طالبان اور ایرانی فوج میں جھڑپیں،16 ہلاک

پشاور/ کابل: افغانستان کے صوبے نمروز کے سرحدی علاقے میں طالبان اور ایرانی فوج میں جھڑپوں میں 5 طالبان اور11 ایرانی فوجی ہلاک ہو گئے۔

نمروز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کُنگ میں ایرانی گارڈز تجارتی گاڑیوں سے غیر قانونی رقم وصول کرتے تھے جس پر طالبان نے انہیں کئی بار منع کیا۔ بدھ کے روز تلخ کلامی کے بعد ایرانی فوجیوں نے طالبان پر فائرنگ کر دی اور افغان علاقے میں گھس کر 2 چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ طالبان نے پہنچ کر ایرانی فوجیوں سے چوکیاں خالی کرنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے فائرنگ کر دی، اس کے نتیجے میں 5 طالبان جاں بحق ہو گئے۔ بعد ازاں جھڑپیں شروع ہو گئیں جس دوران 11 ایرانی فوجی ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔

ایرانی فوجیوں کی لاشیں طالبان کے قبضے میں میں ہیں اور انہوں نے ایران کو وارننگ دی ہے کہ لاشیں اس وقت واپس کی جائیں گی جب تہران کے اعلیٰ حکام اپنی غلطی تسلیم کرینگے۔ سرحدی کشیدگی کے باعث طالبان نے قندوز سے المنصوری بریگیڈ کے دستے بھی طلب کر لئے ہیں ۔

نمروز کے مقامی اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے پر تصدیق کی کہ 3 مقامی کمانڈروں سمیت 5 طالبان کی میتیں اسپتال لائی گئیں اس کے علاوہ 11 زخمی ہیں۔مقامی افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں نمروز کے سرحدی ضلع کنگ میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں جو آخری اطلاعات تک جاری تھیں۔

لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اوران میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پرایرانی کسانوں پربلا اشتعال فائرنگ کی۔ ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تبصرے بند ہیں.