بھارت نے زیرو کو ہیرو بنا دیا

پاکستان میں قیدی بن جانے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو بھارتی حکومت کی جانب سے ایوارڈ دیا جانا سوشل میڈیا پر مذاق کا سبب بن گیا۔ عالمی، علاقائی اور بالخصوص پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ایوارڈ ’’ویر چکر‘‘ کو بھارت کیلئے پشیمانی کا سبب قرار دے دیا۔ عالمی صارفین کا کہناہے کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایک ایسی شکست پر ایوارڈ دیا گیا، جو دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابھی نندن کو پاکستان ایئر فورس کا ایف سولہ طیارہ مار گرانے پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔ لیکن پاکستان نے امریکی توسط سے یہ خبر نئی دہلی پہنچا دی تھی کہ خود امریکیوں نے اس کے امریکی ساختہ ملٹی رول ایئر کرافٹس کی کائونٹنگ کی ہے جس میں تمام ایف سولہ طیارے موجود و کارگزار پائے گئے ہیں۔ نئی دہلی کی خوش فہمیاں دور ہوجانی چاہئیں۔

بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ویر چکر دینے پر سوشل میڈیا پر مودی حکومت کو طنز و مزاح کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک صارف حسین شاہ نے طنز کیا کہ ’’میں بہادر ابھی نندن کو ایف 16 گرانے اور پھر اپنی جیت کا جشن منانے کیلیے اپنے جہاز سے اجیکٹ ہوکر پاکستان میں چائے پینے کیلیے گرنے پر بدھائی دیتا ہوں‘‘۔ مزنہ علی نے لکھا ’’بالی ووڈ نے تن تنہا پوری انڈین ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو کرپٹ بنا دیا ہے‘‘۔ ٹوئٹر پر نواز شاہ نے لکھا کہ ’’واہ… ابھی نندن کو پاکستان میں مشن کے فیل ہونے اوراپنا ہی ایک مگ اکیس طیارہ گرانے پر ایوارڈ دیا جارہا ہے۔ مطلب ہندوستان کو اپنے زیرو کو ہیرو بنانا خوب آتا ہے‘‘۔

ایک اور صارف ڈاکٹر سلمان نے ایک انڈین ڈرامے کے کردار کی تصویر شیئر کی۔ جس کا مقصد بھارتیوں کو یہ باور کرانا تھا کہ غریب پائلٹ ابھی نندن کو خود بھی نہیں معلوم کہ اسے ویر چکر کیوں دیا گیا ہے؟‘‘۔ ارسلان خالد نے ٹوئٹ کیا ’’صرف پردھان منتری، مودی جی اور بھارتی میڈیا کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بیچارے ابھی نندن کو بار بار اس کڑے وقت، پاکستانی تھپڑوں اور فنٹاسٹک چائے کو مجبوری میں یاد کرنا پڑتا ہے‘‘۔

پاکستانی صارف حافظ قمر کا کہنا تھا کہ ’’بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کے تباہ شدہ روسی طیارے کے سائیڈ ونگز پر موجود دونوں اینٹی ایئرکرافٹ میزائل درست حالت میں پاکستانی میوزیم میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر بھارتی ایئر فورس کا پاکستانی ایف سولہ کس میزائل سے گرایا گیا؟‘‘۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق ابھی نندن نے ویر چکر وصول کرنے کے بعد میڈیا سے کوئی گفتگو نہیں کی اور نہ ابھی نندن نے کسی بھارتی میڈیا ٹاک شو میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ نئی دہلی میں ایک تقریب میں ابھی نندن نے بھارتی صدر رام ناتھ کووند سے میڈل وصول کیا۔ اس تقریب میں مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی شریک تھے۔ آن لائن بھارتی انڈیا ٹائم نے بتایا کہ ابھی نندن کے پورے یونٹ 51 اسکوارڈن کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔ جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمن نے دلچسپ ٹوئٹ کیا اور لکھا ’’کیا یہ حقیقت ہے؟ پاکستانی حراست میں چائے پینا؟ یہ حقیقت کے برعکس ہے‘‘۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا نے لکھا ’’فنٹاسٹک‘‘۔ میں ابھی نندن کے جذبات سمجھ سکتا ہوں۔ صرف نریندر مودی اور بھارتی میڈیا کے شکست قبول نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ہر دوسرے مہینے ناکامی کے لمحات یاد دلائے جاتے ہیں‘‘۔ یاد رہے بھارتی پائلٹ کو پاکستانی عوام نے پکڑ کر فوج کے حوالے کیا تھا۔ لیکن پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے واپس بھیج دیا تھا۔

یاد رہے کہ ویر چکر جنگ میں بہادری دکھانے والے بھارتیوں کو دیا جاتا ہے اور یہ ہندوستان میں ’پرم ویر چکر‘ اور ’مہا ویر چکر‘ کے بعد تیسرا بڑا اعزاز قرار پاتا ہے۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق ابھی نندن کو یہ ایوارڈ مبینہ پاکستانی ایف-سولہ مارگرانے پر دیا گیا ہے لیکن اسلام آباد بھارتی دعویٰ مسترد کرتا آیا ہے۔ بھارتی حکومت و افواج نے 26 فروری2019ء کو بالاکوٹ میں جہادی تنظیم کے کیمپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کو پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔ لیکن اس کے جواب میں فضائی حملہ کرکے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا روسی ساختہ اپ گریٹیڈ طیارہ مگ اکیس اپنی سرحدی حدود میں گھسنے پر مارگرایا تھا۔ پاکستانی ساختہ جے ایف تھنڈر ملٹی رول فائٹر جٹ طیارے کی جانب سے ایئر ٹو ایئر میزائل لگنے سے ابھی نندن کا طیارہ پاکستانی علاقہ میں گر گیا تھا۔ تاہم ابھی نندن بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ لیکن وہ پاکستانی عوام کے ہاتھ لگ گیا۔ جنہوں نے اس کی ’خاطر تواضع‘ کی۔ چند دنوں کے بعد پاکستان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو خطہ میں امن کیلیے یکم مارچ 2019 کو رہا کردیا تھا۔

اگرچہ بھارتی حکومت اس حملے میں اپنی خفت مٹانے کیلیے مسلسل ایف سولہ گرانے کی رٹ لگائے بیٹھی تھی۔ لیکن پاکستان نے سفارتی چینل سے اس کی اس غلط فہمی کو دور کردیا۔ خیال رہے کہ ابھی نندن کو گزشتہ ماہ ہی ونگ کمانڈر سے ترقی دے کر گروپ کیپٹن بنادیا گیا تھا اور یہ ترقی بھی بھارتی ایئر فورس کے کاغذات میں پاکستانی ایف سولہ طیارہ گرانے کے انعام کے بطور لکھی گئی۔ نئی دہلی کی جانب سے پاکستانی ایف-سولہ گرانے کا دعویٰ منظر عام پر آنے کے تقریباً ایک ماہ بعد امریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک انکشافاتی خبر میں دو امریکی دفاعی افسران سے گفتگو کی اور انکشاف کیا کہ امریکی اہلکاروں نے اس وقت پاکستانی ایف سولہ طیاروں کی گنتی کی تھی اور انڈین دعوؤں کے اُلٹ ان کی تعداد پوری تھی۔ کوئی بھی طیارہ لاپتا یا تباہ نہیں ہوا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.