کابل ایئرپورٹ پردھماکہ:خودکش بمبار بھارتی کالج کا طالب علم نکلا

کابل ایئر پورٹ کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا کر 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 افراد کو ہلاک کرنے والے بمبار نے 2016 میں بھارتی شہر فریدآباد کے تعلیمی ادارے میں داخلہ لیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش کے ایک جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرنے والا ان کا خود کش بمبار بھارت میں تعلیم حاصل کرچکا ہے اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں بھی رہا ہے۔

داعش کے اس دعوے پر بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رہورٹس مین تصدیق کی گئی ہے کہ خودکش بمبارعبدالرحمان الغوری نے 2016 میں ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

بھارتی کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک افسر نے انڈین میڈیا کو بتایا عبدالرحمان نے کالج میں داخلہ لینے کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے بجائے دارالحکومت دہلی کے چکر لگاتا رہا اورکئی مقامات کی تصاویر بھی بنائیں۔ مشکوک اور خفیہ سرگرمیوں کے باعث اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے عبدالرحمان سے کوئی خاطر خواہ شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث اسے افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا جہاں دوران تفتیش ملزم نے داعش کی کئی تربیت گاہوں کے بارے میں بتایا۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘نے افغان فوج کی اس تفتیش کو اپنی کامیابی بنا کر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ مشترکہ آپرشن میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 600 سے زائد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر طالبان کے افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جیل توڑکر قیدیوں کو رہا گیا جس مین عبدالرحمان بھی رہا ہوکر دوبارہ داعش سے جا ملا اور26 اگست کو کابل ایئرپورٹ کے دروزے پر ہجوم میں خود کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.