ایف بی آرآئندہ کسی کو نوٹس جاری نہیں کرے گا۔وزیر خزانہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کاروباری برادری کیلیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال سے ایف بی آر کسی کو ہراساں نہیں کرے گا، ایف بی آرکسی کو نوٹس جاری نہیں کرے گی ۔

اسلام آباد میں اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال سے بڑی تبدیلیاں ہوں گی ۔سیلف اسسمنٹ ہوگی اور تھرڈ پارٹی آرڈر ہو گا۔ میں ایک بینکر ہوں اور بینکنگ سیکٹرکو بہتر طریقے سے چلانا جانتا ہوں ۔ آئی ایم ایف سے کہہ دیا ہے کہ ہم غریب آدمی اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے ، ہم اور ذرائع سے ریونیو بڑھائیں گے ، ہمارے بینک پرائیویٹائز ہو چکے ہیں جو کہ اچھی بات ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ریلوے اور پی آئی اے بہت زیادہ نقصان کر رہے ہیں ، ماضی میں ن لیگ کی حکومت بھی اداروں کو پرئیویٹائز کرنے کی بات کر چکی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اجناس کی قیمتیں کم کرنے کیلیے زرعی پیداوار کو بڑھانا ہوگا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے دور اندیش فیصلے کئے ، وزیر اعظم کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ انتہائی اہم تھا ۔ کورونا کے دوران دنیا بھر کی معیشتیں بری طرح ڈگمگائیں ، کورونا کے دوران مشکلات آئیں ، لاک ڈاؤن رہا، دو کروڑ افراد بیروزگار ہوئے ، حکومت پاکستان نے اسی دوران تعمیراتی شعبے کو مراعات دیں ، وزیر اعظم  نے  کنسٹرکشن کے معاملات پر آئی ایم ایف سے ریلیف لیا،  اس سال فروری میں کورونا نے پھر سر اٹھایا ، اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کنٹرول میں آگیا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومتی اقدامات سے زراعت کی 2.77 فیصد گروتھ ہوئی ، ترسیلات زر 26 بلین ڈالرز سے تجاوز کرگئیں ، بیرون ملک سے پاکستانیوں کا پیسہ بھیجنا وزیر اعظم پر اعتماد کا مظہر ہے ، امید ہے ترسیلات زر29 بیلن ڈالرز تک جائیں گے، صنعتی گروتھ بڑھنے سےامپورٹ میں اضافہ ہوا، معیشت نے ریکوری کرنا شروع کر دی ہے ، پچھلے سال حکومت نے کہا کہ گروتھ 2.1 فیصد ہے ، اس سال گروتھ ریٹ 4 فیصد سے زائد رہا۔

مہنگائی پر بات کرتے ہوئے وزیر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم گندم ، چینی ، گھی دالیں درآمد کر رہے ہیں ، عالمی مارکیٹ میں  چینی کی قیمتیں58 فیصد بڑھیں، ہم نے 20 فیصد بڑھائیں، پام آئل 102 فیصد بڑھا ، ہم نے 20 فیصد بڑھایا ، سویا بین کی قیمتیں 119 فیصد تک بڑھیں ہم نے صرف 22 فیصد تک مہنگا کیا ۔فوڈ آئل 119 فیصد بڑھا ہم نے 32 فیصد تک بڑھایا ، چائے کی قیمت میں ساڑھے آٹھ فیصد اضافہ ہوا ، ہم نے ایک روپیہ نہیں بڑھایا اور سارا بوجھ خود برداشت کیا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمیں  زراعت پر زور دینا ہوگا، کوشش کریں گے کہ برآمدات بڑھائیں ، زرعی شعبے میں کموڈٹی اسٹوریج لا رہے ہیں ، ہم مہنگائی روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ہمارے دور میں 1.7 بلین کا قرض بڑھا ،  اب ہمیں اپنے انفراسٹرکچرکو ٹھیک کرنا ہوگا، ہماری اسٹاک ایکسچینج ایشیا کی بہترین اسٹاک ایکسچینج ہے

انہوں نے کہا کہ احساس پرگرام دنیا کاسب سے بڑا اور اہم پروگرام تسلیم کیا گیا ہے ،احساس کے ذریعے 15 ملین خاندانوں تک کیش پیسے پہنچائے گئے، کامیاب جوان پروگرام سے بھی تقریباً ساڑھے 8 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں ، بلین ٹری سونامی میں ایک ارب سے زائد درخت لگ چکے ہیں ۔ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ ہم نے غریب آدمی کیلیے بجٹ میں توجہ دی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.