پنسل پر دھاگے کی بُنائی سے تیارکیا گیا دنیا کا پہلا قرآنی نسخہ

ضیاء چترالی:

قرآن کریم حق تعالیٰ جل شانہ کی آخری کتاب ہے۔ اس کلام پاک کی ہردورمیں اہل اسلام نے مختلف انداز سے خدمت کی ہے۔ کوئی طریقہ ایسا نہ رہا، جس سے اس کی کتابت نہ کی گئی ہو۔ ہرزمانے کے فنکار اس میدان میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں۔ اب کراچی کے ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکارنے کلام الٰہی سے اپنی محبت کی ایک لازوال داستان قائم کی ہے۔ ان کے تیار کردہ شہکار کی پوری دنیا میں دھوم مچی ہے۔ الجزیرہ جیسے عالمی ادارے اس پر اسٹوریاں چلا رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق شاہ نواز مالحی سندھ پولیس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں۔انہیں کتاب الٰہی سے والہانہ عشق و محبت ہے، اس لئے سوچا کہ اس کلام پاک کی کوئی ایسی خدمت سرانجام دوں، جو آج تک کسی نے نہ کی ہو۔ سوچ بچار کے بعد ان کے دل میں ایک اچھوتا آئیڈیا آیا کہ وہ پنسلوں پر دھاگوں کی مدد سے قرآن کریم کی بُنائی کریں گے۔ قارئین نے بال پین پر مختلف رنگ کے دھاگوں سے لوگوں کے ناموں کی بنائی دیکھی ہوگی۔ اسی طریقے سے شاہ نوازمالحی نے پورا قرآن کریم تیار کیا ہے۔ اپنے اس انوکھے شوق کی تکمیل کیلیے شاہ نواز کو 10 برس مسلسل محنت کرنا پڑی۔ 8000 پنسلوں پر 114 سورتوں کی بُنائی مکمل ہوئی۔

شاہ نواز نے سورتوں کے نام الگ ڈیزائن سے تیار کیے ہیں، اس کے لئے انہوں نے آسمانی رنگ کا بیک گرائونڈ رکھا ہے۔ اس بیگ گرائونڈ پراجرام فلکی کے خوبصورت ڈیزائن تیار کئے ہیں۔ سورتوں کے ناموں کیلیے بنائے گئے اس خوبصورت فریم میں انہوں نے 8 سے10 تک پنسلوں کا استعمال کیا ہے۔ یہ ایک الگ فنی شاہکار ہے۔ جبکہ سورت کی آیات کو دوسرے انداز سے لکھا ہے۔ جس کیلیے 50 سے 80 تک پنسلوں کا استعمال ہوا ہے۔ ہر سورت کی تکمیل کے بعد ان پنسلوں کو خوبصورت انداز سے الگ الگ فریم میں سجا دیا ہے۔

انہوں نے پلاسٹک کے کلپس سے پنسلوں کو فریم کے ساتھ ایسا جوڑا ہے کہ ہر آیت پر مبنی پنسل کو بہ آسانی فریم سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ بھورے رنگ کی پنسلوں پر کالے رنگ کے دھاگے جوڑ کر بیک گرائونڈ بنایا ہے، جبکہ آیات اور ان پراعراب کی بُنائی کیلیے سفید رنگ کے دھاگوں کا استعمال کیا ہے۔

شاہ نواز2014ء میں سندھ پولیس سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ وہ دنیا کے پہلے شخص ہیں، جنہوں نے پنسلوں پر دھاگے کی سجاوٹ سے قرآنی نسخہ تیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فن کی طرف میرا میلان اس وقت سے تھا، جب میں ابتدائی کلاس میں پڑھتا تھا۔ پھر زندگی بھر یہ شوق پروان چڑھتا رہا۔ 2002ء میں انہوں نے اسما الحسنیٰ کوعربی خط میں اسی انداز سے تیار کیا اور اپنے اس فن پارے کو کراچی میں ہونے والی ایک قومی نمائش میں پیش کیا۔

شاہ نوار مالحی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بُنائی کا یہ فن جیل میں ڈیوٹی کے دوران قیدیوں سے سیکھا تھا۔ تاہم قیدی قلم پر دھاگوں کی مدد سے مختلف لوگوں کے ناموں کی بُنائی کرتے ہیں، لیکن مالحی نے اس فن کو کلام الٰہی کی بُنائی کیلیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ شاہ نواز مالحی نے اس مقصد کیلیے جو پنسل استعمال کی ہے، وہ ورد ہندی کی لکڑی سے تیار شدہ ہے، اس لکڑی کو دیمک اور دیگر مضر کیڑے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

شاہ نواز کہتے ہیں کہ اس پروجیکٹ پر میں روزانہ 8 گھنٹے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ 10 برس بعد اب جا کر یہ پورا ہوا۔ اس عظیم منصوبے پراٹھنے والی لاگت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس پر سب کچھ لگا دیا، یہاں تک کہ اپنا بڑا گھر بھی بیچ ڈالا اوراب چھوٹا مکان لے لیا ہے۔ البتہ کچھ عزیز واقارب نے بھی اس کام میں تعاون کیا، جو تقریباً 30 لاکھ روپے کے بقدر ہے۔