’’کراچی کے تاجر سندھ حکومت کیخلاف پھٹ پڑے‘‘

اقبال اعوان:
کراچی کے تاجر سندھ حکومت کیخلاف پھٹ پڑے۔ تاجر رہنمائوں کا کہنا ہے کہ دو سال سے کورونا صورت حال میں تاجروں کی مشکلات دور کرنے کیلیے مدد یا رعایت دینے کے بجائے ان کیلیے پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری دو روز کی چھٹی اور شام کے اوقات 2 گھنٹے کم کرکے 6 بجے تک کرنے پر شدید ردعمل دے رہی ہے۔

بدھ کو وزیر اعلیٰ ہائوس پر تاجروں کے دھرنے کے پروگرام کو سندھ حکومت کے بعض وزرا کی جانب سے مذاکرات کی دعوت ملنے پر روکا گیا۔ ادھر 60 سال پرانی جوبلی مارکیٹ کو گرانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس کارروائی پر بھی تاجر ایکشن کمیٹی کے رہنما سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں کے ایم سی کی 2 ہزار سے زائد دکانیں گرا دی گئیں۔ لیکن تا حال متبادل جگہ اور مالی امداد نہیں ملی ہے۔ الہ دین پارک کے دکانداروں کے بعد اب جوبلی مارکیٹ کے 162 دکانداروں کو بے روزگار کر دیا گیا۔ جوبلی مارکیٹ گرانے کے آغاز پر مارکیٹ کے صدر محمد غنی اور 6 دکانداروں کو مزاحمت پر حراست میں لیا گیا ہے۔
جوبلی مارکیٹ گرانے کیخلاف احتجاج کرنے والے تاجر ایکشن کمیٹی کے صدر شرجیل گوپلانی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ ’’کراچی میں روزانہ 4 سے 6 ارب روپے کا بزنس ہوتا ہے۔ جس میں سے شام کو 6 بجے سے 8 بجے تک 30 فیصد بزنس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’دکاندار اور ملازمین کورونا ویکسین لگوا چکے ہیں۔ خریداروں کو سینی ٹائزر، ماسک اور جسمانی دوری کے تحت ڈیل کرتے ہیں۔ کورونا پھیلنے کا سارا الزام تاجروں پر نہ ڈالا جائے۔ دو سال سے کورونا لاک ڈائون اقدامات میں ساتھ دے رہے ہیں۔ تاجر قرضوں میں جکڑے ہیں۔ ہمارا ہر سیزن خراب ہو رہا ہے۔ لیکن حکومتی سطح پر کوئی ٹیکس کم نہیں ہوا۔ یوٹیلٹی بلز بھی پورے لیے جارہے ہیں۔ اب تاجروں کو سڑکوں پر آنے پر دوبارہ مجبور کیا جارہا ہے۔ شام کو 6 بجے کے بجائے 8 بجے تک کا وقت کیا جائے کہ اس دوران سارے دن کے بزنس میں 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے اور جمعہ یا اتوار ایک چھٹی کی جائے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے صوبائی حکومت کو 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ بدھ کی دوپہر پریس کلب سے احتجاجی ریلی وزیراعلیٰ ہائوس تک جانی تھی اور وہاں مطالبات پورے نہ ہونے تک دھرنا دینا تھا۔ تاہم سندھ حکومت کے وزرا نے تاجروں کو مذاکرات کے لیے بلوا لیا ہے۔ اب تاجروں میں برداشت نہیں رہی ہے کہ خاندان کو فاقوں میں رکھ سکیں۔ تاجر قرض بھی واپس کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا صوبائی حکام سے مذاکرات کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔‘‘
سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ ’’جوبلی مارکیٹ 60 سال پرانی ہے اور یہاں سے کے ایم سی کرایہ وصول کرتی ہے۔ اس دورانیہ میں دکانداروں نے کرائے کی مد میں ایک ارب روپے سے زائد رقم دیا اور ٹیکس بھی سوا ارب روپے تک ادا کر چکے ہیں۔ شہر میں الہ دین پارک کے بعد اس مارکیٹ کو مسمار کرنے کا سلسلہ کراچی کے تاجروں سے دشمنی کا ثبوت ہے۔ سندھ حکومت نجانے کیسی پالیسی کے تحت کراچی کے تاجروں کو سڑک کنارے لگا رہی ہے۔ اب تاجروں نے سڑکوں پر آکر اپنا حق مانگنے کی تیاری کر لی ہے کہ آئے روز کورونا لاک ڈائون کے حوالے سے مارکیٹوں کو بند کرنے کے اوقات کم کیے جارہے ہیں۔ صبح 6 سے شام 6 بجے تک کے اوقات تاجروں کے لیے کم ہیں۔ کیونکہ دوپہر میں خریدار کم آتے ہیں اور شام سے رات 8 بجے تک زیادہ خریداری ہوتی ہے۔ تاجر، حکومت ہر بات مان رہے ہیں۔ چنانچہ دو گھنٹے بڑھانے کے علاوہ جمعہ یا اتوار ایک دن کی چھٹی کی جائے۔ جبکہ نالوں پر قائم سرکاری اداروں کے دفاتر، اسکولوں اور دیگر شعبوں کو چھوڑ کر مارکیٹوں یا دکانوں پر یلغار نہ کی جائے۔ موجودہ کورونا صورت حال میں ایسے اقدامات، تاجروں کو مشتعل کریں گے۔‘‘
آل کراچی الیکٹرونکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ ’’گزشتہ ماہ سے جوبلی مارکیٹ کا مسئلہ چل رہا تھا اور ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔ تاجر رہنمائوں نے تیاری کر لی تھی کہ سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لیں گے۔ تاہم منگل کی شب کے ایم سی انسداد تجاوزات سیل والوں نے گیارہ بجے مارکیٹ پر انہدامی کارروائی کا لیٹر چپکا دیا اور بدھ کی صبح سے مشینری لا کر پولیس کی بھاری نفری کی سیکورٹی میں مارکیٹ گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ جبکہ بات چیت کے لیے آنے والے مارکیٹ کے رہنما محمد غنی اور چند تاجروں کو مزاحمت کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’متبادل جگہ اور مالی امداد کے حوالے سے عدالتیں بار بار کہتی ہیں۔ تاہم سندھ حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ یہ سارے حالات دیکھ کر تاجر ایکشن کمیٹی احتجاج کے حوالے سے اگلا لائحہ عمل جلد طے کرے گی۔‘‘
آل پاکستان موبائل ایسوسی ایشن کے صدر یامین میمن کا کہنا تھا کہ ’’چند روز قبل جوبلی مارکیٹ میں نالہ ابلنے پر دکانداروں کو سامان نکالنے کا موقع مل گیا تھا۔ ورنہ بدھ کی صبح دکانداروں کو پولیس نے دور سڑکوں پر روک لیا اور دکانیں گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔‘‘ دکاندار الیاس کا کہنا تھا کہ ’’دکانوں میں لکڑی، شیشے، لوہے کے سامان کے علاوہ بجلی کا سامان بھی موجود تھا۔ تاجر رہنمائوں نے کہا تھا کہ ایک ہفتے تک مہلت دی گئی ہے۔ اب رہنمائوں کے ساتھ احتجاج میں شریک رہیں گے۔‘‘ آل کراچی فٹ ویئر ایسوسی ایشن کے صدر حافظ طیب صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’شہر میں 5 لاکھ چھوٹے، بڑے تاجروں کے ساتھ 20 لاکھ خاندان وابستہ ہیں۔ سندھ حکومت جو اقدامات کرے، خدارا لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچائے یا ان کو سہولتیں دے‘‘۔

تبصرے بند ہیں.