3برس بعد حرمین شریفین میں اعتکاف کی اجازت

ضیاء چترالی
حرمین شریفین میں کورونا پابندیوں میں نرمی کے بعد دونوں مقدس مقامات میں اس بار اعتکاف بھی ہوگا۔ جلد اجازت نامے جلد جاری کئے جائیں گے۔ حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ ڈاکٹرعبد الرحمٰن السدیس نے کہا ہے کہ اس سال مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں رمضان کے دوران اعتکاف ہوگا۔ یاد رہے کہ کورونا وبا کے دوران ایس او پیز کی پابندی کے باعث اعتکاف معطل کردیا گیا تھا، اس سال بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق حرمین شریفین انتظامیہ نے بتایا کہ دونوں مقدس مساجد میں اعتکاف مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ انتظامیہ اپنی سرکاری ویب سائٹ سے جلد اعتکاف اجازت نامے جاری کرانے کا موقع فراہم کرے گی۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس نے گزشتہ روز کورونا وبا کے بعد زندگی معمول پرآنے پر رمضان کے لیے سب سے بڑے آپریشنل پلان کا اعلان کیا تھا۔ درایں اثنا سعودی وزارت اسلامی امور و دعوت و رہنمائی نے رمضان کے لیے افطار کیمپس اور دسترخوانوں کے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔ مملکت میں وزارت کی نگرانی میں نجی انجمنیں اور ادارے روزہ داروں کو افطار کراتے ہیں اور اس حوالے سے افطار کیمپس بھی لگائے جاتے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت اسلامی امور نے افطار کیمپس اور دستر خوانوں کے حوالے سے بعض پابندیاں عائد کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جو نجی انجمن یا ادارہ افطار کیمپ یا دستر خوان کا پروگرام رکھتا ہو وہ وزارت اسلامی امور سے اس کی منظوری حاصل کرے۔ ہر انجمن اور ادارہ امام مسجد کے ساتھ تعاون افطار دستر خوان کا انتظام کرے۔ اجازت یافتہ انجمن اور ادارہ ہی افطار کیمپ یا دستر خوان کے تمام امور کا ذمہ دار ہوگا۔ فضول خرچی اور کھانے پینے کی اشیا کے ضیاع پر اسی سے بازپرس ہوگی۔ افطار کیمپ یا دستر خوان لگانے والی انجمن اور ادارے کو عطیات ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔
افطار کیمپ یا دسترخوان لگانے والی انجمن و ادارے کو آمدنی و اخراجات کے اعدادوشمار جاری کرنا ہوں گے اور رجسٹرڈ آڈیٹر سے آمدنی و اخراجات کو آڈٹ کرانا ہوگا۔ دعوتی پروگرام سے متعلق وزارت اسلامی امور سے باقاعدہ منظوری لینا ہوگی۔ افطار دسترخوان پر اجازت یافتہ مراکز کے تیار کردہ افطار پیکٹ پیش کیے جائیں۔ افطار کیمپ کے حوالے سے شہری دفاع کے ضوابط کی پابندی کریں۔
حرمین شریفین انتظامیہ نے مسجد الحرام میں نماز تراویح اور آخری عشرے میں قیام اللیل کے ائمہ کا جدول بھی جاری کر دیا ہے۔ سبق ویب سائٹ کے مطابق حرمین انتظامیہ کے سر براہ نے ائمہ کے جدول کی منظوری دیدی ہے۔ جدول کے مطابق شیخ عبد الرحمن السدیس، شیخ سعود بن ابراہیم الشریم، شیخ ڈاکٹر عواد الجہنی، شیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی، شیخ یاسر الدوسری اور شیخ ڈاکٹر بندر بلیلہ نماز تراویح اور آخری عشرے میں قیام اللیل کی امامت کریں گے۔
حرمین شریفین کے امور کی جنرل پریذیڈنسی نے مسجد حرام میں نماز کے مقامات متعین کر دئیے۔ ان میں تیسری سعودی توسیع کی تمام منزلیں، شاہ فہد توسیع کی تمام منزلیں اور مسجد حرام کے تمام صحن شامل ہیں۔ نمازیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ماسک لگانے کی پابندی کریں۔ انتظامیہ نے مطاف کے صحن اور زمینی منزل کو طواف کرنے والوں کے لیے مختص کیا ہے۔ علاوہ ازیں طواف کے بعد دو رکعت سنتیں زمینی منزل اور پہلی منزل پر ادا کی جا سکیں گی۔
جنرل پریذیڈنسی نے معتمرین کی آمد و رفت کے واسطے 3 مرکزی دروازے مختص کیے ہیں۔ اسی طرح 144 دروازوں اور 3 پلوں کو نمازیوں کی آمد و رفت کے واسطے مختص کیا گیا ہے۔ رمضان مبارک میں افطار کے دسترخوان حرم شریف کی راہ داریوں میں لگائے جائیں گے۔ ان کی تعداد دو ہزار ہوتی ہے۔
دوسری جانب جدہ سپر ڈوم میں حج و عمرہ خدمات پر نمائش جاری ہے، جہاں حرمین شریفین انتظامیہ نے اپنی خدمات متعارف کرانے کے لیے پویلین کا اہتمام کیا ہے۔ اس پویلین میں اسمارٹ اور الیکٹرانک خدمات وزٹروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نمائش میں حرمین انتظامیہ کے سینی ٹائزر ربورٹ اور زمزم تقسیم کرنے کے ربورٹ کو سب سے زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح وزٹر حرمین انتظامیہ کے پویلین میں حجر اسود کا ورچول مشاہدہ کرنے کا خصوصی اہتمام کر رہے ہیں۔ ورچول مشاہدے کے ذریعے وزٹر نہ صرف حجر اسود کو فرضی طور پر دیکھ اور چھو سکتا ہے بلکہ کعبہ کی دیواروں کو بھی محسوس کر سکتا ہے جبکہ اسے غلاف کعبہ کی خوشبو بھی محسوس ہوگی۔ حرمین پویلین کے وزٹروں نے انتظامیہ خدمات کو سراہا ہے جبکہ زائرین حرم کو پیش کی جانے والی سہولت پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔