پی ایس ایل۔کراچی میں ایمبولینس سروسز بھی درہم برہم

رپورٹ:عظمت خان:
پی ایس ایل میچوں کی وجہ سے کراچی میں ایمبولینسوں کو بھی سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ٹریفک جام کے باعث ایدھی اور چھیپا ایمولینسزکو راستے نہیں مل پاتے۔ بروقت ایمبولینس سروس مہیا نہ ہونے کی وجہ سے روڈ ایکسیڈنٹ سمیت گھروں میں مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کراچی میں جاری پاکستان سپر لیگ میچز کی چھٹی سیریز کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں جاری ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، حکومت اور ٹریفک پولیس کی نااہلی کی وجہ سے بہت کم لوگ پی سی ایل کے کھیل سے محظوظ ہو رہے ہیں جبکہ عوام کی بڑی تعداد کو شدید مسائل و پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہر میں روزانہ درجنوں مقامات پر ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں اور سیکڑوں مقامات سے مریضوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ شہر کی شاہراہوں پر ایمبولینسوں کا گزر عام سی بات ہے۔ تاہم پی ایس ایل کے دوران انتظامیہ نے شہر کی کئی سڑکوں کو ٹریفک کی آمد و رفت کیلیے بند کر دیا ہے۔

دوسری جانب متبادل راستوں پر ٹریفک کے شدید دباؤ کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ راستوں کی بندش کی وجہ سے ایبولینس سروسز بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ایبولینسز کے یونیورسل نمبروں پر بر وقت رابطوں کے باوجود بھی کئی گھنٹوں بعد مریضوں کو اسپتال پہنچایا جانا ممکن ہے۔

اس حوالے سے ’’امت‘‘ نے ایدھی ایمبولینس سروس کے انچارچ بلال سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ شہر کی ایک سڑک بند ہونے سے ایمبولنسز کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ جبکہ ایک وقت میں کئی سڑکیں بند ہونے سے کتنا نظام برباد ہوتا ہوگا، یہ سوچنے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت کئی سڑکیں بند ہیں اور اس وجہ سے ایدھی ایمبولینسوں کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ اس سے قبل کے ایم سی کی جانب سے انکروچمنٹ میں ہماری ایمبولینسز کے اسٹاپ ختم کئے گئے تھے، جس کی وجہ سے بھی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب ایک ساتھ کئی سڑکیں بند ہونے سے مریضوں کو گھروں سے اٹھانا اور پھر رش سے بھری سڑکوں سے ایمبولینسوں کو گزارکراسپتال پہنچانا مشکل ہے۔ حکومت کو اس پر سوچنا وگا۔ کیونکہ پوری دنیا میں ایمبولینسوں کا راستہ کبھی بند نہیں کیا جاتا ہے۔

شہر میں دوسری بڑی ایمبولینس سروس چھیپا ابمبولینس سروس کے ذمے دار عرفان نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ گزشتہ روز بھی ایک روڈ ایکسیڈنٹ کا کیس آیا جس میں یونیورسٹی روڈ پر بیت المکرم کے قریب زخمی مسافر کو اٹھانا تھا۔ لیکن روڈ جام ہونے کی وجہ سے ایمبولینس کافی تاخیر سے پہنچی۔ روڈوں کی بندش سے بے شمار مسائل پیش آ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس ایل میچز کی وجہ سے روڈ بند ہونے سے قبل روزانہ گلشن اقبال سمیت دیگر ملحقہ علاقوں سے 20 سے 30 مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہوتا تھا۔ تاہم اب یہ سلسلہ متاثر ہوا ہے۔ کیونکہ اسٹیڈیم کے اطراف روڈ بند ہیں اور دیگر سڑکوں پر بدترین ٹریفک کا دباؤ رہتا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی شہر کی کوئی ایک سڑک بھی بند ہونے سے پورے شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔

ادھر شہر کی سڑکوں کی بندش پر سماجی رہنماؤں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک تنظیم کی درخواست پر عدالت کی جانب سے اسٹیڈیم کے راستے کو کھلا رکھنے کا حکم جاری کردیا گیا تھا۔ تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جارہا۔

تبصرے بند ہیں.