گندم کی فی من قیمت 1950 روپے مقرر

اسلام آباد:وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف نے جانے سے ہوئی ، گندم کی قیمت 1950 روپے مقرر کر دی گئی ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں کمی آئے گی ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں زراعت کا شعبہ نظر انداز رہا اور کسان متاثر ہوا، ہمیں زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، کسان سے لے کر ریٹیلر تک قیمتوں کا تعین کررہے ہیں، احساس پروگرام کا ڈیٹا آگیا ہے، جس کے تحت ہم رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے، اس سے قبل گیس اور بجلی پر ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے تھے، اب آٹا، گھی، چینی، دالوں پر کیش سبسڈی دیں گے۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ چند سالوں میں پوری دنیا میں اشیا کی قیمتیں بڑھیں ، کورونا سے سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ،کورونا کی وجہ سے ہم بھی متاثر ہوئے، ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ کاشتکاروں کو عالمی قیمتیں ملنی چاہیے، کورونا کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہوئی ،زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

شوکت ترین نے کہا کہ آٹا ، گھی اوردالوں پر کیش سبسڈی دیں گے , چینی کی قیمت 430 ٹن ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، کسان کو اتنے پیسے نہیں ملتے جتنے ریٹیلر کو ملتے ہیں، کسان سے ریٹلر تک قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں ،دیہاتوں میں 6 سے 7 فیصد تک مہنگائی بڑھی ہے ۔ گندم ، چینی دالیں اورگھی درآمد کر رہے ہیں ، گندم چینی دالیں اور گھی کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہیں ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی کا بجٹ 600 ارب روپے رکھا گیا ہے ، جو قیمتیں 20 سال قبل تھیں وہ آج نہیں ہیں ، چند سال میں لوگوں کی آمدن نہیں بڑھی ، ہمیں لوگوں کی آمدن بڑھانے پر توجہ دینی ہے ، اس مہینے کامیاب جوان پروگرام اس مہینے میں لانچ کر دیں گے ۔لوگوں کو اپنی آمدن بڑھانے کے مواقع فراہم کریں گے ۔

شوکت ترین نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے، آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا، اب قرضے 39 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، یہقرضے 2018 میں 25 ہزار 290 ارب روپے تھے، 2020 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 85.7 فیصد تھا اور 2021 میں یہ 81.1 فیصد ہوگیاہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام غریب عوام کا پروگرام ہے، اس کے لئے آئی ایم ایف رضامند ہو گیا ہے، کامیاب پاکستان پروگرام میں ایسا کچھ نہیں کہ آئی ایم ایف رضامند نہ ہوتا۔ کامیاب پاکستان پروگرام گزشتہ ماہ میں شروع کیا جانا تھا، آئی ایم ایف کی رضامندی نہ ہونے کے باعث پروگرام شروع نہیں ہو سکا تھا، اب اسے رواں ماہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.