امریکا میں سوا صدی قدیم صندوق سے تاریخی دستاویزات برآمد

امریکی ریاست ورجینیا میں کنفیڈریٹس یو ایس جنرل روبرٹ ایلی کے مجسمہ کے پلیٹ فارم/ بنیاد کے عین نیچے تہہ خانہ سے ایک صندوقچہ برآمد ہوا ہے جس کے اندر حیرت انگیز اشیا اور تاریخی دستاویزات موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

جریدے سان فرانسسکو کرونیکل کے مطابق اس ’’ٹائم کیپسول‘‘ کی بر آمدگی نے ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین میں جنون کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور وہ اسے جانچنے اور جاننے کیلیے بے چین ہیں۔ کیونکہ اس کیسپول سے سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کی موت کے بعد تابوت میں اُتاری گئی تصویر بھی موجود ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی جنرل روبرٹ ایلی کے مجسمہ کو کچھ عرصہ قبل یہاں سے ہٹا دیا گیا تھا اوراس پر ایستادہ پلیٹ فارم کو توڑنے والے مزدوروں نے زمین سے تانبے کا بنا ہوا، مضبوط صندوقچہ دریافت کیا ہے۔ جس کے بارے میں ایکسپرٹس کی جانب سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس صدوق کو کم و بیش 133 سال پہلے 27 اکتوبر 1887ء کے روز دفن کیا گیا تھا۔ تاکہ بعد میں آنے والی اقوام اسے نکال کر اس تاریخ و زمانہ اور آثار کو جانچ سکیں کہ اس وقت کی زندگی کیسی تھی؟

امریکی حکام اور قدیم اشیا و مخطوطات اور دستاویزات کے ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ یہ بظاہر دوسرا ’ٹائم کیپسول‘ ہے، جو اسی جگہ کے قریب سے دریافت کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی اہمیت پہلے باکس کی نسبت کہیں زیادہ بتائی جارہی ہے۔ ریاست ورجینیا کے گورنر رالف نارتھم نے ٹوئٹر پر اس نکالے گئے بکسے کی تصاویر پوسٹ کی اور لکھا کہ انہوں نے بالآخر اسے تلاش کرلیا۔ یہ ممکنہ طورپر ٹائم کیپسول ہے، جس کو ہر کھوجی تلاش کر رہا تھا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ امریکا میں دستیاب دستاویزات اور اخباری تراشوں اور خبروں سے پتا چلتا ہے کہ1887ء میں سول وار کے دوران شمالی ورجینیائی افواج کے کمانڈر جنرل رابرٹ ایلی کے مجسمہ کے پلیٹ فارم میں دفن کئے جانے والے ٹائم کیپسول میں بٹن اس وقت کے مستعمل فوجی وردیوں کے بٹن، ایمونیشن گولیاں، کنفیڈریٹس کرنسی، نقشہ جات، مقتول امریکی صدر ابراہام لنکن کی موت کے بعد ان کے تابوت میں اُتاری گئی لاش کی نایاب تصویر اور دیگر انتہائی قیمتی اشیا شامل کی گئی تھیں۔ ان اشیا کو ایک تانبے کے بنے صندوق میں رکھ کر بصد احتیاط دفن کیا گیا تھا۔ تاکہ امتداد زمانہ سے اس کو کوئی زک نہ پہنچ سکے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ قیمتی اور قدیم آثار سے مزین یہ ٹائم کیپسول ماہرین کی ایک ٹیم کے حوالے کیا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو اس دور کی بابت بہت کچھ علم ہوسکے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ قدیم اشیا کو محفوظ و مامون بنانے کے بعد ان کو عوامی ملاحظہ کیلئے میوزیم میں رکھا جائے گا۔

امریکی ریاستی گورنر رالف نارتھم نے بتایا کہ یہ باکس جلد بصد احتیاط کھولا جائے گا اور اس کا کاربن ایکسرے کرلیا گیا ہے۔ امریکی ایکسپرٹس کہتے ہیں کہ اس صندوق میں سول وار کے سکے، کتب، بٹن اور حتیٰ کہ گولا بارود بھی ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل انہی مزدور حضرات نے جنرل ایلی کے مجسمہ تلے پلیٹ فارم سے ملے جوتوں کے ڈبہ سائز کے ایک اور باکس کو بھی نکالا تھا۔ لیکن یہ وہ ممکنہ ٹائم کیپسول نہیں تھا۔ جس کا ذکر 1887ء کے امریکی اخبار کے ایک مضمون میں کیا گیا تھا۔ اس چھوٹے ٹائم کیپسول یا باکس میں سیلن زدہ تین کتب، گیلے کپڑے میں لپٹی ایک تصویر اور ایک عدد سکہ موجود تھا۔

آرکیولوجیکل ایکسپرٹس کی نگاہ میں یہ اشیا مجسمہ کو نصب کرنے والے چند امریکی مزدوروں نے آئندہ صدی اور نسل کیلئے بطور یادگار رکھی تھیں۔ دوسرے ٹائم کیپسول کا سائز پہلے سے دوگنا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کاکہنا ہے کہ اس سے گفتگو میں جنرل ایلی کے گھڑ سوار مجسمہ کو ہٹانے والی کمپنی کے ایگزیکٹو ’ڈیون ہنری‘ نے بتایا کہ یہ باکس بنیادی طور پر زمین میں موجود ایک گرینائٹ انکلوژرکے اندر بصد احتیاط رکھا گیا تھا۔ جس کو چاروں طرف سے تعمیراتی ملبہ سے بھردیا گیا تھا۔ مزدوروں نے جب گرینائٹ انکلوژر کے اوپری حصے کو کھینچا تو انہیں اس کے اندر باکس نظر آیا۔ جو تانبے کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کھوج کے بعد باکس کو لپیٹ دیا گیا اور مزید تحقیق کیلئے ایکسپرٹس کو بھیج دیا گیا۔

یاد رہے کہ ریاست ورجینیا کے شہر’رچ منڈ‘ 65-1861ء تک خونیں خانہ جنگی کے دوران جنوب کا دارالحکومت تھا۔ یہاں ایستادہ گھڑ سوار روبرٹ ایلی کا مجسمہ تین ماہ قبل ستمبر2021ء میں ہٹایا تھا۔ واضح رہے کہ سول وارکے دوران، کنفیڈریٹس ساؤتھ قوتوں نے ریاست ہائے متحدہ سے علیحدگی اختیار کر کے غلامی کو برقرار رکھنے کیلئے لڑائی کی تھی۔ جسے باقی ملک نے ختم کر دیا تھا۔ یہ لڑائی اور اس کا سلسلہ سول وار سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس خانہ جنگی میں امریکی جنرل روبرٹ ایلی نے جنگ کے دوران شمالی ورجینیا کی فوج کی سربراہی کی تھی۔