’’ نور مقدم کا قاتل جرائم پیشہ ذہنیت کا حامل تھا‘‘

نجم الحسن عارف:
نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر جرائم پیشہ ذہنیت کا حامل نکلا۔ مادر پدر آزاد معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے والا ظاہر جعفر یورپ اور امریکہ میں بھی مختلف جرائم میں ملوث رہ چکا ہے۔ جس کا کرمنل ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے ملزم ظاہر ذاکر جعفر کی گرفتاری اور کئی تفتیشی مراحل طے کرنے کے بعد اس کے والدین کو گرفتارکرکے ان سے بھی باضابطہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ کیونکہ یہ اپنے ’’لاڈلے‘‘ کو بچانے کیلیے ہمیشہ سرگرم رہے۔ مستقل اور طویل عرصے سے گھریلو ملازم رہنے والے زیرحراست افراد سے بھی تفتیش کا عمل جاری ہے۔ جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر کے دو دوستوں کو شامل تفتیش کرلیا ہے۔ تاہم انہیں گرفتار کرنا ضروری نہیں سمجھا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم اور مقتولہ نور مقدم کے موبائل فون بھی دوران تفتیش برآمد کر لیے ہیں۔ ان دونوں فونز کے علاوہ مرکزی ملزم کے بالواسطہ شریک ملزمان، والدین اور ملازمین کے فونز کے ساتھ ساتھ ملزم کے بعض دوستوں کے موبائل فونز کا ڈیٹا بھی تفتیشی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہا ہے۔ اسی بنیاد پر پولیس نے مرکزی ملزم اور اس کے والدین کے نام بیرون ملک سفر کے حوالے سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔

ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران اہم ترین نکات یہ بھی رہے کہ آیا یہ قتل کی واردات منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔ اس واردات میں براہ راست یا بالواسطہ کتنے افراد ملوث رہے۔ واردات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ مگر اس سارے دورانیے میں مرکزی ملزم کے والدین اور گھریلو ملازمین پوری طرح آگاہ رہے اور آن لائن باہم رابطے میں رہنے کے باوجود پولیس کو اطلاع نہ کرنے پر باہم کیوں متفق رہے۔ کیا وجہ رہی کہ کراچی میں موجود والدین نے بھی اس واردات سے پولیس کے ساتھ ساتھ مقتولہ کے والدین کو بھی آگاہ کرنا ضروری نہ سمجھا۔ حتیٰ کہ مقتولہ جو دو دن سے ملزمان کے گھر میں موجود تھی۔ اس کی موجودگی سے ملزم ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے والد نے بھی انکار کیوں کیا اور کیا وجہ بنی کہ ایک روز قبل مقتولہ کے اہل خانہ کو ایف سیون میں موجود نہ ہونے کی اطلاع دی گئی؟
’’امت‘‘ کے ذریعے کے مطابق یہ بات اب تقریباً ثابت ہو چکی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ملزم اور یورپ و امریکہ میں لمبا عرصہ رہنے والا ظاہر ذاکر وہاں بھی جرائم میں ملوث رہ چکا ہے۔ گویا عملاً وہ پیشہ ور جرائم پیشہ ذہنیت رکھنے والا ہے۔ اس کے اس پس منظر سے اس کے والدین بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔ لیکن اپنے ’’لاڈلے‘‘ کو وہ ہمیشہ بچانے کے چکر میں رہے۔ ذرائع کے مطابق ملازمین کی اپنے مالکان کے ساتھ اس قدر وفاداری رہی کہ ملازمین میں سے کسی ایک نے بھی مقتولہ نور مقدم پر تشدد کے آغاز سے لے کر اور اسے گھر میں بند رکھنے سمیت آخری وقت تک پولیس یا مقتولہ کے والدین کو آگاہ نہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اس جرم میں ملازمین اور مرکزی ملزم کے والدین سبھی لوگ بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ اور یہ اعانت جرم کے مقدمے کے علاوہ جرم کو چھپانے کا عمل دونوں کی دفعات کے تحت مقدمات بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب مقتولہ نور مقدم کے والدین کے وکیل شاہ خالد نے ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارنسک شواہد کے لیبارٹری تجزیے لے لیے گئے ہیں۔ شواہد تو پولیس نے اسلام آباد سے لاہور بھجوا دیئے ہیں۔ فارنسک تجزیے میں بعض اوقات زیادہ دیر لگتی ہے۔ خصوصاً جب فارنسک شواہد کے ذریعے ڈی این اے کے معاملات بھی تلاش کرنے ہوں۔
ذرائع کے مطابق فارنسک شواہد سے یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ قتل کی اس واردات میں کتنے افراد ملوث رہے۔ جبکہ ملزمان کے گھر اور جائے وقوعہ سے متعلق فوٹیج بھی پولیس کے تفتیش کاروں کے لیے اہم ہیں۔ ان تمام کیمروں کی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ نیز بیرون ملک سے خصوصاً امریکہ و برطانیہ سے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر کا کریمنل ریکارڈ حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نور مقدم کے قتل کے واقعے کے حوالے سے ابھی تک چونکہ کوئی باضابطہ گواہ سامنے نہیں آیا۔ اور جائے وقوعہ پر مرکزی ملزمان کے علاوہ اس کے ذاتی ملازمین کے علاوہ تھراپی سینٹر کے اہلکاروں کی موجودگی یا آمدورفت کے شواہد ہیں۔ اس لیے تفتیش کا بڑا انحصار واقعاتی شواہد پر ہے۔ واضح رہے تھراپی سینٹر بھی مرکزی ملزم کے خاندان کی شراکت داری سے چل رہا ہے۔ اس لیے اس کے جائے وقوعہ پر آنے والے ملازمین نے صرف وہی کردار ادا کرنا ضروری سمجھا۔ جس کا مرکزی ملزم ظاہر ذاکر کو فائدہ ہو۔ ان میں سے کسی کا بھی پولیس کو اطلاع نہ دینا ان کے کردار کو بھی اس قتل کے واقعے کے حوالے سے مشکوک بناتا ہے۔ تاہم ابھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس منگل کے روز مرکزی ملزم کے والدین کو جبکہ مرکزی ملزم کو بدھ کے روز مقامی عدالت میں پھر پیش کرے گی۔ مرکزی ملزم کا اب تک تین مختلف دنوں میں مجموعی طور پر چھ دن کا ریمانڈ دیا جا چکا ہے۔ 28 جولائی کو پولیس اس کے مزید ریمانڈ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.