زمین سے مشابہ کئی سیاروں پرزندگی کا قوی امکان

خلائی سائنس دانوں کے مطابق کسی اور ستارے کے گرد کسی سیارے کی موجودگی کا پتہ اس وقت چلایا جا سکتا ہے جب یہ سیارہ گردش کرتے ہوئے اپنے ستارے کے سامنے آ جائے اور ستارے کی روشی لمحاتی طور پر مدھم ہو جائے۔ سیارے کی فضا میں موجود گیسوں کی وجہ سے وہاں سے آنے والی روشنی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس روشنی کے رنگوں (یعنی ویو لینتھ) کا مطالعہ کر کے سیارے کی فضا میں پائی جانے والی گیسوں کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

کرسنسن ٹوٹن کے مطابق اگر جے ڈبلیو ایس ٹی دوربین تقریباً 40 نوری سال دور مشتری کی جسامت کے ستارے TRAPPIST-1 پر توجہ مرکوز کرے تو وہاں کامیابی مل سکتی ہے۔ اس ستارے کے گرد سات سیارے گردش کر رہے ہیں۔ جن میں سے کئی ایسے ہیں جہاں پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ ان میں سے TRAPPIST-1e نامی ایک سیارہ خاص طور پر دلچسپ ہے۔ جو بظاہر زمین سے ملتا جلتا ہے۔ وہاں سے آنے والی روشنی انتہائی مدھم ہو گی اور اس کا مشاہدہ کرنا آسان نہیں۔ لیکن کورنیل یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات جوناتھن لونائن کہتے ہیں کہ ’جے ڈبلیو ایس ٹی کی مدد سے ایسا کرنا ممکن ہے‘۔

تاہم یہ معلوم کرنا بھی اہم ہوگا کہ کہیں یہ عدم توازن کسی قدرتی عمل کا حصہ تو نہیں؟ مثلاً زمین پر بڑے پیمانے پر پھٹنے والے آتش فشاں بھی فضا میں موجود گیسوں کا توازن بگاڑ سکتے ہیں۔ تاہم کرسنسن ٹوٹن کے مطابق کئی بار پیمائش کر کے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا یہ عدم توازن قدرتی ہے یا زندگی کا پیدا کردہ۔ کیونکہ آتش فشانی عدم توازن وقتی ہوگا۔

تاہم جے ڈبلیو ایس ٹی واحد دوربین نہیں ہے جو خلائی مخلوق کی سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہوائی اور چلی میں دو بڑی دوربینیں تیار کی جا رہی ہیں۔ جبکہ سیاروں کی فضا کا مشاہدہ کرنے والا یورپی یونین کا ایریئل مشن 2022ء کے اواخر میں خلا میں بھیجا جائے گا۔ ان سب منصوبوں کے درمیان ایک قسم کی دوڑ ہے کہ کون سب سے پہلے کسی خلائی مخلوق کا سراغ لگاتا ہے۔ برطانوی سائنس دان جلیئن رائٹ کہتی ہیں کہ اس سے پہلے خلا میں کوئی ایسا آلہ نہیں تھا۔ جے ڈبلیو ایس ٹی کائنات میں نئی کھڑکیاں کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘۔

ماہرینِ فلکیات نے گزشتہ پانچ برسوں میں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی فہرست میں 219 نئے سیارے شامل کیے ہیں۔ جن میں سے دس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کا درجۂ حرارت اور جسامت تقریباً زمین جیسی ہے۔ اس سے ان پر ممکنہ طور پر زندگی موجود ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے یہ سیارے ناسا کی کیپلر خلائی دوربین کی مدد سے دو لاکھ ستاروں کے مشاہدے کے بعد دریافت کیے۔ ان میں سے دس سیارے پتھریلے ہیں جو اپنے ستارے سے اتنے فاصلے پر ہیں کہ اگر وہاں پانی موجود ہے تو وہ مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مائع پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

کیپلر کے پروگرام سائنٹسٹ ماریو پیریز نے کہا کہ ’ہمارے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اکیلے ہیں؟ (یعنی کیا کائنات میں ہمارے سیارے کے علاوہ بھی کہیں زندگی موجود ہے) ممکن ہے کیپلر ہمیں بالواسطہ طور پر بتا رہی ہو کہ ہم اکیلے نہیں ہیں‘۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2009ء میں کیپلر دوربین کا پروگرام شروع کیا تھا۔ جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا زمین جیسے سیارے شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں یا عام ہیں۔ اب جب کہ سائنس دانوں کے پاس نتائج آ گئے ہیں۔ وہ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ جس سے اس بات کے تعین میں بھی مدد ملے گی کہ زمین سے باہر کسی اور سیارے پر زندگی پائے جانے کے کس قدر امکانات ہیں۔

اپنے چار سالہ مشن کے دوران کیپلر نے چار ہزار سے زائد سیارے دریافت کیے۔ ان میں 50 ایسے ہیں جن کی جسامت اور درجۂ حرارت زمین کے مماثل ہے۔

ناسا کی کیپلر خلائی دوربین اب تک چار ہزار سے زائد سیارے دریافت کر چکی ہے۔ تمام دریافت کردہ سیاروں میں دو طرح کے سیارے شامل ہیں۔ ایسے جن کی سطح زمین کی طرح ٹھوس ہے یا پھر مشتری کی طرح کے جو صرف گیس پر مشتمل ہیں۔ کیپلر نے پتہ چلایا کہ وہ سیارے جو زمین کی جسامت سے تقریباً 1.75 گنا بڑے یا پھر اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کی سطح پتھریلی ہوتی ہے۔ انہیں ’’سپر ارتھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب کہ جو سیارے زمین سے 3.5 گنا یا اس سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ وہ عام طور نیپچون کی طرح گیس کے غبار پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ’منی نیپچون‘ کہلاتے ہیں۔

تاہم حیرت انگیز طور یہ سیارے ہمارے نظامِ شمسی میں دریافت نہیں ہو سکے۔ البتہ سائنس دان پلوٹو سے پرے ایک اور سیارے کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر اس قسم کا ہو سکتا ہے۔ کیپلر کے مشن سے منسلک ماہرِ فلکیات بینجمن فلٹن کہتے ہیں ’یہ بات دلچسپ ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں وہ سیارہ نہیں پایا جاتا جو بظاہر ہماری کہکشاں میں سب سے زیادہ عام ہے‘۔

لگ بھگ چھ سال پہلے ماہرینِ فلکیات نے زمین کے حجم کا ایک اور ٹھنڈا سیارہ دریافت کیا ہے۔ جو ہمارے نظامِ شمسی سے نسبتاً خاصا قریب ہے۔ اس نئے سیارے کا نام راس 128 بی رکھا گیا ہے اور سائنس دانوں کے مطابق یہ کائنات میں زمین کے علاوہ زندگی کی تلاش کا عمدہ ہدف ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ زمین سے صرف 11 نوری سال کی دوری پر واقع ہے اور اس اعتبار سے اب تک نظامِ شمسی سے باہر دریافت ہونے والا دوسرا قریب ترین سیارہ ہے۔

سب سے قریبی سیارہ پروکسیما بی ہے۔ تاہم وہ زندگی کے لیے ناموزوں ہے۔ کیونکہ اس کا مدار اپنے ستارے کے خاصے قریب ہے اور اس پر خطرناک تابکاری کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلے پر راس 128 بی کا ستارہ (راس 128) زیادہ فعال نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی جنیوا لیبارٹری میں یہ سیارہ دریافت کرنے والی ٹیم کے رکن نکولا آستودیلو دیفرو نے بتایا ’میں سمجھتا ہوں کہ راس 128 بی زندگی کی نشو و نما کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کی فضا کیسی ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی اور بادلوں کی روشنی منعکس کرنے کی صلاحیت سے پتہ چل سکتا ہے کہ آیا یہاں زمین کی طرح مائع پانی پایا جاتا ہے، یا پھر یہ زہرہ کی طرح بانجھ ہے‘۔

ڈاکٹر نکولا نے کہا کہ یہ دریافت ہارپس نامی آلے کی مدد سے ایک دہائی پر مبنی سخت کوشش کا نتیجہ ہے۔ اس سیارے کا وزن زمین کی نسبت 1.35 گنا زیادہ ہے۔ جبکہ اس کا اپنے ستارے سے فاصلہ زمین کے سورج سے فاصلے کے مقابلے پر 20 گنا کم ہے۔ تاہم چونکہ اس کا ستارہ ہمارے سورج کی نسبت بہت مدھم ہے۔ اس لیے اس پر زمین کے تقریباً مساوی روشنی پڑتی ہے۔ اس کے باعث توقع ہے کہ یہاں سطح کا درجۂ حرارت ہمارے سیارے جیسا ہی ہوگا۔

کائنات میں زندگی کی تلاش میں سرگرداں ماہرینِ فلکیات عام طور پر کم وزن والے ایسے ٹھوس سیاروں کا کھوج لگاتے ہیں جن کا درجۂ حرارت زمین سے ملتا جلتا ہو۔ تاہم ایسے سیاروں کی دریافت خاصا مشکل کام ہے۔ اب تک نظامِ شمسی سے باہر دریافت ہونے والے 3500 سے زائد سیاروں کی بڑی اکثریت مشتری کی طرح بڑے اور گیسوں سے بنے سیاروں پر مشتمل ہے۔ جو زندگی کے لیے سخت ناموزوں ہیں۔