ملکہ برطانیہ نے مستقبل کے بادشاہ کا اعلان کردیا

ملکہ ایلزبتھ نے اپنے صاحبزادے پرنس چارلس کو مستقبل کا بادشاہ اوران کی اہلیہ کمیلا پارکرکو مستقبل کی ملکہ قرار دیدیا ۔ کوئن الزبتھ کی خواہش ہے کہ جب شہزادہ چارلس انگلستان کے بادشاہ بنیں توان کی اہلیہ ’’ڈچز آف کارنیوال‘‘ کمیلاپارکر کو’’کوئن کونسورٹ‘‘ کے خطاب سے پکارا جائے۔ اس خواہش کا اظہار ملکہ ایلزبتھ نے اپنا تاج و تخت سنبھالنے کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پرکیا ۔

برطانوی میڈیا کی مطابق ملکہ ایلزبتھ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ کمیل پارکر کے ملکہ بننے میں اب شاید ہی کوئی رکاوٹ ہو۔ واضح رہے کہ اکہتر سالہ کمیلا پارکر کئی سماجی اور فلاحی خدمات کے کام کرتی رہی ہیں، جس پر انہیں برطانوی سماج میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ملکہ ایلزبتھ کے اعلان نے برطانیہ میں اگلی نسل کو شاہی تخت سونپ دیے جانے سے متعلق غیریقینی صورتحال ختم کردی ہے۔

دلچسپ امر ہے کہ برطانوی شاہی خانوادے میں ’’ملکہ‘‘ کے شوہرکیلیے قدرے مختلف طریقہ کار رہا ہے۔ جیسا کہ کوئین ایلزبتھ سے شادی کے بعد شاہزادہ فلپ یا ملکہ وکٹوریہ کے شوہر شہزادہ البرٹ کو ’’کنگ کونسورٹ‘‘ کہنے کے بجائے ’’پرنس کونسورٹ‘‘ کے خطاب سے پکارا جاتا تھا۔ شاہی مورخین کا کہنا ہے کہ عوام الناس سمجھتے ہیں کہ عام طور پر حسب روایت کمیلا پارکر کو شہزادہ چارلس کے بادشاہ بننے بعد خود بخود ’’ملکہ‘‘ بن جانا چاہئے تھا۔ مگر عوامی رائے میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کہا گیا تھا کہ ایسا نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اب جبکہ خود ملکہ ایلزبتھ نے چارلس کی بادشاہت اور کمیلا کو ’’کوئین‘‘ کونسورٹ‘‘ قرار دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

شاہی تجزیہ نگاروں کی رائے میں ملکہ ایلزبتھ کی جانب سے پرنس چارلس کو بادشاہ اوران کی اہلیہ کو ملکہ بنانے کے فیصلہ سے ان کے پوتے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی ہے۔ کیونکہ دونوں نے سیاسی دائو پیچوں سے ایک جانب اپنے چھوٹے بھائی پرنس ہیری اور ان کی امریکن بیوی کو ’’سائیڈ لائن‘‘ کیا تھا اور دوسری جانب خود کو شہزادہ چارلس کی جگہ بادشاہ اور ملکہ بننے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی۔ ادھر شاہی کونسل کے اراکین نے ملکہ الزبتھ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا ہے۔

شاہی تجزیہ نگاروں کے نزدیک ملکہ یا یہ فیصلہ اس تناظر میں بھی ایک اہم ہے کہ گزشتہ ماہ ہی ملکہ ایلزبتھ کے پسندیدہ صاحبزادے شاہزادہ اینڈریو جن کو مستقبل کا بادشاہ قرار دیا جاتا تھا، کیخلاف امریکی خاتون کی جانب سے زیادتی کے مقدمہ نے ان کو بادشاہت کی دوڑ سے باہرکردیا اور وہ تمام شاہی خطابات اورذمے داریوں سے فارغ ہوچکے ہیں۔ اس منظر نامہ میں پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن کے حامی پر جوش تھے کہ اب ملکہ ایلزبتھ کے بعد ولیم اور میڈلٹن ہی انگلش تخت و تاج کے حقدار ہیں۔

ملکہ الزبتھ نے پرنس چارلس اور کمیلاپارکر کی بادشاہت کا اعلان کرکے پرنس ولیم اورکیٹ میڈلٹن کے خوابوں کو چکنا چور کردیا ہے۔ کئی برطانوی تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگرچہ پرنس چارلس اس وقت تہتر برس کے ہوچکے ہیں، لیکن ان کی اچھی صحت اور اعتدال بھری زندگی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ 100سال تک زندہ رہ کر بادشاہت کے امور نمٹاسکتے ہیں۔

برطانوی شاہی خانوادے کے سینئراراکین اس حوالہ سے واضح طور پر فرق محسوس کرتے ہیں کہ حالیہ ماہ و سال میںپرنس چارلس کی اہلیہ کمیلاپارکر کے بارے میں عوامی رائے مثبت ہوچکی ہے اورکمیلا کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور سبھی اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ ملکہ ایلزبتھ کی جانب سے اپنی پلاٹینم جوبلی تقریبات کے موقع پرکمیلا پارکرکو مستقبل کی ملکہ قرار دیکر تمام قیاس آرائیوں اور ابہامات کو ختم کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ شاہزادہ چارلس اور کمیلا پارکر شادی سے قبل دونوں ہی طلاق یافتہ تھے اور2005ء میں انہوں نے ’’سول شادی‘‘ کی تھی۔ شہزادہ چارلس کی ماضی میں لیڈی ڈیانا سے شادی ہوئی تھی۔ لیکن 1996ء میں دونوں کی طلاق واقع ہوگئی تھی اور ٹھیک ایک سال کے بعد شاہزادی ڈیانا پیرس میں کار حادثہ میں آنجہانی ہوگئی تھیں۔