق سیمی نیوالا کا مزید کہنا ہے کہ اس طرح کے ہراسانی کے تجربات کا ٹیکنیکل جائزہ لیا گیا تو خواتین کی ان جگہوں کے بارے میں خیالات کی بالکل درست عکاسی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرد و خواتین کی مساوات کے معیار پر بھی یورپی یونین کے رکن ممالک میں ہر سال مرد و خواتین (بالخصوص خواتین) پر 22 ملین جسمانی حملے ریکارڈ کئے جاتے ہیں اور 110 ملین مرد و خواتین (بالخصوص خواتین) کو ہر اعتبار سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ سروے کا اہتمام یورپی یونین کی بنیادی حقوق کے ادارے فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کے نتائج مرتب و جاری کرنے سے قبل 35 ہزار شہریوں (اغلب خواتین) سے ان کی رائے معلوم کی گئی۔

یاد رہے کہ یورپی ممالک میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے اور کئی یورپی ممالک بشمول فرانس میں حجاب اور برقعہ پر پابندی کا رجحان عام ہے۔ فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جسمانی تشدد کے صرف 30 فیصد واقعات رپورٹ کیے جاتے ہیں، جبکہ ہراسیت کے ان گنت واقعات میں سے بھی محض 11 فیصد ہی رپورٹ کئے جاتے ہیں۔

یورپی یونین کی ایجنسی فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی کا صدر دفتر آسٹریا کے شہر ویانا میں کارگزار ہے۔ یورپی ادارے نے اپنی رپورٹ کے اجرا کیساتھ ساتھ یورپی یونین کے رکن ممالک سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں ان سماجی گروپوں پر زیادہ توجہ دیں، جن کے ارکان کے خلاف جسمانی و جنسی تشدد اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی اوسط شرح کافی زیادہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.