حمزہ شہبازشریف کی حلف برداری کے فیصلے کے خلاف اپیل۔دو ایڈووکیٹ جنرل پیش

لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہبازشریف کی حلف برداری کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت میں دو ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے،عدالت عالیہ نے حمزہ شہباز کے حلف برداری کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل سماعت کیلیے منظور کر لی ۔

لاہور ہائیکورٹ میں حمزہ شہبازشریف کی حلف برداری کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی جس دوران عدالت میں دو ایڈوکیٹ جنرل پیش ہوئے،احمد اویس نے عدالت میں کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے میں پیش ہواہوں،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے میں پیش ہواہوں ۔

لارجر بینچ نے ریمارکس دیے کہ آپ دونوں کے جو بھی مسائل ہیں وہ عدالت کے باہرحل کریں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ میرا جواب حمزہ شہباز کے خلاف تھا، میرے جواب کو ضائع کر دیا گیا،جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیئے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ،

اے اے جی نے نے عدالت میں کہا کہ پنجاب حکومت نے مجھے انتظامی امور کیلئے نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے ،

عدالت نے کہا کہ کون ایڈووکیٹ جنرل ہے اور کون نہیں ، اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں ، جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیئے کہ اپنے تنازع کو بینچ سے دور رکھیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ مجھے کیس میں پیش ہونے کیلئے کہا گیا ،عدالت نے ہدایت کی کہ آپ یہ خود فیصلہ کریں کہ کون ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہے؟۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نےعدالت میں کہا کہ لارجر بنچ کاحکم سرآنکھوں پرہے،فل بینچ نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کیے ہیں ،یہ فیصلہ خود کریں گے ایڈووکیٹ جنرل کون ہے۔حمزہ شہبازشریف کی جانب سے منصوراعوان نے وکالت نامہ جمع کروا دیا ، عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے دو وکیل پیش ہوئے ہیں۔