’’پر اسرار بیماری سے امریکی سفارتکاروں کو پاگل کے دورے پڑنے لگے‘‘

احمد نجیب زادے:
امریکی سفارت کاروں کو جسمانی و نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے والی وبا ’’ہوانا سینڈروم‘‘ کیوبا کے بعد چین اور روس سے ہوتی ہوئی، اب آسٹریا، ویانا پہنچ گئی ہے۔ امریکی جریدے ’’نیو یارکر‘‘ کے مطابق پراسرار عارضے نے امریکی سفارت کاروں کو پاگل اورامریکا کو عاجزکر دیا ہے۔ لیکن اب تک درجنوں طبی محققین کی کاوشیں ناکامی کا شکار ہیں۔

تین ممالک میں انگنت امریکی سفارت کار پاگل پن کی حد تک پہنچ کر بالآخر سفارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور کیوبا سمیت چین میں سی آئی اے نے اپنے اسٹیشنز پر کام بند کر دیا ہے۔ جس سے امریکی سفارتی کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اب آسٹریا میں کئی امریکی سفارت کاروں اور سیکرٹ ایجنٹس نے دماغی عوارض کی وجہ سے خدمات انجام دینے سے معذرت کرلی ہے۔ ’’سی این بی سی‘‘ کے مطابق ہوانا سینڈروم سے متاثرہ درجنوں امریکی سفارت کاروں اور سیکرٹ ایجنٹس نے خط لکھ کر جو بایڈن سے مدد طلب کی ہے۔

سوشل میڈیا پر عالمی تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جس طرح حال ہی میں امریکی کمپنیوں سے کروڑوں ڈالر تاوان وصول کرنے والے عالمی ہیکرز کی شناخت اور ان کی گرفتاری میں ایف بی آئی اور امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی مکمل ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور ہیکرز کی گرفتاری و شناخت کیلیے انعام کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح اُمید کی جارہی ہے کہ کیواب چین، روس اور اب ویانا میں پر اسرار بیماری کی شناخت اور اس کے ذمہ داروں کی کھوج کے لیے جو بائیڈن بھاری انعام کا اعلان کرسکتے ہیں۔

’’نیویارکر‘‘ نے لکھا ہے کہ آسٹریا کا دارالحکومت ویانا اب ہوانا سینڈروم کا نیا ہاٹ اسپاٹ ہے۔ یہاں حیران کن طور پر دو درجن سے زائد سفارت کاروں نے دماغی عارضہ کی شکایات درج کروائی ہیں اور اپنی پروفیشنل ذمہ داریو ں کی انجام دہی میں سنگین مسائل کا اعتراف کیا ہے۔ سنگین بیماری سے امریکی انٹیلی جنس، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں اور سفارت کاروں کے متاثر ہونے پر سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے اس کیس میں ذاتی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صدر جوبائیڈن بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ تین صدور کے ادوار میں پھیلنے والا یہ مرض یا ریڈیائی حملہ روکنا تو کجا، اب تک شناخت بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔

کئی امریکی میڈیا آئوٹ لٹس نے انکشاف کیا ہے کہ پر اسرار بیماری یا ریڈیائی حملوں نے امریکا کیلئے عالمی سفارتی بحران پیدا کردیا ہے۔ امریکی ایکسپرٹس کو خدشہ ہے کہ یہ حملہ اب کسی اور ملک میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ اس وقت ویانا میں امریکی سفارت خانے میں کام عملی طور پر بند پڑا ہے۔ اگر مستقبل میں ہوانا سینڈروم کو کنٹرول نہ کیا گیا تو کئی مزید ممالک میں امریکی سفارت خانے تالا بندی کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور سے شروع ہوئی اس کہانی کا آغاز کیوبا کے دار الحکومت ہوانا سے ہوا تھا، جہاں امریکی سفارت خانہ کے مکینوں نے شدید سر درد، گھبراہٹ، متلی، یاد داشت کھو بیٹھنے اورکانوں میں مسلسل سیٹیاں بجنے کی شکایات کی تھیں۔ اس عجیب و غریب مرض سے متاثر امریکی سفارت کاروں کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کرکے امریکا بلوالیا گیا تھا، جہاں ان کا طبی و نفسیاتی معائنہ کیا گیا۔ لیکن اس پر اسرار مرض یا ریڈیائی حملے کا کوئی اتا پتا نہ چل سکا۔

سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اس مرض کی کھوج کیلئے کئی کوششیں، لیکن وجوہات کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ٹرمپ ہی کے دور میں یہ عجیب و غریب مرض چین جا پہنچا، جہاں درجن بھر امریکی سفارت کاروں نے شدید سر درد، متلی، گھبراہٹ اور کانوں میں سیٹیاں بجنے کا بیان ریکارڈ کروایا۔ اس مرض کی ٹرمپ دور میں ہر سطح پر تحقیقات کروالی گئیں، لیکن نتیجہ صفر رہا۔ اگرچہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سیٹلائٹ سسٹم کی مدد سے بھی امریکی سفارت خانوں کی جیو فینسنگ کروائی کہ ایسی پر اِسرار شعائیں صرف امریکی سفارت خانوں کو ہی کیوں نشانہ بناتی ہیں۔ لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق ویانا حکومت نے کہا ہے کہ امریکی سفیروں کی شکایات کے بعد دونوں ممالک کی انٹیلی جنس اس معاملہ کی تحقیق کررہی ہیں۔ جبکہ ایکسپرٹ طبی مشیروں کا ایک پینل بھی یہ تحقیقات کر رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے قومی سلامتی کے مشیروں اور یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو حکم دیا ہے کہ آسٹریا میں امریکی سفارت کاروں کو لاحق ہوانا سینڈروم کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ اس ممکنہ ریڈیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، تاکہ امریکی سفارت کاروں اور سیکرٹ ایجنٹس کی مکمل حفاظت کی جاسکے۔ امریکی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ یہ بیماری، ریڈیائی ہتھیاروں سے حملوں کا نتیجہ ہیں۔ آسٹریا اور امریکا نے کہا ہے کہ وہ ہوانا سنڈروم پر تحقیقات کررہے ہیں۔ اگرچہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ اس مرض کے پیچھے ماسکو کا ہاتھ ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ حملے پلس مائیکرو ویو سے اٹھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.