جب ٹینکرز کے ذریعے پانی دے سکتے ہیں تو لائنوں میں کیوں نہیں ؟

سندھ ہائی کورٹ نےکراچی میں پانی کی قلت سے متعلق درخواست پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔
دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے شہر میں صاف پانی فراہم نہیں کیا جارہا، جب ٹینکرز کے ذریعے پانی دے سکتے ہیں تو لائنوں میں کیوں نہیں دے سکتے؟
عدالت نے مزید کہا کہ شہریوں سے پانی کے بل تو وصول کرلیتے ہیں مگر پانی نہیں دیتے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اکتوبر 2019 کو عدالت نے روفی سویٹ ہوم اسکیم 33 میں پانی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا دو سال گزر جانے کے باوجود علاقہ مکین پانی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ پانی کا مسئلہ پورے شہر کا ہے۔
عدالت نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوہفتوں میں عدالتی حکم پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر ایگزیکٹو انجینئر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو بھی طلب کرلیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.