مسجد کے روحانی ماحول نے برطانوی خاتون کی کایا پلٹ دی

ضیاء چترالی:
حق تعالیٰ جل شانہ کو اپنے صالح بندوں کی نقالی بھی پسند ہے، جس پر وہ ہدایت کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جو فرعونی جادوگر آئے تھے، انہوں نے بھی آپؑ جیسا حلیہ اپنایا تھا۔ یہ نقل اور اپنے نبی کی صورت اپنانا حق تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آنا فاناً ان کے دل کی کایا پلٹ گئی۔ ان جادوگروں نے نہ صرف سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا، بلکہ فرعون کی دھمکی کے سامنے بھی ڈٹ گئے۔ فرعون نے انہیں قتل کی دھمکی دی۔ مگر پھر بھی وہ ایمان سے نہیں پھرے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایک برطانوی خاتون کے ساتھ بھی پیش آیا۔ وہ سیر وتفریح کیلئے ترکی آئی تھی۔ مگر استنبول کی مشہور نیلی مسجد کی سیر کرتے ہوئے اس نے نیک مسلم خواتین کی نقالی کرتے ہوئے حجاب کا اہتمام کیا اور مسجد کے ادب کی رعایت رکھتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ بس یہ ادا ربّ تعالیٰ کو پسند آئی اور اس نے خاتون کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دیا۔
ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی دوشیزہ نے ترکی کی سلطان محمد مسجد (نیلی مسجد) کے مسحور کن ماحول سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا ہے۔
استنبول کی سلطان محمد مسجد ’’نیلی مسجد‘‘ (Blue Mosque) کے نام سے مشہور ہے۔ دو سال پہلے یہاں برطانیہ کی 24 سالہ دوشیزہ سیر کرنے آئی تھی، لیکن اس دورے نے اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد برطانوی دوشیزہ نے اپنا نام ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے اسم مبارک پر عائشہ روزیلی (Aisha Rosalie) رکھ لیا۔
رپورٹ کے مطابق استنبول کی سلطان محمد مسجد کے دورے کے دوران عائشہ اس مسجد کے حسن، دلکشی اور اس کے روحانی اور مسحور کن ماحول سے اس قدر متاثر ہوئی کہ واپسی پر اس نے اسلام کے متعلق ریسرچ شروع کی اور بالآخر اس کا دل اسلام کی طرف ایسا مائل ہوا کہ اس نے ترکی میں اسلام قبول کر لیا۔
عائشہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کے دورے کے دوران وہ اپنی آنکھوں میں ایک اداکارہ بننے کا خواب سجائے بیٹھی تھی، لیکن استنبول کی سلطان محمد مسجد کے حسن نے اسے ایسا متاثر کیا کہ وہ اسلام میں دلچسپی لینے لگی۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ہونے سے پہلے وہ کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتی تھیں اور نہ ان کے والدین کسی خاص مذہب کے پیروکار تھے۔ جبکہ عائشہ کا کہنا تھا کہ ان کا اس سے قبل کسی مذہبی شخصیت سے تعلق بھی نہیںتھا۔ بچپن میں وہ خدا کو مانتی تھیں اور اکثر خدا سے باتیں بھی کرتی تھی۔ ترکی کے دورے میں ان کا کسی مذہب یا اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ استنبول آنے سے پہلے گوگل پر میں نے نیلی مسجد دیکھی اور پھر ترکی میں اس مسجد کی سیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی آنے سے پہلے وہ بہت خوفزدہ تھیں، کیونکہ مغربی میڈیا میں انہیں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق عجیب و غریب کہانیاں سننے کو ملتی تھیں۔ عائشہ نے بتایا کہ نیلی مسجد کی سیر سے پہلے وہ ایک قریبی دکان میں گئیں اور وہاں سے حجاب خریدا تاکہ وہ مسجد میں باعزت طریقے سے داخل ہوں۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ میرے بالوں کے ویسٹرن اسٹائل سے ناراض ہو کر مجھے مسجد میں داخل ہونے سے منع کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ایک تسبیح بھی خریدی اور مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر تسبیح پڑھتی رہی۔ ایک گھنٹے بعد جب میں نے مسجد کو غور سے دیکھا تو میں اس کی خوبصورتی اور اس کے پرسکون ماحول سے متاثر ہوئی۔ میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا جو انتہائی پرسکون طریقے سے نماز ادا کر رہے تھے۔ مسجد سے نکلتے ہوئے راستے میں، میں نے قرآن کریم کا ایک نسخہ خریدا اور ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر اس کا مطالعہ شروع کردیا۔ واپس برطانیہ پہنچنے تک میں نے پوراقرآن کریم ختم کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ استنبول کی نیلی مسجد نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا اور پھر آہستہ آہستہ میں اسلام کی طرف مائل ہوئی اور اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ چند ماہ کے دوران میں نے اسلام پر بہت سارا لٹریچر پڑھ ڈالا اور کئی لیکچرز بھی سن لئے۔ جب میرا دل مکمل طور پر مطمئن ہوگیا تو میں نے جاکر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور باقاعدہ سند بھی حاصل کی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے گھر والوں کے لئے میرا یہ فیصلہ بہت زیادہ غیر یقینی تھا۔ تاہم انہوں نے مجھ پر کوئی زبردستی نہیں کی۔ میری والدہ اب خود اسلام اور مسلمانوں سے متعلق انٹرنیٹ پر سرچنگ کر رہی ہیں۔ امید ہے وہ بھی جلد اسلام قبول کرلیں۔ قبول اسلام کے بعد میں ماں کی بہت زیادہ خدمت کرنے لگی ہوں۔ کیونکہ یہی میرے دین کی تعلیم ہے۔ اس سے بھی ماں کافی متاثر ہوئی ہیں۔
عائشہ کا کہنا تھا کہ اصل چیز یہ ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں۔ میں اسلام کے متعلق جتنا مطالعہ کرتی جا رہی ہوں، اس کا حسن مزید نکھر کر میرے سامنے واضح ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کی دولت ملنے پر مجھے ایسی خوشی ملی ہے، گویا کہ مجھے نئی زندگی ملی ہو۔ ترکی کے سفر کو میں کبھی بھلا سکتی، جو میرے قبول اسلام کا ذریعہ بنا۔

میں نے 14 سال کی عمر سے ایکٹنگ شروع کی تھی۔ اس وقت میں امریکا میں رہتی تھی۔ اداکاری میرا خواب تو نہ تھا، لیکن اپنے لئے اسی کو میں نے پسند کیا تھا۔ اداکاری کے ساتھ کئی اسکرپٹ بھی میں نے لکھے تھے۔ تاہم اسلام کی دولت ملنے کے بعد یہ کچھ چھوڑ دیا۔ اب میں اپنے یوٹیوب چینل پر بھی اسلامک مواد ہی شیئر کیا کروں گی۔ اب میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مذہب سے متعارف کرانا چاہتی ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ اسلام قبول کرنے والوں کی اسٹوریاں بھی نشر کروں گی۔ بس اب یہی میرا مقصد حیات ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.