امرود سے بے شمار بیماریوں کا علاج

امرود کا شمار موسمِ سرما کی اہم سوغاتوں میں ہوتا ہے۔ ان دِنوں کراچی کی مارکیٹوں میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے امرودوں کی بہار آئی ہوئی ہے لیکن ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ مانگ ’’ملیر کے جام‘‘ ہی کی ہے۔

ملیر کے امرود کا گودا زیادہ لذیذ اور خوشبودار ہوتا ہے۔ جبکہ بیج بھی کم اور سائز میں چھوٹے اور نرم ہوتے ہیں۔ امردو تقریباً پاکستان کے ہر صوبے میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ریٹ کے لحاظ سے بھی یہ آسانی سے ہر شخص کی پہنچ میں ہوتا ہے۔ امرود کے کئی طبی فوائد ہیں، جن میں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا او معدے کی بیماریوں کا خاتمہ سر فہرست ہیں۔
امرود نہ صرف مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ بلکہ نظام ہضم کو بھی بہتر کرنے میں مدد دیتا ہے۔ امرود میں وزن کم کرنے، جلد کو خوبصورت بنانے سمیت دیگر بیماریوں کے بہترین خواص موجود ہیں۔ غذائی اجزا سے بھرپور پھل میں وٹامن اے، بی، سی اورای وافر مقدار میں پایا جاتے ہیں۔ جبکہ پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشم، سوڈیم اور زنک بھی ہوتا ہے۔ امرود کی مدد سے شوگر میں مبتلا مریضوں کا علاج بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس میں غذائی ریشہ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو گلوکوزکی سطح کو کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

امریکی ماہرین کی تازہ تحقیق کے مطابق امرود ہائی بلڈ پریشرکو قابو میں رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ روزانہ ایک امرود کا استعمال آپ کو صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ امرود اسہال اور پیچش جیسے امراض سے نجات دلاتا ہے اور ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔ امرود کے پتوں کو بھی چبا کر کھا لیا جائے تو یہ بھی ہاضمہ کی درستگی کا سبب بنتا ہے۔ اس میں جراثیم کش اوراینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو گیسٹرو کے مرض سے نجات دلاتی ہیں۔

امردو جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے میں معاون ہے اورآنتوں کی نالیوں کو بہتر رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قبض سے 72 اقسام کی مختلف بیماریاں لگ سکتی ہیں اور امرود قبض کو دور کرنے کے لیے بہترین پھل ہے۔ امرود کا باقاعدہ استعمال قبض سے مکمل چھٹکارا دلاتا ہے۔ امرود کا استعمال کھانسی اور نزلہ سے بھی نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے رس اور پتوں کا استعمال سانس کی نالی اور گلے کو صاف کرتا ہے اور پھیپھڑوں میں موجود جراثیم کو مارتا ہے۔

امرود میں وٹامن سی اور آئرن کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں غذائی اجزا نزلہ، زکام اور کھانسی کو روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاہم امرود کھانے کے فوری بعد پانی پینے سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ عمل گلے کو متاثرکر سکتا ہے۔ امردو کا باقاعدہ استعمال بینائی کو بہتر کر سکتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن اے اچھی مقدار میں ہوتا ہے۔ امرود آنکھوں کے خلیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بینائی کی خرابی کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ امردو کے پتے بھی بے حد مفید ہیں۔ پتوں کا رس دانتوں کو کیڑا لگنے سے بیماریوں سے بچاتا ہے۔ مسوڑوں کی سوجن اور دانتوں کے درد سے نجات دلاتا ہے۔ اس کے بیج پیٹ کے کیڑوں کے قاتل ہیں۔

امرود کے پتے رگڑ کر پلانے سے دست کی بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے۔ اس کے پھولوں کا لیپ آنکھوں کے ورم کیلئے بے حد مفید ہوتا ہے۔ امرود میں کیلشیم ، لوہا اور فاسفورس پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امرود کی چھال کا جوشاندہ بنا کرغرارے کرنے سے مسوڑھوں کے جملہ امراض ٹھیک ہوتے ہے۔ امرود دماغ کو تر و تازہ رکھتا ہے۔ پھٹکری کے ہمراہ امرود کے پتوں کو رگڑ کر جوشاندہ تیار کرکے کلیاں کی جائیں تو دانتوں کے درد کو فوراً آرام ہوتا ہے۔ امرود کے پتے رگڑ کر جلی ہوئی جگہ پر لگانے سے جلن ختم ہوتی ہے اور چھالے نہیں بنتے۔ متواتر استعمال سے جلد آرام آجاتا ہے۔ امرود طبیعت کو نرم کرتا ہے اور خون صاف کرتا ہے۔ اس کے پھول رگڑ کر پینے سے (چھان کر) پتے کی پتھری ٹھیک ہوتی ہے، بشرطیکہ مرض بڑھا ہوا نہ ہو۔

امرود کے خشک پتوں کا سفو ف زخموں کو خشک کرتا ہے۔ اگر سر چکراتا ہو تو امرود کے تازہ پتے ایک تولہ لے کر انہیں ایک کِلو پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور اس میں آدھ تولہ نمک ملا کر خالی پیٹ دن میں ایک یا دو دفعہ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ کھانسی اور نزلہ کو دور کرنے کے لیے ادھ کچا امرود گرم راکھ میں دبا کر تھوڑی دیر کے بعد نکال کر صاف کرکے تھوڑا نمک ملا کر کھانے سے کھانسی اور نزلہ سے فوری آرام ہوجاتا ہے۔

امرود خون کی حدت کو دور کرتا ہے۔ مثانہ کی سوزش کو دور کرتا ہے۔ نزلے کو روکنے کے لیے امرود کی نرم کونپلیں آٹے کے چھان کے ساتھ جوشاندہ بناکر تھوڑی چینی ملا کر پینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ بلغم روکنے کیلیے امرود کے ساتھ اجوائن ملا کر کھانا مفید ہوتا ہے۔ امرود اور اجوائن (دیسی) ملا کر کھانے سے آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا، سرکا گھومنا بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

امرود پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ معدے کی تیزابیت کا دشمن ہوتا ہے۔ پیٹ کی بے شمار بیماریوں میں امرود کا استعمال مفید ہے۔ امرود خود ہاضم ہوتا ہے اور دوسری غذاؤں کو ہضم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ امرود کے استعمال سے آنتیں صاف ہوجاتی ہے۔ دائمی قبض دور کرنے کے لیے صبح ناشتے میں آدھ پاؤ سے تین پاؤ تک امرود کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھانا مفید ہے۔ امرود کے بیج آنتوں میں رکے ہوئے زہریلے اجزا کو خارج کرتے ہیں۔ امرود کو صرف سونگھنا ہی متلی کو دور کرتا ہے۔

(طبّی ماہرین کے مطابق امرود ایک وقت میں ایک پائو سے زیادہ کھانا مضر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امرود کھانے کے کم از کم آدھ گھنٹے بعد تک پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے)۔

تبصرے بند ہیں.