قربانی کے احکام و مسائل۔شرکت کا افضل طریقہ

بڑے جانور میں شریک ہونے والے، جانور خریدنے سے پہلے شریک ہو جائیں اور پھر جانور خریدیں، یہ سب سے زیادہ افضل طریقہ ہے۔ جانور خریدنے والا اس نیت سے جانور خریدے کہ ایک حصہ یا دو حصے میں اپنی قربانی کیلئے رکھوں گا اور باقی حصوں میں دوسروں کو شریک کرلوں گا، یہ بھی جائز ہے، لیکن اگر اس نے جانور کو خریدتے وقت دوسرے لوگوں کو شریک کرنے کی نیت نہیں کی تھی اور بعد میں دوسروں کو شریک کرلیا تو اس کے جواز میں اختلاف ہے، لیکن راجح جواز ہے۔
شرکت کا جانور

۔شرکت میں دیے ہوئے جانور سے قربانی کرنا درست نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے کی ملکیت بھی ہے۔
شرکت کی اجازت دیکر پھر انکار کرنا
کسی شخص نے کہا کہ میرا قربانی کے جانور میں حصہ شامل کرلینا اور پیسہ نہیں دیا اور اس نے حصہ شامل کرلیا، جب قربانی ہو چکی تو اس لینے والے نے انکار کردیا کہ میں حصہ نہیں لیتا تو اس انکار کا اعتبار نہیں ہے اور اس پر ضروری ہوگا کہ اس حصے کی قیمت ادا کرے۔
شرکت کے پیسوں کی تقسیم
اگر بڑے جانور میں متعدد افراد شامل ہیں تو ہر فرد کو اپنے حصے کے مطابق پیسہ دیدینا چاہئے تاہم اگر کوئی شریک خوشی سے دوسرے کی طرف سے کوئی پیسہ زیادہ دیدے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔
شریک کرنا
کسی جانور کی خریداری کے وقت کسی کو شریک کرنے کی نیت کی ہے یا نہیں کی، دونوں صورتوں میں اگر خریدار مالدار ہے تو دوسرے لوگوں کو شریک کر سکتا ہے اور اگر خریدار مالدار نہیں بلکہ فقیر ہے تو اس صورت میں اگر جانور خریدتے وقت کسی اور آدمی کو شریک کرنے کی نیت تھی تو دوسرے آدمی کو شریک کرسکتا ہے اور اگر جانور خریدتے وقت کسی اور آدمی کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی تو خرید نے کے بعد کسی اور آدمی کو شریک نہیں کرسکتا۔
صاحب نصاب آدمی قربانی کے ایام میں مر گیا
کسی پر قربانی واجب تھی، مگراس نے ابھی قربانی نہیں کی تھی کہ قربانی کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی وہ مر گیا تو اس سے قربانی ساقط ہوگئی، قربانی کے لئے وصیت کرنا اور وارثوں کے لئے اس کی طرف سے قربانی کرنا لازم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی صاحب نصاب قربانی کے ایام میں انتقال کر گیا اور اس نے اس سال کی قربانی نہیں کی، تو اس سے قربانی کا وجوب ساقط ہو جائے گا۔
صاحب نصاب نے قربانی کی نذر مانی
اگر کسی صاحب نے نصاب آدمی نے قربانی کی نذر مانی تو اس کو قربانی کے ایام میں دو قربانیاں کرنی ہوں گی۔ ایک قربانی تو منت کی وجہ سے لازم ہوگی، اور دوسری قربانی صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے لازم ہوگی۔
صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے
صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے، اور قربانی واجب ہونے کی دلیل سنن ابن ماجہ میں مروی ہے: ’’ عن ابی ہریرۃؓ ان رسول اللہ ﷺ قال: من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقر بن مصلانا، ابن ماجۃ، ابو اب الاضاحی ج: 1ص:226 قدیمی کتب خانہ۔
یعنی جس کو وسعت ہے اور وہ قربانی نہ کرے تو ہمارے مصلی (عیدگاہ) کے قریب نہ آئے۔
ظاہر ہے کہ صاحب نصاب وسعت والا ہے، پس اگر ایک گھر میں دو افراد صاحب نصاب ہیں تو دونوں پر قربانی واجب ہوگی۔ اور چار ہوں تو چاروںپر اور ایک ہو تو ایک پر۔
صاحب نصاب غریب ہوگیا
کسی پر قربانی واجب تھی، مگر اس نے ابھی قربانی نہیں کی تھی کہ قربانی کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی وہ غریب ہوگیا، تو اس سے قربانی ساقط ہو جائے گی۔
صحت یابی کے لئے قربانی کرنا
مریض کی صحت کی نیت سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کیلئے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے البتہ زندہ جانور کا صدقہ کر دینا زیادہ بہتر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.