افغانستان میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونی چاہیے۔گلبدین حکمت یار

کابل:حزب اسلامی کے سربراہ اورافغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونی چاہیے، ایک جاسوس نے پنج شیر میں فساد کروایا، پنج شیر سے اتنا اسلحہ ملا جو پورے ملک کیلیے کافی ہوتا ہے، طالبان کی پنج شیر میں کامیابی بڑی بات ہے۔

ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغان عوام خوش ہیں کیونکہ انہوں نے ایک بڑا ٹارگٹ حاصل کرلیا ہے، افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہوچکا اور ملک میں جنگ کا خاتمہ ہوگیا، مستقبل سے متعلق عوام کو فیصلہ کرنے کا حق مل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغانستان میں عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے کیونکہ گزشتہ حکومت کے بعد ایک خلا پیدا ہوگیا تھا جس کو پر کرنا ضروری تھا۔ چاہتے ہیں ایک ایسی حکومت بنے جس کو عوام کی حمایت حاصل ہو کیونکہ مشاورت کے بغیر بنائی گئی حکومتیں ناکام ہوتی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت متحد اور ایک ہی پارٹی کے پاس ہو، حکومت میں سب کو شامل کرلیں تو کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سابق افغان حکومت چاہتی تھی کہ ان کے ساتھ مل کر طالبان سے لڑیں، غیر ملکی افواج بھی یہی چاہتی تھیں، حزب اسلامی طالبان کے خلاف لڑ کر غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی، ہم نے غیر ملکی افواج کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے۔

پنج شیر کے حوالے سے گلبدین حکمت یار نے کہا کہ ماضی میں پنج شیر کو استعمال کیا گیا، اب بھی دشمن نے احمد مسعود اور پنج شیر کو استعمال کیا۔ ایک جاسوس احمد مسعود کو پنج شیر کیلیے اکسا رہا تھا، یہ وہی ہے جس نے کردوں کو ترکی میں اکسایا اورعراق میں فساد برپا کیا، پنج شیر میں مزاحمت والے چاہتے تھے کہ امریکہ واپس آجائے، پنج شیر میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود ملا، یہ اتنا زیادہ تھا جو ایک ملک کیلیے بھی کافی ہے، پنج شیر میں اتنا اسلحہ کیسے پہنچا؟ یہ ایک سوال ہے۔ یہاں افغانستان کے دشمنوں نے شرارت کی جو ناکام رہی، طالبان نے پنج شیر میں کامیابی حاصل کی جو بڑی بات ہے۔

پاکستان کے حوالے سے حزب اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ عمران خان کے موقف کی حمایت  اوران کا شکریہ ادا کرتا ہوں، افغان مسئلے کو جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا، پاکستان نے افغانستان میں امن کیلیے اہم کردارادا کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.