فلمی سین یا حقیقت۔اسرائیلی جیل سے چھ فلسطینی فرار

اسرائیل کی محفوظ ترین سمجھی جانی والی  ہائی سیکیورٹی جیل توڑ کر چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار نے صہیونی حکام کی نیندیں اڑادیں۔اسرائیلی حکام نے جیل کے درجن بھراراکین کو معاونت کے الزام میں گرفتارکرلیا۔

جیل حکام کو واقعہ کے بارے تب علم ہوا جب جیل کے باہر کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں نے جیل حکام کو کھیتوں نے چند افراد کو مشکوک نقل وحمل کے بارے میں بتایا۔فرار ہونے والے قیدیوں کا تعلق مختلف فلسطینی تنظیموں سے تھا جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔قیدیوں نے ایک چمچ کی مدد سے جیل کے واش روم سے سرنگ کھودنا شروع کی اور جیل کے باہر تک سرنگ کھودنے میں کامیاب ہوئے۔

اسرائیلی جریدے ہارٹز نے فلسطینی قیدیوں کے فرار کو انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ناکامی قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق اسرائیلی داخلی انٹیلی جنس ’شن بیت‘ نے الجلبوع جیل میں قید 400 فلسطینی قیدیوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق منظم فرار کے اختتامی مرحلے میں سرنگ سے باہر آنے والے ذکریا زبیدی اور ان کے پانچ ساتھیوں کو لینے کیلیے ایک کارکا استعمال کیا گیا جو ایک یہودی شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ آخری خبریں ملنے تک خود اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کھوجی کتوں کو، کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اسرائیلی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جیل میں اندر اور باہر تمام کیمروں کی اسکریننگ کی جارہی ہے کہ کس اسرائیلی محافظ یا جیل افسر و اہلکار نے فلسطینی قیدیوں کے فرار میں معاونت کی ہے۔

جریدے ہارٹز کے مطابق ایک اعلیٰ تفتیش کار کا نام نہ ظاہرکرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ جیل سے فلسطینی حریت پسندوں کے فرار میں اندر کی مدد شامل رہی ہے۔ جن آلات سے فلسطینی قیدی ہائی سیکیورٹی جیل میں سرنگ کھود کر فرار ہوئے، وہ انہیں اندر کے کسی فرد نے پہنچائے تھے۔

یاد رہے کہ 2014ء میں بھی اسلامی جہاد کے آٹھ ہائی پروفائل قیدی بھی سرنگ کھود کر فرار ہوکر تاریخ رقم کرچکے ہیں اور یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک ہائی سیکورٹی جیل سے فلسطینی قیدی فرار ہوئے۔ ادھر مصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ فلسطینی مجاہدین کے فرار اور محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد جنین شہر میں زبردست جشن کا سماں ہے۔

یہودی جریدے یروشلم پوسٹ کا کہنا ہے کہ ان چھ قیدیوں کا تعلق مغربی کنارے میں جنین سے ہے اور وہ اس علاقے میں کامیابی سے داخل ہو چکے ہیں۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں نامور مجاہد رہنما ذکریا زبید ی بھی شامل ہیں۔ جن کو اسرائیل انتہائی خطرناک قیدی تسلیم کرتا ہے۔ ذکریا زبیدی 20 سال قبل فلسطین کی دوسری تحریک مزاحمت یا انتفاضہ کے دوران الفتح سے وابستہ الاقصیٰ بریگیڈ کے رہنما تھے۔ ادھر اسرائیلی جریدے یعودوت اہرونوت کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں گاڑیوں، درجنوں ہیلی کاپٹرز و ڈرونز سمیت ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر قیمت پر فرار قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے لیکن تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق ہائی سیکیورٹی جیل سے مفرور فلسطینیوں میں سے پانچ کا تعلق اسلامی جہاد تنظیم اور ایک کا تعلق الفتح موومنٹ کے عسکری ونگ الاقصیٰ بریگیڈز سے بتایا گیا ہے۔ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ تمام قیدی عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے اور ان کی سیل کی نگرانی کیلئے چوبیس گھنٹوں کی بنیاد پر مسلح محافظ اور کیمرے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود فلسطینی قیدی سرنگ کھودنے اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اسرائیلی صف اول کے جریدے ہارٹز کے مطابق فلسطینی قیدیوں کی جانب سے کھودی گئی سرنگ قیدیوں کے واش روم سے شروع ہوئی اور لمبائی درجنوں میٹر ہے۔ اس سرنگ کے دہانے کا انکشاف جیل کی بیرونی دیوار کے باہر چند میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی الجلبوع جیل میں افرادی اورالیکٹرونک سیکیورٹی کا کڑا پہرا ہوتا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے قیدیوں کے فرار کے بعد ناکہ بندی کر دی ہے اور علاقے میں گشت جاری ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کا ان گنت شاہراہوں کی ویڈیوز دیکھ کر کہنا ہے کہ مفرور قیدی جنین کی طرف گئے ہیں، جہاں بین الاقوامی تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کا بہت کم کنٹرول ہے۔ یہیں حالیہ ماہ فلسطینی حریت پسندوں کی اسرائیلی غاصب افواج کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی آرمی ریڈیو نے بتایا کہ چھ فلسطینی ایک سرنگ کھود کر فرار ہوئے۔ انہیں جیل کے اندر سے مدد دی گئی اور باہر سے بھی سرنگ کھودنے کیلئے آلات، ڈائریکشن اورنگرانی کی مدد ملی۔ اسرائیلی میڈیا میں شائع و نشر ہونے والی تصاویراور ویڈیوز میں اس سرنگ کا اختتام دکھایا گیا ہے۔ جہاں سے چھ فلسطینی قیدی فرار ہوئے۔ جبکہ ایک تصویر میں ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار سیاہ ٹی شرٹ میں زمین کے سوراخ کا معائنہ کرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

ادھر تحریک حریت فلسطین کے ترجمان داؤد شہاب کا کہنا ہے کہ ہائی سیکورٹی جیل سے فلسطینی مجاہدین کا فرار ایک عظیم بہادرانہ عمل ہے، جس سے اسرائیل بھر میں افواج، پولیس، جیل نظام اور پورے سیکیورٹی سسٹم کو شدید دھچکا لگے گا۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بھی چھ فلسطینی حریت پسندوں کے فرار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابضین کے ساتھ ’تحریک آزادی فلسطین‘ کی جدوجہد صہیونی جیلوں کے اندر مسلسل جاری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.