ملالہ کو نکاح کے خلاف بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

نکاح کے حوالے سے برطانوی میگزین دی ووگ کو دیا گیا ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو آج کل زیر بحث ہے، گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بھی یہ انٹرویو ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔
انٹرویو کے دوران ملالہ کے اس بیان نے کہ زندگی گزارنے کے لیے آخر نکاح یا شادی ہی کی ضرورت کیوں ہے یہ زندگی پارٹنرشپ کے ذریعے بھی تو گزاری جاسکتی ہے نے تہلکہ مچا دیا تھا، صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ روشن خیال لوگوں نے بھی ملالہ پر شدید تنقید کی، یہی نہیں بلکہ خود شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی ملالہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
بلاشبہ ہم پاکستانی مغربی کلچر سے بہت متاثر ہیں، خواہ نظام تعلیم ہو یا طرز زندگی، یہاں تک کہ گفتار میں بھی ہم مغرب ہی تلقید کو فخر سمجھتے ہیں۔
یہ بات بھی اگرچہ درست ہے کہ برصغیر میں طویل عرصے تک برطانوی تسلط کے بعد سے برطانوی کلچر کے جرثومے یہاں موجود ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک طویل داستان ہے جس کے نتیجے میں ہم اس نہج تک پہنچے ہیں۔
آزادی کے بعد انگریز کے برصغیر سے چلے جانے کے بعد اس رجحان میں کمی آنی چاہیے تھی لیکن یہ مغربی طرز زندگی یا اس کی خواہش اور بھی پروان چڑھتی چلی گئی۔ یقینا انگریز ایسے بیج یہاں بوگیا تھا جنہیں پھلنا پھولنا تھا اور یہی ہوا یہ بیج نہ صرف تناور درخت بنے بلکہ پھل بھی دینے لگے اور ساری قوم کو غلامی کے ایسے مزے لگادیے کہ اس سے نکلنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔
اب آتے ہیں ملالہ کی طرف کہ ملالہ کو ’’قدرت‘‘ نے کیسے ہیرو بنادیا، کیسے دہشتگردوں نے گاڑی روک کر نام پوچھا اور فائرنگ کردی، اس واقعہ میں دیگر بچیاں محفوظ رہیں، حیرت تو اس بات پر ہے کہ صرف اسی ایک واقعے میں ایسا ہوا کہ دہشتگردوں نے نام پوچھ کر کسی کو نشانہ بنایا ہو ورنہ اس واقعے سے قبل اور بعد میں اسکول کے بچوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تو کسی نے کچھ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
خیر یہ باتیں بھی موضوع سے ہٹ کر ہیں، ہم بات کرنا چاہ تھے کہ ملالہ کو ایسی بات کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ حالانکہ خود عیسائی اور یہودیوں کی بڑی تعداد بھی خواہ کتنی بھی بدکار ہو ایسی باتیں کھلے عام کرنے سے گریز کرتی ہے خاص طور پر شہرت یافتہ طبقہ دوسرے طبقات میں اپنی مقبولیت کم ہوجانے کے خوف سے بھی ایسے بیانات سے اجتناب برتتا ہے۔
مسلمانوں میں یہ معاملہ بہت حد تک بڑھ کر ہے اور ملالہ جو بظاہر مسلمان ہے اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کرچکی ہے جانتی ہوگی کہ ایسا بیان اس کی مقبولیت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے تو پھر اس نے ایسا کیوں کیا؟
جی بالکل ملالہ کو جس طرح شہرت ملی وہ سب نے دیکھا، یہاں تک کہ اسے نوبل انعام کا بھی حقدار قرار دیا گیا لیکن وہ اپنی اس شہرت اور مقبولیت کو زیادہ دیر قائم نہ رکھ سکی اور پاکستان میں لوگ اسے بھول چکے تھے، ملالہ کو ضرورت تھی کہ وہ کوئی ایسا کام کرے کہ پاکستان میں پھر سے موضوع بحث بن جائے۔
یقینا ایسا ہی ہوا، ملالہ یا اس کے مشیروں نے جو پلاننگ کی تھی وہ کامیاب ہوگئی اور ملک بھر میں ملالہ کی نکاح والی بات موضوع بحث بن گئی وہ ملالہ جسے بھلائے ہوئے زمانے گزر چکے تھے ایک بار پھر لوگوں کے ذہن میں تازہ ہوگئی بلکہ وہ بچے جو اس وقت ملالہ کے بارے میں نہیں جانتے تھے اب انہیں بھی معلوم ہونے لگا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کون تھی؟۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.