مریم نواز نے افغان سفیرکی بیٹی کے اغوا پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغواپر مطالبہ کیا کہ ”وزیر اعظم افغانستان سے معافی مانگیں کیوں کہ افغان سفیرکی بیٹی کی حفاظت کی ذمے داری ہماری تھی ،وزارت داخلہ کہتی ہے کہ وہ اس لیے اغواہوئی کیوں کہ اکیلی باہرنکلی تھی ۔

مریم نواز نے حویلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی خارجہ پالیسی یہ ہے کہ سی پیک پر چین نے کام بند کر دیا ہے ، داسو ڈیم پر دس چینی افراد حملے میں مارے جاتے ہیں ، چین جو منصوبے لا رہا تھا وہ اب ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہا ہے ،ان کی کامیاب خارجہ پالیسی یہ ہے کہ افغان سفارتکار کی بیٹی اغواہو جاتی ہے اور یہ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ،کشمیر کا مقدمہ کمزور نہیں ، صرف اس وقت کشمیر کا جعلی وکیل بننے کا دعویدار عمران خان کمزور ہے ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے ایک لاکھ شہداءکے والدین کو سلام پیش کرتی ہوں ، ہم نے بھارت کے پانچ دھماکوں کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ ہم کیا کریں ، ہم نے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کئے ، ہمارے قائد نے برہان وانی کا مقدمہ عالمی فورم پر لڑا ، کشمیر کا مقدمہ نواز شریف اور کشمیر کے بھائی لڑیں گے ۔

مریم نوازنے کہا کہ کل میرے باغ جلسے سے ایک روز عمران خان نے سرکاری وسائل سے جلسہ کیا تھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ، باغ والوں نے انہیں باہرکردیا ہے ، میں جب وہاں گئی تو باغ والوں نے ایسا استقبال کیا کہ کبھی بھول نہیں سکتی ، پاکستان تحریک انصاف کے اسمگل شدہ امیدوار پرایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے ، نواز شریف کے دور میں انہوں نے سینیٹ کیلیے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مانگا ، انہوں نے پچاس کروڑ روپے پارٹی فنڈز کیلیے دینے کی آفر کی تھی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.