کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے۔چیف جسٹس

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پرسماعت کی۔

عدالت نے ریماکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جب ثابت نہیں کرسکتے تو کیوں کہتے ہیں ہر سیاستدان چور ہے، تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوتی تو سب سامنے آتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی رکن پر تاحیات پابندی لگانا بہت بڑی سزا ہے، انحراف ایک بہت بڑا ناسور ہے، ملک کی ترقی کے لیے مستحکم حکومت کی ضرورت ہے، 1970 سے جو میوزیکل چیئر چل رہی ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کی کچھ شرائط مقرر کررکھی ہیں، سمجھتے ہیں انحراف ایک سنگین غلطی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ منحرف ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن میں نااہلی ریفرنس زیر التوا ہے، جس پر اپنی رائے نہیں دے سکتے۔

جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ الیکشن کمیشن نے لینا ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ ہی آئے گی۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ کی پارٹی کے کچھ لوگ ادھر کچھ اُدھر ہیں، ق لیگ کے سربراہ خاموش ہیں، ایک بلوچستان کی پارٹی ہے انکے لوگوں کا پتہ نہیں وہ کدھر ہیں، آدھی پارٹی ادھر ہے آدھی پارٹی اُدھر ہے، جس کی چوری ہوتی ہے اسکو معلوم ہوتا ہے، ان پارٹیوں کے سربراہ ابھی تک مکمل خاموش ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.