ڈریپ افسران کیلیے کرپشن کا نیا راستہ کھول دیا گیا

عمران خان:
ملک بھر میں متبادل ادویات کی آڑ میں غیر رجسٹرڈ اور مضر صحت ادویات تیار کر کے مقامی مارکیٹ میں سپلائی کرنے والی ہزاروں کمپنیاں شتر بے مہار ہیں۔ جبکہ ان کمپنیوں کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی کے ماتحت ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے اپنے افسران کیلئے کرپشن اور رشوت کا نیا راستہ کھول دیا ہے۔ ان افسران کو غیر رجسٹرڈ دوائیں ڈریپ کے فارم سیون اور میڈیکل وارنٹی کے بغیر فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹوروں، ڈسٹری بیوٹرز اور فارمیسیز کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام میڈیکل اسٹورز اور ڈسٹری بیوٹرز صرف ان کمپنیوں کی متبادل ادویات، ہومیو پیتھک، طب چینی و یونانی کے علاوہ آیوویدرک اور فوڈ سپلی منٹ وغیرہ خرید کرفروخت کریں۔ جن کے پاس ڈریپ کی رجسٹریشن کا فارم 7 میں موجود ہو اور اس کی میڈیکل وارنٹی کی بھی تصدیق ہو۔ تاہم اس کیلئے کوئی حکمت عملی قائم نہیں کی گئی کہ اگر متبادل ادویات اور حکیمی نسخے تیار کرنے والی کمپنیاں میڈیکل اسٹوروں اور ڈسٹری بیوٹرز کو جعلی فارم سیون اور میڈیکل گارنٹی دے کر مطمئن کر دیں اور اپنی ادویات فروخت کرتی رہیں تو ان کا سراغ لگاکر کارروائی کیسے کی جائے۔ اس وقت ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں میڈیکل اسٹورز اور ڈسٹری بیوٹرز موجود ہیں۔ ایسے میں ڈریپ کی ٹیموں کے افسران جسے چاہیں چیکنگ کے نام پر پکڑ سکتے ہیں یا لین دین کرکے چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کی مانیٹرنگ کا کوئی موثر نظام ڈریپ حکام کے پاس موجود نہیں۔ جبکہ متبادل ادویات تیار کرنے والی فیکٹریوں کے مالکان اور سرمایہ کار وں کو سیاسی، سرکاری اور دیگر بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔
’’امت‘‘ کو موصول اعداد وشمار کے مطابق 2012ء میں ملک میں ادویات سازی کی صنعت کی مانیٹرنگ اور شہریوں کو معیاری ادویات کی فراہمی کے لئے ڈرگ ایکٹ 2012ء ترمیم کے بعد نافذ کیا گیا اور اسی کے تحت 2014ء میں ڈریپ کے حکام نے ملک بھر میں متبادل ادویات کیلئے ہومیو پیتھک، طب چینی و یونانی کے علاوہ آیوویدرک اور فوڈ سپلی منٹ اور حکیمی نسخے تیار کرنے والی کمپنیوں کو رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد ڈریپ حکام کو ملک بھر سے ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں موصول ہونا شروع ہوئیں اوراب تک کے اعداد و شمار 23 ہزار کے لگ بھگ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ ان میں ٹیبلٹ، کیپسول، ڈراپ، ساشے، سیرپ، سافٹ جل، سوپ، آئل، کریم، لوشن، شیمپو، آئنمنٹ، جیل، لیکوڈ، طاقت کی گولیاں، فیس واش، ماؤتھ واش، اسپرے، سن بلاک، سن اسکرین، رنگ گورا کرنے والی کریم، پاؤڈر، ملک، ٹیوب، فیڈ اور دیگر ادویات شامل ہیں۔ جو ایلو پیتھک اجزا کے بغیر تیار کی جاتی ہیں۔

ڈیڑھ سال قبل تک ڈریپ حکام کو موصول ہونے والی یہ تمام درخواستیں دستاویزی صورت میں ریکارڈ روم میں گلتی سڑتی رہیں اور ان پر رجسٹریشن کاعمل شروع نہ ہوسکا۔ کیونکہ ڈریپ حکام کا موقف تھا کہ ان کے پاس افرادی قوت کی کمی تھی۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ متبادل ادویات تیار کرنے والی ہزاروں کمپنیاں اور کارخانے اب تک بغیر رجسٹریشن کے کام کرتے رہے۔ بعد ازاں ڈریپ حکام نے اس اہم معاملے پر سست رفتاری سے پیش رفت کرتے ہوئے اگست 2019ء میں ان تمام درخواستوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نظام میں شامل کرکے ایک فہرست مرتب کی۔ جسے درخواست دہندہ کمپنیوں سے بھی شیئر کیا گیا۔

اس طرح ہومیو پیتھک، طب چینی و یونانی کے علاوہ آیوویدرک اور فوڈ سپلی منٹ اور حکمی نسخوں کی رجسٹریشن کا آغاز ہوا۔ تاہم اب بھی صرف 40 فیصد نسخے اور ادویات کی رجسٹریشن ہوسکی ہے اور ملک بھر میں 60 فیصد ادویات اور نسخے بغیر رجسٹریشن کے تیار اور فروخت ہو رہے ہیں۔ چونکہ ڈریپ میں رجسٹریشن کیلیے کمپنیوں کو اپنی ادویات میں استعمال ہونے والے اجزا۔ ان کی مقداراور جنیرک نیم کے علاوہ یہ بتانا پڑتا ہے کہ مذکورہ ادویات کن امراض کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ڈریپ کے ماہرین یہ جانچتے ہیں کہ آیا کہ مذکورہ اجزا اور ان کی مقدار انسانی صحت کے لئے مضر صحت تو نہیں۔ اس کے بعد ہی ان ادویات اور نسخوں کیلیے کمپنیوں کی رجسٹریشن منظور کی جاتی ہے۔ جبکہ ایلوپیتھک ادویات کی کمپنیوں کی طرح انہیں ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات اور مقام کے صاف ستھرے اور معیاری ہونے کے حوالے سے بھی تصدیق کرنی پڑتی ہے۔

اس لیے جب ملک بھر میں 60 فیصد متبادل ادویات، ہومیو پیتھک،طب چینی و یونانی کے علاوہ آیوویدرک اور فوڈ سپلی منٹ اور حکیمی نسخے بغیر رجسٹریشن کے فروخت ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ شہریوں کو استعمال کروائی جانے والی ان ادویات کے معیاری اورغیر معیاری ہونے کے حوالے سے حکومتی ادارے کے پاس کوئی ریکارڈ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ حالانکہ خود 2020ء کے جولائی کے مہینے میں عالمی ادارہ صحت کے تحفظات کی روشنی میں ڈریپ حکام نے ملک بھر کے ڈاکٹروں کو ہدایات جاری کی تھیں۔ جن میں انہیں اپنے لیٹر ہیڈز پر ہومیو پیتھک، طب چینی و یونانی کے علاوہ آیوویدرک اور فوڈ سپلی منٹ اور حکمی نسخے مریضوں کو لکھ کر دینے سے منع کیا گیا تھا اور اس کو ملکی ڈرگ ایکٹ کے تحت غیر قانونی عمل قرار دیا گیا تھا۔

مارکیٹ ذرائع کے بقول صرف کراچی میں اس وقت 10 ہزار سے زائد ہربل اور حکیمی نسخے تیار کر کے فروخت کئے جا رہے ہیں۔ بلکہ یہ ادویات کار خانوں کے علاوہ گھروں میں بھی تیار کی جا رہی ہیں اور ان کو فروخت کرنے والوں نے علیحدہ سے بڑے بڑے اسٹورز بھی قائم کر رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ چند معروف ادارے گزشتہ70 برس سے ہزاروں کی تعداد میںکھانسی، درد، نزلہ بخار، دست، یرقان، امراض قلب، جوڑوں کے درد، پھوڑے پھنسیوں کے علاج کی ادویات کے علاوہ ہربل نسخوں کے برانڈ چھوٹے چھوٹے مکانوں، کارخانوں کے گندے سندے ماحول میں تیارکرکے متعارف کروا چکے ہیں تاہم اس کے لیے صرف اتنا کیا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان کمپنیوں کو ایف بی آر میں رجسٹرڈ کروالیا جاتا ہے اور اپنی تیار کردہ دیسی ادویات کے ٹریڈ مارک رجسٹرڈ کروا لیے جاتے ہیں تاکہ ان کے فارمولوں کے حقوق کمپنی کے پاس ہی رہیں تاہم ایف بی آر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ وہ یہ چیک کرے کہ کمپنی میں تیارکردہ پروڈکٹس میں وہی اجزا استعما ل کئے جا رہے ہیں جو اس کی پیکنگ پر درج ہیں یا پھر یہ اجزا اوران کا مرکب ان بیماریوں میں موثر ہے جن کے لیے انہیں تجویز کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام امور شعبہ طب سے متعلق ادارے ہی انجام دے سکتے ہیں۔

ذرائع کے بقول ہربل اور دیسی اجزا سے تیا ر کردہ ادویات کے نام پر جعلسازی اور لوٹ مار عروج پر پہنچ چکی ہے۔ جب کئی مقامی کمپنیوں کی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اس صورتحال کو دیکھا تو انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے شروع کر دیئے اور کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنی کم قیمت ادویات کو پہلے بند کر دیا اور بعد ازاں ان کو ہر بل یعنی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ظاہر کر کے مارکیٹ میں سپلائی کرنا شروع کردیا۔ اس کے لئے ان ادویات کی پیکنگ بھی تبدیل کردی گئی۔ تاہم نام وہی رہنے دیئے گئے۔ اس سے یہ فائدہ اٹھایا گیا کہ ان کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ کردیا گیا۔ کیونکہ فارماسوٹیکل کمپنیوں کی تیار کردہ ایلو پیتھک ادویات کی قیمتوں کا تعین فیڈرل مسٹری آف ہیلتھ کے ماتحت ادارہ تجویز کرتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ہربل یعنی جڑی بوٹیوں اور دیسی اجزا سے تیار کردہ ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے کیلیے نہ تو کوئی ادارہ موجود ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.