لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی کے بعد کھیپیے سرگرم

عمران خان:

وفاقی حکومت کی جانب سے لگژری اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد ملک بھر میں درجنوں کھیپی نیٹ ورک ایک بار پھر سرگرم ہوگئے۔ اس نیٹ ورک کے کارندے دبئی، ملائیشیا، سنگا پور سمیت دیگر ممالک سے گھڑیاں، شیمپو، کاسمیٹکس، جیم، جیلی سمیت دیگر ایسی غیر ملکی اشیا لانے کیلئے مقامی مارکیٹ سے امریکی ڈالر 205 روپے تک میں خرید رہے ہیں۔ جس پر ایکسچینج کمپنیوں اور ان کے ایجنٹوں کو فی ڈالر 2 سے 3 روپے اضافی کمیشن دیا جا رہا ہے۔ تاکہ آئندہ آنے والے دنوں میں ان ڈالرز کو کھیپ لانے کیلئے استعمال کرکے دو سے تین گنا منافع کمایا جاسکے۔ دوسری جانب مذکورہ لگژری سامان کی جو مقدار ملکی گوداموں میں پہنچ چکی ہے، اسے بھی کئی گنا مہنگا کر دیا گیا ہے۔ یوں تاجروں نے حکومتی فیصلے کو ناجائز فائدے کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔

’’امت‘‘ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں کھیپیوں کے سرگرم ہونے کی اطلاعات وفاقی حکومت کو مل گئی ہیں۔ جس کی روشنی میں ایف آئی اے کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ اوپن مارکیٹ سے ڈالر ذخیرہ کرنے والوں سے نمٹا جائے۔ جس پر ملک کے بڑے صنعتکاروں، تاجروں، سیاسی شخصیات اور ان سرکاری افسران کی فہرست مرتب کرنا شروع کر دی گئی ہے۔ جنہوں نے گزشتہ 5 برسوں میں حوالہ ہنڈی میں ملوث بڑے نیٹ ورکس کے ذریعے کھربوں روپے کی بلیک منی بیرون ملک منتقل کروائی اور بیرون ملک پارٹیوں و کمپنیوں کو غیر قانونی چینل کے ذریعے ادائیگیاں کرکے ملکی خزانے کو ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

اطلاعات کے مطابق اس بڑے ٹاسک پر عمل درآمد کیلئے گزشتہ برسوں کے دوران حوالہ ہنڈی اور زرمبادلہ کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ایکسچینج کمپنیوں اور ایجنٹوں کے مقدمات اور انکوائریوں کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ تاکہ ان کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں منظرعام پرآنے والے کسٹمرز پر نگرانی رکھی جاسکے۔ ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں مختلف ایکسچینج کمپنیوں اور غیر قانونی ایجنٹوں کے خلاف 1000 سے زائد مقدمات اور انکوائریاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ ان کیخلاف تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بدنام زمانہ حنیف رنگیلا، خانانی اینڈ کالیا، ایچ اینڈ ایچ، گلیکسی، بیسٹ وے، ڈی ڈی ایکسچینج، وال اسٹریٹ اورنوبل ایکسچینج سمیت دیگرسرگرم نیٹ ورک کے کئی افراد انڈر گرائونڈ ہوگئے ہیں۔ خانانی اینڈ کالیا نیٹ ورک کے خاتمے کے کچھ عرصے بعد حنیف رنگیلا نے پرانے منی چینجرز کو پھر سے منظم کیا اور مارکیٹ میں ہنڈی حوالہ کا کام پکڑنے والے ایجنٹوں کے ذریعے اپنا علیحدہ کام شروع کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملک کے بڑے صنعتکاروں اور تاجروں نے اس نیٹ ورک کو استعمال کرنا شرو ع کیا۔

ذرائع کے مطابق ملک کے بڑے تاجر و صنعتکار بیرون ملک سے اربوں روپے مالیت کا سامان منگوانے کے دوران کرپٹ کسٹم افسران کی ملی بھگت سے اپنے سامان کی مقدار کاغذات میں کم ظاہر کرتے رہے اور ڈکلریشن کے حساب سے کسٹم ڈیوٹی ادا کرکے ملکی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچاتے رہے۔ ملک کے یہ بڑے صنعتکار کم ظاہر کئے گئے سامان کی بیرون ملک ادائیگیوں کیلیے قانونی بینکنگ کا طریقہ استعمال کرتے تھے۔ جبکہ چھپائے گئے سامان کی قیمت ادا کرنے کیلیے حنیف رنگیلا اورعرفان کے حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورک کے ذریعے اربوں روپے کی ادائیگیاں کرکے بھی حکومت کو ٹیکس کی مد میں نقصان پہنچایا جاتا رہا۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ حنیف رنگیلا نے دبئی میں تین دیگر منی ایکسچینج کمپنیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا ہے اور ان کے ذریعے پاکستان سے حوالہ ہنڈی کے ذریعے آنے والے ادائیگیوں کے آرڈرز پورے کروائے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے حکام نے کراچی میں ایسی لائسنس یافتہ منی چینجر کمپنیوں کو بھی شامل تفتیش کرلیا ہے۔ جن میں کے کارندے اور ان کے مالک حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے تمام صنعتکاروں، تاجروں اور سیاسی شخصیات کے علاوہ سرکاری افسران کی فہرست بھی تیار کرنا شروع کردی گئی ہے۔ جنہوں نے عرفان اور حنیف رنگیلا کے ذریعے غیرقانونی طور پر رقوم بیرون ملک منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ ایک بڑی کارروائی ہے۔ کیونکہ اس نیٹ ورک نے خود کو خفیہ رکھنے کیلیے شہر کے پوش علاقوں میں دفتر بنانے کے بجائے مضافاتی آبادیوں میں محدود رکھا۔ تاکہ ان کی سرگرمیاں اداروں کی نظر سے پوشیدہ رہیں۔

ذرائع کے بقول حالیہ دنوں میں کاروں، جیم جیلی، بسکٹس، چاکلیٹ، اسپریڈز، ٹشو پیپرز، موبائل فونز، کاسمیٹکس اور گھڑیوں سمیت دیگر کئی لگژری آئٹم کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی۔ تاکہ ان پر خرچ ہونے والے سالانہ اربوں ڈالرز بچائے جاسکیں۔ تاہم ان فیصلوں کے بعد بلیک مارکیٹ مافیا سرگرم ہوگئی۔ مذکورہ سامان کی چونکہ بھاری کھیپ اربوں روپے مالیت میں ملک بھر کے گوداموں میں موجود ہے۔ جنہیں بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹوروں، شاپنگ سینٹرز اور مارکیٹوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہاں پرتاجروں نے اس سامان کو چھپا لیا ہے اورشہریوں کو مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔

کئی مقامات پر بڑے اسٹوروں کی انتظامیہ نے کیچپ، اسپریڈزاوردیگرغیر ملکی سامان کے حوالے سے نوٹس لگادیئے ہیں کہ ایک شہری ایک ہی بوتل خرید سکتا ہے۔ جبکہ زیادہ مقدار میں لینے کے خواہش مندوں کو بلیک میں فروخت کیا جا جا رہا ہے۔ یہی سامان بیرون ملک سے چور دروازے سے لانے والے افراد روزانہ کی بنیاد پر کئی فلائٹوں سے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر ایئر پورٹس سے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ جو کھیپ کا سامان خریدنے کیلئے غیر ملکی کرنسی کمیشن پر خرید کر ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت کھیپ کے اس سامان میں منافع کا مارجن بہت بڑھ گیا ہے۔ کھیپ کا یہ سامان کسٹم افسران کی ملی بھگت سے کلیئر ہو رہا ہے۔