غزہ پر زمینی حملے سے اسرائیل خوف زدہ

علی مسعود اعظمی:
اسرائیل غزہ پر زمینی حملے سے ہچکچانے لگا۔ حماس کے ذرائع کے مطابق فلسطینی حریت پسندوں کو کورین ساختہ ٹینک شکن میزائل ’’کورنیٹ‘‘ مل چکے ہیں۔ گائیڈڈ سسٹم کی مدد سے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فوجی وہیکلز کے پرخچے اڑا دینے والے ان میزائلوں سے اسرائیلی فورسز غزہ کے اندر داخل ہونے سے خائف ہیں۔ اسرائیلی نیوز چینل 13 کے دفاعی ایکسپرٹس اور ہیلر نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج کی غزہ میں ’’گرائونڈ آپریشن‘‘ کی ہمت نہیں۔

اسرائیلی کمانڈ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ حماس کے ساتھ شہری علاقوں میں جنگ کی جائے۔ اس میں اسرائیلیوں کا بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ برطانوی جریدے ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق حماس عساکر کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ ہم غزہ پر حملہ آور اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں بچھانے اور ان کی زندہ گرفتار کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے خبر دار کیا ہے کہ حماس کے اسلحہ خانہ میں شارٹ، میڈیم اور لانگ رینج کے میزائلوں اور راکٹوں کے ساتھ ساتھ اب اینٹی ٹینک کورین میزائل اور ایرانی ساختہ بارودی ڈرونز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ جس سے اسرائیلی انفینٹری اور آرٹلری کو براہ راست خطرات ہیں اور وہ غزہ میں داخلے کے بجائے اپنی سرحدوں پر موجود رہ کر ٹینکوں اور توپوں کی مدد سے غزہ پر گولہ باری پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی جریدے ’’وائی نیٹ‘‘ نے لکھا ہے کہ حماس کے جنگجوئوں نے پہلی مرتبہ تین روز قبل اینٹی ٹینک ’’کورنیٹ‘‘ گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو تباہ کیا گیا ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی ہلاک اور چار شدید زخمی ہوئے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے مزید لکھا ہے کہ کم از کم تین مقامات پر حماس نے بارودی ڈرونز کو بھیجا تھا جس میں دو نے اہداف کو نشانہ بنایا اور ایک بارودی ڈرون کو اسرائیلی ایئر ڈیفنس نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حماس کے عز الدین القاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر ’’العیاش‘‘ میزائلوں سے رامون ایئر پورٹ پر زبردست حملہ کیا ہے۔ اس حملے کو اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم بھی روکنے میں ناکام رہا۔ اسرائیلی افواج نے حماس کے ڈرونز کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے اور اس کو ایرانی شہاب ڈرونز کا نام دیا ہے، جس کو پانچ کلو گرام بارودی مواد کے ساتھ دشمن کی جانب بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ اس کو لانچ کرنے میں صرف تین منٹ لگتے ہیں۔

ادھر ایسوسی ایٹیڈ پریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ پر کوئی زمینی حملہ نہیں کیا تھا۔ اسرائیلی عسکری تجزیہ نگار جوزف تریوتھک نے لکھا ہے کہ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ’’کورنیٹ‘‘ لیبیا اور سینائی صحرا کی سرنگوں سے غزہ پہنچائے گئے ہیں۔ ان کی تعداد 1500بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق یہ میزائل95 فیصد ایکوریسی کے ساتھ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو دو کلومیٹر دور سے تباہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب حماس ملٹری ونگ کی جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ شہاب بارودی ڈرونزلانچ کر رہے ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حماس اور اسلامک جہاد کے ہتھیاروں کی بڑی تعداد غزہ کی پٹی کے اندر واقع ہتھیار ساز فیکٹریوں سے آتی ہیں۔ حماس اور اسلامک جہاد نے گزشتہ پانچ دنوں میں اسرائیل پر بالترتیب 2,000 اور 1,500 میزائل اور راکٹس داغے ہیں جن کو روکنے کیلئے اسرائیلیوں نے بھی 2,000 سے زیادہ آئرن ڈوم اینٹی میزائل شیلڈ کے راکٹس کو فائر کیا۔ اسرائیلیوں کے مطابق کامیابی کا تناسب 70 تھا۔

اسرائیلی جریدے ’’ماریوو‘‘ کے مطابق اسرائیل کو اس پانچ روزہ جنگ میں صرف آئرن ڈوم شیلڈ پر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کا خرچہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ کیوںکہ آئرن ڈوم کا ایک راکٹ 80 ہزار ڈالر مالیت کا ہے۔ حماس کے پاس چھوٹی رینج کے کئی میزائل ہیں جیسے کہ القسام (6 سے 10 کلومیٹر ) القدس 101 (16 کلومیٹر ) گراڈ میزائل سسٹم (55 کلومیٹر) اور سیجل 55 (55 کلومیٹر ) بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے کم رینج اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے مارٹر گولوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

’’مڈل ایسٹ ڈیفنس نیوز‘‘ کے مطابق حماس کے پاس طویل رینج والے میزائل سسٹمز بھی ہیں جیسے کہ ایم-75 (75 کلومیٹر)، الفجر (100 کلومیٹر) آر-160 (120 کلومیٹر) اور ایم-302 ایس جو 200 کلومیٹر رینج کے حامل ہیں۔ اس سے یہ بڑی حد تک واضح ہے کہ حماس کے ہتھیار اسرائیلی دار الحکومت تیل ابیب یا یروشلم کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی بمباری کے باوجود حماس اور اسلامک جہاد کے میزائل اور راکٹس کا اسرائیل پر برسنا بند نہیں ہوا ہے۔ تل ابیب، اشکیلیون، اشدود، حیفا اور لد سمیت کئی مقامات پر فلسطینی مجاہدین کے راکٹس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

مڈل ایسٹ میڈیا نے بتایا ہے کہ حماس نے صہیونی ریاست پر العیاش میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ یہ میزائل اسرائیل کے اندر ڈھائی سو کلومیٹر دور مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ القاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے بتایا کہ ملٹی بیرل سسٹم سے جنوبی فلسطین میں اسرائیل کے رامون ہوائی اڈے پر العیاش میزائل داغے گئے۔ اسرائیلی میڈیا نے رامون ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل نے بن گوریان ہوائی اڈے سے پروازیں معطل کردی ہیں۔

اسرائیلی سرکاری اور نجی میڈیا نے غزہ کی پٹی میں جاری لڑائی کے بارے میں کہا ہے کہ حماس نے اسرائیل کو غزہ کے محاذ پر اسٹریٹیجک شکست سے دوچار کیا ہے۔ اسرائیلی جریدے ہارٹز کے عسکری تجزیہ نگار عاموس ارئیل نے لکھا ہے کہ اسرائیل نمائشی فتح کی تلاش میں ہے۔ جبکہ محاذ پر حماس کو اسرائیل پر واضح برتری حاصل ہے۔ کیوں کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کو کمزور کرنے اورغزہ پر قبضہ کرنے کیلیے جو اہداف مقرر کیے تھے، وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

تبصرے بند ہیں.