فائل فوٹو
فائل فوٹو

پیراگوئے کی اکلوتی مسلمان لڑکی

پیراگوئے جنوبی امریکا کا ایک ملک ہے، وہاں ایک سال کی جماعت کی پیدل تشکیل ہوئی، جو سال کیلیے جاتے ہیں، ان کے گھر میں مشقت آتی ہے اور یقیناً تقاضے ٹوٹتے ہیں، کوئی مرتا ہے، کوئی بیمار ہوتا ہے، لیکن اس قربانی پر رب تعالیٰ ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

پیراگوئے میں200 گھرانے مسلمان تھے۔ دعوت و تبلیغ کی محنت نہ ہونے کی وجہ سے سب کے سب عیسائی ہوگئے تھے۔ وہاں صرف ایک مسلمان لڑکی تھی، اس کا نام لیلیٰ تھا، اس سے فون پر بات ہوئی کہ اپنے خاوند کے ساتھ ہمارے پاس آؤ، چنانچہ اس سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ یہاں مسلمان گھرانے عیسائی ہو چکے ہیں۔ لیلیٰ سے کہا کہ ان سے ہماری ملاقات کراؤ۔ اس لڑکی نے ان مسلمانوں کو جمع کیا تو 20 یا 25 افراد جمع ہو گئے۔

ڈاکٹر امجد بھی اسی جماعت میں تھے اورڈاکٹر صاحب کا شمارکراچی کے بڑے سرجنوں میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب چار مہینے ہر سال تبلیغ میں لگاتے ہیں اور ہر دو سال کے بعد ایک سال بیرون ملک تبلیغی سفر میں جاتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد صاحب نے ان سے اسپینش زبان میں 20 منٹ تک بات کی تو وہ لوگ کہنے لگے کہ اسلام ایسا مذہب ہے، اس میں یہ یہ خامی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کی شکایات کو دور کیا، اس کے بعد پھر دوبارہ بات کی اور اسلام کی حقانیت کو ان کے دل میں بٹھایا، پھر بھی نہ مانے، پھر دوبارہ بات شروع کی، حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے تین دن کیلیے جماعت میں اپنا نام لکھوایا۔ جب یہ لوگ تین دن لگا کر آئے تو ان کے دل میں امت کا درد و غم پیدا ہو چکا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے محلے میں مزید محنت کی، یہاں تک کہ ایک سال کی نقل و حرکت کے بعد وہاں مسجد قائم ہوگئی اور200 گھرانے بھی دوبارہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ ایک سال کی نقل و حرکت کی برکت سے 200 گھرانے اگر مسلمان ہو جائیں تو اس پر 50 سال لگانا بھی سستا سودا ہے۔(تبلیغ جماعت کی کارگرازی، از مولانا طارق جمیل صاحب)

یہ بھی دیکھیں

کوئینی کے آنسو!۔

میری اک اک ادا کو اہمیت دی جاتی تھی۔ کلبوں کی میں زینت ہوا کرتی تھی، پیسے کی ریل پیل تھی