الیکشن کمیشن میں سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی ڈھیر ہو گئی

امت رپورٹ:
ڈسکہ کے متنازع ضمنی الیکشن کے معاملے پرالیکشن کمیشن میں ہونے والی سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی ڈھیر ہوگئی۔ میڈیا پر اپنی کامیابی کے دعوے کرنے والے حکمراں پارٹی کے نمائندے کمرہ عدالت میں فارم پینتالیس سمیت کسی بھی قسم کا ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر رہے۔ جبکہ شکایت کنندہ نون لیگ نے اپنے دفاع میں بھرپور مواد پیش کیا۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ الیکشن کمیشن کے نمائندے کے اہم بیان کے نتیجے میں بھی دھاندلی سے متعلق چوری پکڑی گئی۔ ریٹرننگ افسر نے تحریری طور پر تسلیم کرلیا ہے کہ پریذائیڈنگ افسران نے بادی النظر میں نتائج تبدیل کیے۔

دوران سماعت بہت سے نئے انکشافات بھی منظر عام پر آئے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ لاپتہ پریذائیڈنگ افسران تاحال اصل حقائق بتانے کے لئے زبان کھولنے پر تیار نہیں اور بیشتر کی رعونت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے بیان ریکارڈ کرنے کے لئے طلب کئے جانے سے متعلق ہدایت کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ دیا۔ اس اہم سماعت میں پی ٹی آئی امیدوار کے وکلا پیش ہوئے۔ جبکہ نون لیگی امیدوار کا کیس معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے لڑا۔

دوران سماعت دونوں امیدواروں نوشین افتخار اور علی اسجد ملہی کو بھی روسٹرم پر بلاکر موقف بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ کیس کی اگلی سماعت کل (جمعرات) کو ہوگی۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلی ایک یا دو سماعتوں میں الیکشن کمیشن اپنا فیصلہ سنادے گا۔

ڈسکہ کے متنازعہ ضمنی الیکشن کے دوران تیئیس پولنگ اسٹیشنوں کے پریذائیڈنگ افسروں کے غائب ہوجانے سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو الیکشن کمیشن میں شروع ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر حلقہ این اے پچھتر ڈسکہ کے ریٹرننگ افسر اطہر عباسی نے بتایا کہ تین سو سینتیں پولنگ اسٹیشنوں کا ریکارڈ انیس اور بیس فروری کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے تک رزلٹ مینجمنٹ سسٹم میں آچکا تھا۔ تین دیگر پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ بذریعہ واٹس ایپ پہنچا۔ لیکن یہ رزلٹ منیجنگ سسٹم میں جمع نہیں کرایا جاسکا۔ کیونکہ آر او آفس کے باہر ہجوم جمع تھا۔ حالات بڑے خراب تھے۔

ریٹرننگ افسر کے بقول بیس پولنگ اسٹیشنوں کا مسئلہ تھا۔ انہوں نے پولیس افسران سے رابطہ کیا۔ لیکن جواب نہیں دیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ پریذائیڈنگ افسران پولیس موبائلوں کے تحفظ میں روانہ ہوئے تھے۔ پولیس موبائل پر وائر لیس سسٹم ہوتا ہے۔ کیا وائرلیس پر بھی رابطہ نہیں ہوسکا۔ اس پر ریٹرننگ افسر کا جواب تھا کہ انہوں نے ڈی ایس پی ڈسکہ کو ہدایت کی تھی۔ لیکن وائرلیس پر بھی رابطہ ممکن نہیں ہوا۔ لاپتہ پریذائیڈنگ افسروں میں سے انیس کے موبائل فون بھی بند تھے۔ صرف ایک کا فون کھلا تھا۔ لیکن اس نے کال ریسیو نہیں کی۔

کمرہ عدالت میں موجود ذرائع نے بتایا کہ سوالات کے دوران ریٹرننگ افسر خاصے نروس دکھائی دے رہے تھے اور واضح طور پر محسوس ہورہا تھا کہ وہ دبائو میں ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوا، جب وہ اپنے پچھلے بیان سے مکر گئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریٹرننگ افسر سے استفسار کیا کہ ’’آپ نے کہا تھا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔ کیا انتظامیہ نے آپ کے ساتھ تعاون نہیں کیا؟‘‘۔ ریٹرننگ افسر کا جواب تھا ’’انتظامیہ تو تعاون کر رہی تھی۔ لیکن آر او دفتر کے باہر بہت زیادہ ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ جس پر ہم خوفزدہ ہوگئے تھے‘‘۔ ریٹرننگ افسر کے اس بیان پر نون لیگی امیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر اپنے پرانے موقف سے ہٹ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ قبل ازیں ریٹرننگ افسر نے انتظامیہ کے تعاون نہ کرنے سے متعلق اپنی شکایت میں کہا تھا کہ پریذائیڈنگ افسروں کے غائب ہوجانے کے بعد آئی جی پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا جارہا تھا۔ سماعت کے موقع پر موجود ذرائع کے مطابق ریٹرننگ افسر اس وقت مزید گھبراگئے، جب ممبر پنجاب الطاف قریشی نے پوچھا کہ کیا موبائل کمپنیوں سے لاپتہ پریذائیڈنگ افسران کی لوکیشن معلوم کرائی گئی؟ ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ ڈی پی او کا نمبر بلاک تھا۔ لہٰذا ان سے بھی رابطہ نہیں ہوسکتا تھا۔
سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ جب کئی گھنٹے غائب رہنے والے پریذائیڈنگ افسران واپس پہنچے تو ریٹرننگ افسر نے اس گمشدگی کی وجوہات جاننے کے لیے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ اس بارے میں ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا ’’صبح چھ بجے جب بیس پریذائیڈنگ افسران آر او دفتر پہنچے تو اس وقت صرف ان سے زبانی طورپراس قدر تاخیرکی وجہ معلوم کی گئی۔ تاہم پریذائیڈنگ افسران مطمئن نہ کرسکے۔ چونکہ باہر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع تھا اور نعرے بازی ہورہی تھی۔ لہٰذا ماحول ایسا نہیں تھا کہ پریذائیڈنگ افسران کے بیانات ریکارڈ کئے جاسکتے۔ لہٰذا انہیں جانے دیا گیا۔ تاہم اگلے روز دوپہر کے وقت ان تمام پریذائیڈنگ افسران کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا گیا تو بیشتر پریذائیڈنگ افسران نہیں پہنچے۔

انکوائری کے عمل میں تیرہ پریذائیڈنگ افسران شامل ہوچکے ہیں۔ تاہم اب تک صرف آٹھ پریذائیڈنگ افسران کا بیان ریکارڈ کیا جاسکا ہے۔ ان پریذائیڈنگ افسران نے ملتے جلتے بیانات ریکارڈ کرائے۔ جس میں تاخیر کی بنیادی وجہ دھند، راستہ اور موسم کا خراب ہونا بتایا گیا۔ ریٹرننگ افسر نے اس موقع پر بھی پریذائیڈنگ افسران کا دفاع کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ جن پولنگ اسٹیشنوں سے پریذائیڈنگ افسران کو آنا تھا۔ وہاں سے آر او آفس کا فاصلہ تیس سے پینتیس کلومیٹر ہے۔ راستہ خراب ہونے کی وجہ سے دن کے وقت بھی یہ فاصلہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ تاہم لیگی نمائندوں نے ریٹرننگ افسر کے اس بیان کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفر گھنٹوں کا نہیں منٹوں کا ہے۔

لاپتہ ہونے والے بیس میں سے جو تیرہ پریذائیڈنگ افسران انکوائری کے عمل میں شامل ہوئے۔ ان کے نام اور متعلقہ پولنگ اسٹیشن یہ ہیں۔ عمر فاروق ڈوگر (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر دو)، عاطف شاہین (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر تین)، شاہجہاں (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر چھ)، اصغر علی (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر پینتالیس)، محمد انور (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر سینتالیس)، عبدالوحید (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر اکیاون)، وارث محمود (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر نوے)، ناصر محمود (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر بیانوے)، حافظ محمد انور شاہد (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر اننچاس)، حقیق الرحمان (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر پچاس)، سلمان خالد (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر آٹھ)، محمد رضوان بٹ (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبر اکیانوے) اور محمد یوسف (انچارج پولنگ اسٹیشن نمبرگیارہ)۔ صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب میں پیش ہونے والے ان پریذائیڈنگ افسران سے صوبائی الیکشن کمشنر اور جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے بیانات لیے ہیں۔
الیکشن کمیشن میں ہونے والی سماعت کے دوران نون لیگ نے شواہد کے ساتھ اپنا کیس پیش کیا۔ جس میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ پولنگ والے روز حلقہ میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ فائرنگ کرکے امن و امان خراب کیا گیا۔ جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا۔ اس کے سبب نون لیگی ووٹروں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالے بغیر واپس چلی گئی۔ ثبوت کے دوران فائرنگ اور اسلحہ برداروں کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیجز پیش کی گئیں۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ فائرنگ کرنے والے تحریک انصاف کے لوگ تھے۔ ہو سکتا ہے یہ نون لیگی ہوں۔ پھر یہ کہ خوف و ہراس کے ماحول میں واپس جانے والے صرف نون لیگی نہیں، پی ٹی آئی کے ووٹر بھی ہو سکتے ہیں۔ اس پر لیگی امیدوار نوشین افتخار کا موقف تھا کہ ان کا خاندان پچھلے چار سے پانچ الیکشن جیتتا چلا آیا ہے۔ اس ٹریک ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حلقہ نون لیگ کا مضبوط سیاسی گڑھ ہے۔ اس بار بھی نون لیگ کی جیت یقینی تھی۔ ایسے میں فائرنگ کرکے نون لیگ حالات کیوں خراب کرتی۔ اور یہ کہ نون لیگ پورے حلقے میں اسی لیے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے کہ اگر واپس جانے والے پی ٹی آئی کے ووٹرز تھے تو ری پولنگ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ ابتدا میں خود نوشین افتخار اور لیگی قیادت نے صرف متنازعہ تیئیس پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم لیگی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کے مطالبے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ تحریک انصاف کا اصرار ہے کہ صرف متنازعہ پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ کرائی جائے۔
سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی۔ جب پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی اپنا موقف پیش کرنے روسٹرم پر آئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے فارم پینتالیس جمع کرادیے ہیں، تو علی اسجد ملہی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے یہ حیران کن جواب دیا ’’ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارے خلاف درخواست کیا ہے لہٰذا ہمیں ریکارڈ جمع کرانے کے لیے وقت دیا جائے‘‘۔

اس موقع پر پی ٹی آئی امیدوار کے وکیل نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیس میں وقت بہت اہم ہے۔ اب کوئی دھند بھی نہیں پڑ رہی۔ لہٰذا فارم پینتالیس سمیت دیگر ریکارڈ جمع کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ آپ کے پاس بدھ (آج) تک کا وقت ہے۔ ایک دن کے اندر الیکشن کمیشن میں فارم پینتالیس اور دیگر ریکارڈ جمع کرادیا جائے۔

واضح رہے کہ پریس کانفرنسوں میں عثمان ڈار اور خود علی اسجد ملہی یہ کہتے رہے ہیں کہ انہیں بیس پولنگ اسٹیشنوں پر سات ہزار سے زائد ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے کمرہ عدالت میں جب ثبوت پیش کرنے کا وقت آیا تو پی ٹی آئی کے نمائندے بغلیں جھانک رہے تھے۔

اس کیس کی کوریج کرنے والے نصف درجن کے قریب کورٹ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ نون لیگ سارا وقت چھائی رہی جبکہ پی ٹی آئی دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اب اس کے پاس فارم پینتالیس اور دیگر ریکارڈ جمع کرانے کے لیے صرف ایک روز ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بالخصوص تیئیس متنازع پولنگ اسٹیشنوں کے فارم پینتالیس کے حوالے سے کیا اعدادوشمار پیش کئے جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں پر اسے نون لیگی امیدوار پر ہزاروں ووٹوں کی برتری حاصل ہے جبکہ نون لیگ کا الزام ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنوں کے اصل فارم پینتالیس کی جگہ پی ٹی آئی نے جعلی فارم پینتالیس تیار کرکے اپنی برتری دکھائی ہے۔ لیگی ذرائع کے بقول پی ٹی آئی اب پھنس گئی ہے۔ وہ اصل فارم پینتالیس پیش کرتی ہے تو اس کی برتری کا دعویٰ ہوا ہو جائے گا۔ اور اگر جعلی فارم پینتالیس جمع کرائے گئے تو فارنسک تجزیے میں یہ جعلسازی پکڑی جائے گی۔
ادھر ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جانے والی اپنی تحریری رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ’’بادی النظر میں پریذائیڈنگ افسران نے نتائج تبدیل کیے‘‘۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں ریٹرننگ افسر نے نتائج روکنے کی سفارش کرتے ہوئے متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کرانے کی سفارش کی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن میں نون لیگ نے بیس میں سے اٹھارہ پولنگ اسٹیشنوں کے فارم پینتالیس جمع کرا دیئے ہیں۔ ان میں سے چار پولنگ اسٹیشنوں کے فارم پینتالیس اور پریذائیڈنگ افسروں کے فراہم کردہ فارم پینتالیس کے نتائج ایک جیسے ہیں۔ تاہم دیگر چودہ فارم پینتالیس کے نتائج اور پریذائیڈنگ افسروں کے فارم پینتالیس کے نتائج میں فرق ہے جس سے بظاہر چوری ثابت ہورہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.