لاک ڈاؤن کا مطلب لوگوں کو بھوکا رکھنا ہے۔ وزیراعظم کا سندھ حکومت کو پیغام

اسلام آباد۔ سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے اقدام کے خلاف وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے کہا کہ سندھ حکومت سے بس اتنا کہوں گا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب لوگوں کو بھوکا رکھنا ہے ، ہم کبھی لاک ڈاؤن نہیں کریں گے ۔

آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ کے تحت عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ ٹھیک ہےکیونکہ اس سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ لاک ڈاوَن لگانا ہے تو ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا ہے، اگر لاک ڈاوَن  ہو تو دیہاڑی داراور مزدور  طبقہ کہاں جائے گا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری معیشت اوپر جارہی ہے، ہم نے درست فیصلے کرکے اپنی معیشت اور عوام کو بچایا ہے، ہمیں کسی صورت لاک ڈاوَن کرکے اپنی معیشت کو تباہ نہیں کرنا، جب تک بچوں اور اساتذہ کی ویکسی نیشن نہ ہو اسکو ل نہ کھولے جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر پھیل رہی ہے، بھارتی ڈیلٹا ویرینٹ سب سے خطرناک قسم ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے، کورونا  سے بچنے کا بہترین  طریقہ ویکسینیشن ہے،عوام احتیاظ کریں اور ماسک استعمال کریں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے سخت اقدامات اٹھانے کے باوجود لاک ڈاؤن نہیں کیا ، ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کا اقدام اٹھایا جس سے بھارت میں تباہی آگئی، بھارت نے صرف ایلیٹ طبقے کا سوچا، انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار طبقے کا کیا بنے گا، بہت سے لوگ دیگر دیہات سے شہروں میں روزگار کیلیے آئے ہیں لاک ڈائون سے وہ محصور ہو جاتے ہیں ۔

سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی وزیر اعظم کوکال  ملادی

سینئر صحافی حبیب اکرم نے بھی وزیر اعظم کوکال کی اور کہا کہ میں نے یہ کال اس لیے ملائی کہ دیکھ سکوں  کیا کالز واقعی براہ راست ہیں یا کہیں فیصل جاوید ادھر اُدھر سے  تو نہیں کر وا رہے ، میں نے سوچا تھا کہ اگر کال نہ ملی تو میں خبر بناﺅں گا اور پروگرام میں بات کروں گا لیکن کال مل گئی اور میری خبر رہ گئی ۔

صحافی حبیب اکرم کا کہناتھا کہ میں جانتاہوں کہ صحافیوں کا وقت نہیں ہے ہم آپ سے ملاقات میں سوالات بھی کر تے ہیں لیکن بطور شہری میں ایک مسئلے پر توجہ دلانا چاہتاہوں کہ شوکت خانم کو جانے والی ایک سڑک کا ایک حصہ تو بالکل ٹھیک ہے اور کوئی اشارہ نہیں لیکن تین کلومیٹر پر مشتمل ایک حصے پر شہریوں کو تین سگنلز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہاں کسی انڈر پاس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یوٹرن کو مینج کر تے ہوئے معاملہ حل کیا جا سکتا ہے ، اگر آپ پنجاب حکومت کو ہدایت کر دیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا ،اب مجھے یہ بھی یقین ہو گیاہے کہ آپ براہ راست کالز پر لوگوں سے بات کر رہے ہیں ۔

وزیراعظم عمران خان براہ راست کالز کے سیشن کے دوران حبیب اکر م کی کال پر مسکراتے رہے اور پھر جواب دیتے ہوئے کہا کہ آزا دمیڈیا سے ملک کے وہ سربراہ ڈرتے ہیں جنہوں نے قانون توڑنا ہوتاہے ،کیونکہ وہ ناجائز کام کر رہے ہوتے ہیں ، اگر میں نے چوری کی ہو اور لندن میں فلیٹس بنائیں ہوں تو مجھے آزاد میڈیا سے ڈر لگے گا ، آزاد رائے ملک کیلئے بڑی نعمت ہے ، میڈیا سے اختلاف تب ہوتاہے جب جعلی خبریں چلائی جاتی ہیں اور پراپیگنڈہ کیا جاتاہے ، صحیح صحافت اور تنقید ملک کیلئے بڑی نعمت ہے ۔

نورمقدم کیس کا قاتل کسی طور پر نہیں بچےگا

وزہراعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ نورمقدم کیس کو ذاتی طور پر دیکھ رہا ہوں، اس میں ملوث کوئی مجرم نہیں ہوگا۔

’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ نورمقدم کیس کو پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں اورکیس کی تمام تفصیلات لے لی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ نورمقدم کیس کا قاتل کسی طور پر بچے گا نہیں۔ اس کیس سے سب کو ایک صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی کے کیس کو بھی دیکھ رہا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نورمقدم کےقتل کا واقعہ دو دن میں ہوا اور اس میں ملوث تمام کرداروں کو سزا ہوگی۔ انہوں نے کہا کوئی یہ نا سمجھے کہ نور مقدم کا قاتل بااثر ہونے کی وجہ سے بچ جائے گا۔

 اسپورٹس میں پی ایچ ڈی ہوں

کھیلوں میں زبوں حالی کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ اسپورٹس میں پی ایچ ڈی ہوں، مجھے کھیلوں کو جو وقت دینا چاہیے تھا وہ نہیں دے سکا، جب ہم اقتدار میں آئے تو معیشت سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا تھا، جس ملک میں ادارے بہتر ہوتے ہیں وہاں کھیلوں کے میدان میں بھی ترقی ہوتی ہے، نظام کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا لیکن اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، آخری 2  سال میں پورا زور اسپورٹس پر لگاوَں گا۔

میڈیا سے تب اختلاف ہوتا ہے جب غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کو توڑنے والے اور قانون کی بالادستی سے ڈرنے والے سربراہان آزاد میڈیا سے ڈرتے ہیں، اگر میں نے لندن میں فلیٹ بنائے ہوں تو سارا وقت آزاد میڈیا سے ڈروں گا، آزادی رائے اس ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ میڈیا سے تب اختلاف ہوتا ہے جب غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی وزیرخارجہ سے سفری پابندیوں سے متعلق بات کی ہے،انہوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے کو جلد حل کرلیا جائے گا، بیرون ملک مقیم پاکستان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، سابق حکمران 20 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑا ، اتنے خسارے میں تو ہمارا ملک دیوالیہ ہوجاتا تھا لیکن سمندر پار پاکستانیوں نے ریکارڈ زرمبادلہ بھیجا، کوشش ہےکہ اوورسیز پاکستانیوں کیلیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کریں۔

معذور افراد کو کوٹہ ملنا چاہیے

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ معذور افراد کو تمام محکموں میں کوٹہ ملنا چاہیے، 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ تر محکمے صوبوں کے پاس ہیں، صوبوں کوہدایات دوں گا کہ ہر محکمے میں معذوروں کے لئے کوٹہ مختص کریں۔

دو خاندانوں نے ملک تباہ کردیا

عمران خان نے کہا کہ دو خاندانوں نے ملک تباہ کردیا، ادارے ٹھیک ہوتے تو یہ لوگ کیسے پیسہ بناتے، نیب پہلے چھوٹے چھوٹےلوگوں کو پکڑتا تھا،اب اسی نیب کے ہوتے ہوئےان کی چیخیں نکل رہی ہیں، احساس پروگرام کے تحت قرضے دیئے جا رہے ہیں، 40 فیصد نچلے طبقے کو براہ راست سبسڈی دیں گے۔

تمام لوگ کم از کم ایک درخت ضرور لگائیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں تمام پاکستانیوں سےملک میں ایک ایک درخت لگانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو 12موسموں سےنوازا ہے، ہم نے بےدردی سے ملکی جنگلات کوتباہ کیا، پاکستان میں دس ارب درخت انے والی نسلوں کے لئے لگا رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.