برطانیہ کی قانونی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ

برطانوی فیملی کورٹ نے مہنگی ترین طلاق اور بچوں کی حوالگی کے کیس میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو حکم دیا ہے کہ سابق اہلیہ شہزادی حیا بنت الحسین کو تہترکروڑ ڈالر ادا کریں گے۔ نان نفقہ کی مد میں شہزادی حیا کے پالتو گھوڑوں، کتوں اور محافظوں کے اخراجات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ شیخ محمد بن راشدالمکتوم اور ان کی لیگل ٹیم نے اس کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کیاہے۔

برطانوی عدالت نے دونوں بچوں شہزادہ زید اور شہزادی جلیلہ کی پرورش کا مکمل اختیار بلوغت تک ان کی والدہ شہزادی حیا بنت الحسین کو دے دیا ہے۔ بلوغت کے بعد بچوں اس امرکا اختیار ہوگا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ رہیں یا ماں کے ساتھ۔ برطانوی عدالت کے جج فلپ مور نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ شہزادی حیابنت الحسین کی سیکیورٹی سنگین مسئلہ ہے جس پر ان کیلئے محافظوں اور بکتر بند گاڑیوں کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ جسٹس فلپ مور نے قرار دیا کہ ماضی کے فیصلوںکومد نظر رکھا جائے توعلم ہوتا ہے کہ شہزادی حیا اوران کے دونوں بچے خطرناک کیفیت کا شکار تھے۔ اس لیے شہزادی اور دونوں بچوں کو سخت سیکورٹی کی اشدضرورت ہے۔

برطانوی جج نے شیخ المکتوم کے وکلا کو حکم دیا کہ وہ شہزادی جلیلہ اور شہزادہ زید کے سالانہ اخراجات کی پابندی سے ادائیگی کی مد میں برطانیہ کے HSBC بینک میں 300 ملین پائونڈ (سات ارب پاکستانی روپے کے مساوی) سیکورٹی ڈپازٹ کے بطور جمع کروائیں۔ یاد رہے کہ اماراتی شیخ نے کورٹ میں تمام الزامات سے برات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن فیملی کورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شہزادی حیا اور بچوں کو جو بنیادی خطرات درپیش تھے، وہ بیرونی نہیں بلکہ ان بچوں کے اپنے والد کی طرف سے تھے۔ جو ان کے خلاف اماراتی ریاست کے تمام وسائل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیملی جج نے کہا کہ اس خاندان کو واضح خطرہ اس وقت تک لاحق ہے، جب تک کہ وہ اپنی آزادی حاصل نہیں کر لیتے ہیں۔ برطانوی ہائی کورٹ کو سیکیورٹی جائزہ میں بتایا گیا کہ شہزادی حیا اوراس کے بچوں کیلیے جان کا خطرہ ہے جس پر جج نے شہزادی اور دونوں اطفال کی نقل و حمل کیلیے متعدد بکتر بند گاڑیوں کے استعمال کے اخراجات کو پورا کرنے کیلیے ایک فنڈ قائم کرنے اوراس کے اخراجات شیخ مکتوم کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیملی ڈویژن جج نے کہا کہ شہزادی حیا اور ان کے بچوں کیلیے نان و نفقہ، سیکورٹی، تعلیم اور پرورش کے بھاری اخراجات کا فیصلہ شیخ مکتوم کے لائف اسٹائل کو دیکھ کر گیا ہے۔

واضح رہے کہ اماراتی شیخ محمد بن راشد المکتوم اوران کی چوتھی اہلیہ شہزادی حیا کے درمیان طلاق کے مقدمہ کو برطانیہ کی قانونی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ قرار دیاگیا ہے۔ برطانوی کورٹ نے شیخ المکتوم کو حکم دیا ہے کہ وہ شہزادی حیا کو یکمشت ساڑھے پچیس کروڑ پاؤنڈ کی رقم ادا کریں۔ جبکہ برطانوی سرزمین پر واقع دو مہنگی جائیدادوں کے انتظامات کے اخراجات کی بھی رقم فراہم کریں۔ ان جائیدادوں میں ایک جائیداد لندن کے کنگسٹن پیلس میں واقع ہے جبکہ دوسری سرے کاؤنٹی کے ایک قصبے ایگھام میں ان کی مرکزی رہائش گاہ ہے۔

عدالتی فیصلہ میں شہزادی حیا کی سلامتی اور حفاظت کیلیے ایک بھاری سالانہ رقم مختص کی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ شہزادی حیا اور بچوںکی چھٹیوں پر ہونے والے اخراجات، ان کے ملازمین کی تنخواہیں، ان کے گھر میں آیاؤں، نرسوں اور دیگرعملے کی تنخواہیں کے ساتھ ساتھ پالتو جانوروں کے اخراجات بھی ادا کرنے کی ذمے داری دبئی کے شیخ المکتوم پرعائد کی گئی ہے۔

برطانوی جج نے شیخ المکتوم کو اپنے دو بچوں 14 سالہ بیٹی اور 9 سالہ صاحبزادے میں سے ہر ایک کو الگ الگ سالانہ 56 لاکھ پاؤنڈ بھی دینے کا حکم دیا ہے۔اس رقم کی باقاعدہ ادائیگی کے لیے عدالت نے 30 کروڑ پاؤنڈ کی رقم بطور زرِ ضمانت رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.