عراق پر حملہ آور امریکی وبرطانوی فوجی ناقابل علاج

رپورٹ:احمد نجیب زادے:
عراق پر حملہ آور ہونے والے لاکھوں امریکی و برطانوی فوجیوں کو جس پُر اسرار بیماری نے آن گھیرا تھا، اس کی تشخیص کیلئے بنائے جانے والے برطانوی بورڈ نے ہاتھ کھڑے کرلیے ۔ شاہی طبی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ نہیں کرسکتا کہ’’گلف وار سینڈروم‘‘ کون سی بیماری ہے اور یہ کس وجہ سے امریکی و برطانوی فوجیوں کو لاحق ہوئی ہے۔

اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ متاثرہ فوجیوں کو فالج، گھبراہٹ، جسم میں اکڑاؤ، سوچ کے کم تر ارتکاز، عقل سلب ہوجانے سمیت یاد داشت کھوجانے اور ہاتھ پیروں پر کنٹرول ختم ہوجانے جیسے ان گنت عوارض لاحق ہوئے تھے، جس کی وجہ سے لاکھوں فوجی اس وقت ’’عضو معطل‘‘ بن کر زندگی کے دن گھسیٹ رہے ہیں اوران کے علاج کیلیے تشخیص کی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ یاد رہے کہ جنگ عراق میں امریکی، برطانوی اوراتحادی افواج کی عراقی سویلینز پرکی جانے والی بے محابا بمباری، بے گناہ ہلاکتوں اورعراقی باشندوں پر امریکی و برطانوی فوجیوں کے بے ۔

سفاکانہ تشدد کا نشانہ بننے والے افراد اوران کے لواحقین کی جانب سے امریکی و برطانوی فوجیوں کی ’’گلف وار سینڈروم‘‘ نامی اس بیماری کو عذاب الٰہی قرار دیا جاچکا ہے۔ عراقی دارا لحکومت بغداد کے ضلع کاظمیہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک عراقی شہری حسین کامل نے لاکھوں اتحادی فوجیوں کی بیماری کو ’’خدائی پکڑ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظلوم کی آہیں سن کر قدرت نے امریکی و برطانوی فوجیوں کو گرفتار بلا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی بیماری کی نا تو کوئی تشخیص ہو رہی ہے اور نا ہی ان کا کوئی شافی علاج ممکن ہے۔

ادھر برطانوی جریدے ڈیلی میل کی ایک رپورٹ میں ’’گلف وار سینڈروم‘‘ کی تباہ کاری کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھی کم و بیش ڈھائی لاکھ سے زیادہ برطانوی فوجی اس نامعلوم عارضہ میں مبتلا ہیں اوران کی ان گنت علامات والی اس بیماری کا ہلکا ترین اثر یہ ہے کہ یہ فوجی اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہیں ہوسکتے اوران کے سر مسلسل چکراتے رہتے ہیں۔

’’برٹش رائل لیجن‘‘ کی جانب سے ایک تازہ سائنسی مطالعہ میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ جنگ خلیج میں عراق پر بمباری اور لڑائی میں شامل سپاہیوں میں ’’گلف وار سینڈروم ‘‘ بیماری امریکی و برطانوی توپخانہ کے برسائے جانے والے گولوں میں مستعمل ’’ڈپلے ٹیڈ یورینیم‘‘ میں سانس لینے کی وجہ سے نہیں پیدا ہوئی تھی، جیسا کہ ماضی میں امریکی و برطانوی حکومتوں اورعسکری کمیشن سمیت طبی ماہرین کا خیال تھا۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف پورٹ اسمتھ سے تعلق رکھنے والے ایکسپرٹس نے اس پُراسرار بیماری سے متاثرہ فوجیوں کے جسم میں باقی رہ جانے والے ’’ڈپلے ٹیڈ یورینیم‘‘ کی مقدار جاننے کیلیے کئی اقسام کے تجربات کئے ہیں اور اب حتمی طور پران کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے کسی بھی متاثرہ فوجی کے اندر یہ پر اسرار بیماری ڈپلے ٹیڈ یورینیم کی خاطر خواہ مقدار سے نہیں ہوئی تھی۔

اس تحقیق میں شامل پروفیسر رینڈل پیرش نے کہا کہ ان کی اس تحقیق کے نتائج ان تمام محققین کو حیران کرسکتے ہیں جن کا ایک طویل عرصے سے یقین تھا کہ ڈپلے ٹیڈیورینیم کی وجہ سے ان کے اندر یہ پراسرا عوارض پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ امریکی افواج میں آرٹلری کے گولوں پر تابکار مادے یعنی ڈپلے ٹیڈ یورنیم کی کوٹنگ یا تہہ چڑھائی جاتی ہے جس سے یہ اپنے ہدف کو زیادہ ہلاکت خیزی سے نشانہ بناتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ہدف بنائے گئے علاقوں میں شدید تابکاری پھیلاتے ہیں جس سے ماحولیات، پانی کے ذخائر، جانوروں، پرندوں اورانسانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

کئی محققین کا اس پُراسرار بیماری کے حوالہ سے ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکی و برطانوی سپاہیوں میں ’’گلف وارسینڈروم‘‘ کی بیماری اعصاب پر حملہ آور ہونے والے کیمیکل سارین کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے لیکن اس سلسلہ میں اس خیال کو بھی عام تائید حاصل نہیں ہے اور چند سال قبل رائل وار میڈیسن کارپس کی تحقیق میں اس وقت کے ماہرین کا نیا دعویٰ تھا کہ گلف وار سینڈروم کا بنیادی سبب جنگ کے موقع پر فوجیوں کیلیے بے تحاشا ویکسینیشن تھا۔ لیکن بعد ازاں’’تحقیق‘‘اس کو بھی رد کردیا گیا۔

تحقیق میں شامل ’’رائل برٹش لیجن‘‘ کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے متعلق فہم کی کمی کی وجہ سے جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ برطانوی وزارتِ دفاع کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ اس کا ’’گلف وار سینڈروم‘‘ کے بارے میںمزید تحقیق کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر وہ اس حوالے سے شائع ہونے والے دیگر تحقیقی مطالعات پر نظر رکھے گی۔

ان گنت امریکی و برطانوی و عالمی طبی و جنگی محققین کا تجزیہ ہے کہ خلیجی جنگ میں حصہ لینے والے تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ سپاہیوں میں یہ جنگی منظر نامہ کی بیماری موجود ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے بے خوابی اور یادداشت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

؎گلف وار سینڈروم کا شکار سابق برطانوی فوجی کیری فولر عراق جنگ میں حصہ لینے کے وقت بالکل صحت مند جوان تھے، جو 1991ء کی اس جنگ سے قبل جسمانی کسرت کو بے حد پسند کرتے تھے۔ ان کو اس جنگ سے لگی بیماری کے سبب چالیس سال کی عمر میں فالج کا دورہ پڑا اوراب وہ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بیمار ہوچکے ہیں کہ ان کا بستر سے نکلنا مشکل اور عام زندگی بسر کرنا ناممکن ہوچکا ہے۔ کیری نے بے چارگی کے عالم میں دیے جانے والے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ان کی پوری زندگی اور پورا وجود ایسے ہی تبدیل ہو گیا۔ مایوس کیری فولر کا ماننا تھا کہ اب ان کی صحت کی جانب واپسی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بس نقصان ہو چکا ہے اور میری بیماریاں اب سنگین تر ہو رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.