لانگ مارچ میں 20 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کھوکھلا نکلا

امت رپورٹ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ میں بیس لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کھوکھلا نکلا۔ گزشتہ روز اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا اور بدھ کی رات اس رپورٹ کے فائل کئے جانے تک پی ٹی آئی کے چند سو کارکنان ڈی چوک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ تاہم پی ٹی آئی چیئرمین نے جتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وہ پوری نہ ہوسکی۔ حتیٰ کہ صوبہ خیبرپختون، جہاں پچھلے تقریباً نو برس سے پی ٹی آئی حکمراں ہے اور دو ہزار اٹھارہ کے عام الیکشن میں اس نے خیبرپختون سے چھیاسٹھ صوبائی سیٹیں حاصل کی تھیں۔ جبکہ صوبے میں حاصل کردہ اس کے مجموعی ووٹوں کی تعداد اکیس لاکھ بتیس ہزار تین سو چونسٹھ تھی۔ ان تمام اعدادوشمار کے باوجود بھی عمران خان کی قیادت میں خیبرپختون سے چلنے والے قافلے میں محض آٹھ سے دس ہزار افراد شامل تھے۔ یہ تعداد صوبے میں پی ٹی آئی کے حاصل کردہ مجموعی ووٹوں کی 0.47 فیصد بنتی ہے۔ یعنی نصف فیصد سے بھی کم افراد عمران کے قافلے میں شامل ہوکراسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے۔ حالانکہ خیبرپختون میں پی ٹی آئی کو اپنی حکومت ہونے کے سبب اٹک پل تک کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اوراس نے سرکاری مشینری کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ اسی طرح اگر ملک کے دیگر شہروں میں نکلنے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی ہزاروں میں رہی۔

لاہور سے اسلام آباد کے لئے نکلنے والا قافلہ بھی چند ہزار لوگوں پر مشتمل تھا۔ اسی طرح جہلم سے فواد چوہدری کی قیادت میں نکلنے والی ریلی بھی عمران خان کے دعوے کو منہ چڑا رہی تھی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے پرامن احتجاج کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا۔ پی ٹی آئی مظاہرین نے پولیس وین کو آگ لگانے سمیت پولیس پر شدید پتھرائو کیا۔ جواب میں پولیس نے بھی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ یہ مناظر زیادہ تر جڑواں شہروں میں دیکھنے کو ملے۔

اسلام آباد سے نمائندہ ’’امت‘‘ کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت اگرچہ اپنے وعدوں کے برعکس جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد سے لانگ مارچ کے لئے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو نکالنے میں ناکام رہی۔ تاہم اس لحاظ سے پی ٹی آئی کی حکمت عملی کو کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کہ ٹولیوں کی شکل میں مقامی رہنمائوں کی قیادت میں نکلنے والے کارکنوں نے دن بھر پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں اور آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے میڈیا کی توجہ حاصل کئے رکھی۔ اسلام آباد سرینگر ہائی وے، جہاں عمران خان نے دوپہر دو بجے پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ وہاں کارکن ٹولیوں کی شکل میں جمع ہوتے رہے اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جبکہ راولپنڈی اسلام آباد کا جنکشن فیض آباد انٹرچینج کئی گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا۔ اگرچہ یہاں موجود پولیس اہلکاروں کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔ تاہم مظاہرین کا رویہ زیادہ جارحانہ تھا۔ تحریک انصاف کے مقامی رہنمائوں سابق رکن اسمبلی علی نواز اعوان، راجہ خرم اور سابق صوبائی وزیر فیاض چوہان کی قیادت میں کارکن دوپہر بارہ بجے فیض آباد پل کے اردگرد جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔

ابتدائی طور پر پولیس اور مظاہرین ایک دوسرے سے فاصلے پر رہے۔ تاہم صورتحال دیکھتے ہوئے موقع پاکر اچانک مظاہرین نے فیض آباد پل پر دھاوا بول دیا اورایک کنٹینر ہٹاکر آگے بڑھنے کا راستہ بنالیا۔ اس دوران رینجرز کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی تھی۔ جبکہ پولیس نے شدید شیلنگ شروع کردی اور مظاہرین نے مختلف مقامات پر پوزیشن سنبھال کر پتھرائو شروع کردیا۔ شیلنگ اس قدر شدید تھی کہ فیض آباد پل کے گردونواح، پل کے نیچے اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر تقریباً تین کلومیٹر کی حدود میں آنسو گیس کا دھواں پھیل گیا۔ جس سے مری روڈ اور گردونواح کی آبادی بھی متاثر ہوئی۔ شدید شیلنگ کے ذریعہ پولیس مظاہرین کو راولپنڈی سے ملحقہ اسلام آباد کے سیکٹر I-8 کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہوگئی۔ تاہم مظاہرین بار بار ٹولیوں کی شکل میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے اور شام چھ بجے کے قریب آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے باوجود مظاہرین کے جارحانہ رویے کے پیش نظر پولیس پیچھے ہٹ گئی اور مظاہرین رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے فیض آباد انٹرچینج سے اسلام آباد میں داخل ہوگئے۔ مری سے منتخب سابق رکن قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی اپنے حلقے کے بجائے راولپنڈی میں موجود تھے اور انہوں نے ایک روز پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ دوپہر دو بجے کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے مارچ میں شامل ہوں گے۔ جبکہ مری سے تحریک انصاف کے ایک اور رہنما اور سابق تحصیل ناظم سردار سلیم خان بڑے جلوس کے ساتھ اسلام آباد پہنچے۔ اس دوران موٹر وے سے ٹول پلازہ پر جلوس کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ جو ناکام رہی۔

واضح رہے کہ ایک روز پہلے سردار سلیم کی زیر صدارت کارکنوں کے اجلاس کے دوران مری پولیس کی بھاری نفری نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم کارکنوں کی مزاحمت کے باعث پولیس انہیں گرفتار نہ کرسکی۔ ایبٹ آباد سے تحریک انصاف کے رہنما طاہر امین عباسی اور دیگر کی قیادت میں جلوس کی شکل میں کارکن مارچ میں شرکت کے لئے اسلام آباد پہنچے۔ تاہم بہار کہو کے مقام پر طاہر امین عباسی کو سات دیگر افراد سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تقریباً تمام داخلی اور خارجی راستوں کو منگل کی شب کنٹینر لگاکر بند کردیا گیا تھا اور ٹریفک کے لئے صرف مخصوص راستے کھلے تھے۔ فیض آباد سے مری روڈ اور اسلام آباد دونوں طرف داخلہ مکمل طور پر بند تھا۔ مری روڈ ڈبل روڈ 9th ایونیو دونوں اطراف سے بند تھی اور متبادل کے طور پر آئی جے پی روڈ کا راستہ دیا گیا تھا۔ راوی روڈ کو شاہین چوک سے بند کر دیا گیا ہے۔ ایئرپورٹ روڈ گرین گیرج سے ایکسپریس وے اسلام آباد کی جانب جبکہ گلزار قائد سے عمار چوک کی جانب بند کیا گیا ہے۔ راولپنڈی صدر حیدر روڈ ٹرن سے مری روڈ آنے جانے والے راستے بند ہیں اور متبادل کے طور پر پشاور روڈ اور مال روڈ کھلا رکھا گیا ہے۔ مارچ کیلئے آنے والے شرکا کا رخ ڈی چوک اسلام آباد کی جانب تھا۔ جہاں عمران خان نے جمع ہونے کی ہدایت کر رکھی تھی۔ لہٰذا ڈی چوک کو اسلام آباد انتظامیہ نے کنٹینر لگاکر چاروں طرف سے بند کردیا تھا اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کردیے گئے تھے۔

اسی طرح جی ٹی روڈ اور موٹر ویز پر رکاوٹیں لگاکر لاہور اور پشاور سے اسلام آباد جانے والے راستے بند کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔ شام چھ بجے کے بعد جب مظاہرین نے فیض آباد انٹرچینج سے رکاوٹیں عبور کرکے مری روڈ سے اسلام آباد کی طرف جانے کی کوشش کی تو مری روڈ پر سکستھ روڈ اور گردونواح کے علاقوں میں ایک بار پھر پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں اور مری روڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ پولیس اہلکاروں نے سکستھ روڈ کے میٹرو پل پر قبضہ کرلیا اور اونچائی سے شدید شیلنگ کرکے مظاہرین کو رابی سینٹر اور ملحقہ مارکیٹوں کی طرف دھکیل دیا۔ دوسری طرف شام سات بجے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گولڑہ موڑ پر پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ جبکہ ایبٹ آباد سے آنے والا قافلہ برہان انٹرچینج پر عمران خان کی قیادت میں ٹیپو عباسی والے بڑے قافلے کا انتظار کر رہا تھا۔ قافلے میں شریک تحریک انصاف کے سرگرم کارکن ٹیپو عباسی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ برہان انٹرچینج میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزارہ ڈویژن میں تحریک انصاف کو خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ جہاں سے سابق ارکان اسمبلی علی اصغر جدون، اسپیکر صوبائی اسمبلی مشتاق غنی ، علی جدون ، اعظم سواتی ، شاہجہاں عباسی اور ایم پی اے نذیر عباسی سمیت دیگر کی قیادت میں ایک بڑا قافلہ مارچ میں شرکت کے لئے روانہ ہوا تھا۔ جسے برہان انٹرچینج پر شدید رکاوٹوں کا سامنا تھا اور قافلے میں شریک رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی قیادت میں آنے والے مرکزی قافلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جن کے پاس کنٹینرز وغیرہ ہٹانے کے لئے کرین موجود ہیں۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جڑواں شہروں میں تعینات پولیس اور دیگر سیکورٹی اہلکار مظاہرین سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار تھے اور چند سو افراد سے نبرد آزما ہونا ان کے لئے قطعی مشکل نہ تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے ہدایت تھی کہ مظاہرین کے ساتھ زیادہ سختی نہ کی جائے اور معاملہ آنسو گیس کی شیلنگ تک محدود رکھاجائے۔ ذرائع کے مطابق اس کا ایک اہم سبب یہ تھا کہ ایک طرف حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بالواسطہ چینل کے ذریعے پرامن جلسے کے لئے مذاکرات جاری تھے تو دوسری طرف تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری تھی اور صبح کی سماعت سے ہی یہ انداز ہوچلا تھا کہ تحریک انصاف کو کسی متبادل مقام پر جلسے کی مشروط اجازت دی جاسکتی ہے۔ اس لئے مظاہرین کو روکنے کے لئے زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے اوپر کی ہدایت پر ہاتھ ہلکا رکھا گیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد رات ساڑھے سات آٹھ بجے کے درمیان رکاوٹیں عبور کرتی ہوئی ڈی چوک پر پہنچ گئی، جہاں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری سمیت کئی رہنما موجود تھے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ ہر صورت میں ڈی چوک پہنچیں گے۔ شام ساڑھے چھ بجے کے قریب اپنے خطاب میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا ہے، لہٰذا تمام لوگ بالحصوص خواتین ڈی چوک پہنچیں۔ جبکہ انہوں نے ملک کے دیگر شہروں کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شہروں میں نکل کر احتجاج کریں کیونکہ ان کے بقول یہ حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لئے فیصلہ کن وقت ہے۔

خیبرپختونخوا سے نمائندہ امت کے مطابق تحریک انصاف اس صوبے سے لانگ مارچ میں شرکت کیلئے صرف آٹھ سے دس ہزار لوگوں کو نکال سکی۔ پشاور سے بھی کارکنان کو بڑی تعداد میں نہیں نکالا جا سکا۔ حالانکہ پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع سے ہر رکن اسمبلی کو ایک ہزار کارکن لانے کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔ قافلوں کو بڑا دکھانے کیلئے گاڑیوں کا سہارا لیا گیا۔ جبکہ بعض گاڑیوں میں محض ایک سے دو افراد سوار تھے۔ کچھ نوجوانوں کو موٹر سائیکلوں پر سوار کراکے قافلے کی رونق بڑھائی گئی۔ تاہم اس کے باوجود پشاور شہر سمیت صوبے کے دیگر اضلاع سے کارکنان زیادہ تعداد میں لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوئے۔ البتہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے قافلے کو بڑا کر کے دکھاتے رہے۔ پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق کارکنوں کی بہت بڑی تعداد لانگ مارچ کا اعلان ہوتے ہی اسلام آباد پہنچ گئی تھی اور وفاقی دارالحکومت میں ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ تاہم قافلے کی تعداد انتہائی کم ہونے پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے تاثرات اور پی ٹی آئی کی مرکزی و صوبائی قیادت، وزرا اور اراکین اسمبلی کے چہرے اترے ہوئے نظر آئے۔

آزادی مارچ میں شریک ایک ذریعے نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ اس قافلے سے بڑے تو عمران خان نے پشاور اورکراچی میں جلسے کئے تھے۔ ادھر لوئر دیر اور اپر دیر دیر سے لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو غلیل، ڈنڈے، ادویات، خوراک اور دیگر سامان ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقامی قیادت کے مطابق آزادی مارچ میں لوئر دیر اور اپر دیر سے ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی ملک شفیع اللہ خان اور ایم این اے سید محبوب شاہ نے کہا کہ ترئی بائی پاس تیمرگرہ سے صبح آٹھ بجے قافلہ روانہ ہوا۔ جو دن 12 بجے کرنل شیر خان انٹر چینج صوابی سے عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی قیادت میں اسلام آباد روانہ ہوا۔ تاہم کارکنوں کو لانگ مارچ میں لانے کے بجائے چیئرمین عمران خان کے ساتھ مرکزی و صوبائی رہنمائوں اور صوبائی وزرا کے چپکے رہنے پر لوگوں نے شدید حیرت کا اظہار کیا۔ جبکہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں شامل بعض کارکنان بھی حیران تھے کہ ایک طرف اراکین اسمبلی اور منتخب نمائندوں کو بڑی تعداد میں کارکنان لانگ مارچ میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری جانب پنجاب سے کارکنوں کو متحرک کرنے، ان کے ساتھ فرنٹ لائن پر رہنے اور اسلام آباد پہنچانے کے بجائے قیادت پشاور میں تحریک انصاف کے چیئرمین کے ساتھ اسلام آباد جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ گرفتاری سے بچنے کیلئے پنجاب کے پی ٹی آئی رہنمائوں نے بھی پشاور کا رخ کرلیا تھا اور وہ آزادی مارچ میں عمران خان کے ساتھ رہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع کرنے کی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ ترجمان صوبائی حکومت بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ تحریک انصاف عوام کا حق لینے اسلام آباد جارہی تھی اور ہمارا مطالبہ صرف الیکشن ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختون کا رابطہ منقطع کرنا افسوسناک ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اتحادی حکومت نے وفاق میں ڈیڑھ مہینہ مزے لے لئے۔ اب واپسی کا راستہ اپنائے اور انتخابات کا اعلان کرائے۔ جب تک انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

ادھر لاہور سے نمائندہ امت کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت سے پی ٹی آئی کے دو سے ڈھائی ہزار کارکنان اسلام آباد اور راولپنڈی پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ بیشتر کارکن پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد گھروں کو لوٹ گئے۔ پی ٹی آئی کے کچھ رہنمائوں کو حراست میں لیا گیا جنہیں بعد میں آزاد کر دیا گیا اور وہ اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ حکومت نے لانگ مارچ سے ایک روز قبل ہی دفعہ 144 نافذ کرکے جلسے جلوسوں، ریلیوں اور اجتماعات پر پابندی لگادی تھی۔ لاہور میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے شہر کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیئے گئے تھے۔ پولیس نے موٹر وے پر چڑھنے والے راوی کے تمام پُل سوائے ریلوے پُل کے بلاک کردیئے تھے۔ بابو صابو، شیرا کوٹ، محمود بوٹی اور جی ٹی روڈ کے پرانے پل کو بھی بند کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے ایک رات قبل کارکنوں کو جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کرنے کیلیے نیازی شہید چوک (المعروف نیازی چوک) پر نو بجے پہنچنے کی کال دی تھی۔ لیکن کارکنوں نے صبح آٹھ بجے وہاں پہنچنے کی کوشش کی۔ لیکن ناکام رہے۔

نمائندہ ’’امت‘‘ نے راوی کے تمام بند پُلوں کا جائزہ لیا۔ جہاں پولیس کی نفری تعینات تھی۔ البتہ راوی سائفن سے کشتی کے ذریعے سیکڑوں افراد نے دریا پار کیا۔ جن کے بارے میں بتایا گیا کہ جب راستے بند ہوں تو لوگ شہر سے باہر جانے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر مقامی اور ملحقہ علاقوں کے لوگ ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت کی توقع کر رہی تھی کہ لاہور سے ہزاروں افراد نکلیں گے تو پولیس ان کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ یہ اطلاعات بھی تھیں کہ پولیس اہلکاروں کی نفری ممکنہ مظاہرین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے ڈیفنس کلاس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ انہیں اطلاعات تھیں کہ پولیس کا رویہ سخت ہوگا اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جس پر اس کلاس کے بڑی تعداد میں لوگوں نے مارچ میں حصہ لینے کا فیصلہ ترک کر دیا اور راستے میں پکنک منانے کیلئے مختلف ریستورانوں کو دیئے گئے آرڈر منسوخ کردیئے۔ اس طرح جلسوں میں نوجوانوں کی مخلوط ٹولیوں نے بھی گھروں میں بیٹھ کر قائدین کی تقریریں سننے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے مقامی قائدین میں سے سابق وفاقی و صوبائی وزرا شفقت محمود، حماد اظہر، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں اسلم اقبال اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ٹولیوں کی شکل میں نکلے اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ پولیس اور مظاہرین میں لوئر مال و راوی روڈ پر تصادم ہوا۔ جبکہ راوی پل سے ملحقہ بتی چوک اور راوی پار شاہدرہ چوک، جبکہ لاہور سے ملحقہ ضلع شیخوپورہ کی حدود میں بھی کالا شاہ کاکو کے مقام پر تصادم ہوا۔ جہاں گھنٹون پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ پولیس کو سب سے پہلے وکلا کی طرف سے تھوڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جنہوں نے ایوان ضلع کچہری کے قریب لگائی جانے والی رکاوٹیں ہٹادیں۔ اس مرحلے پر پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما زبیر نیازی کو حراست میں لے لیا۔ جنہیں وکلا نے مزاحمت کرکے چھڑوالیا۔ راوی پُل پر ہی ایک نوجوان پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کے دوران دریا میں گرپڑا اور وہیں دم توڑ دیا۔ اس نوجوان فیصل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ لاہورکے علاقے علامہ اقبال ٹائون کا رہنے والا تھا۔ جہاں سے پی ٹی آئی کے میاں محمود الرشید منتخب ہوکر صوبائی ویر بنے تھے۔ جولانگ مارچ کے روز زیر حراست تھے۔ ان کے بارے میں ایسی اطلاعات تھیں کہ انہوں نے کچھ صحافیوں کی مدد سے خود گرفتاری پیش کی۔ جبکہ اسی طرح کی اطلاعات سینیٹر اعجاز چودھری کے بارے میں بھی گردش کرتی رہیں۔ جبکہ اعجاز چودھری کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ان کی گرفتاری ماڈل ٹائون سے ہوئی اور نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ راوی روڈ پر ہی صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد پہنچیں اور پولیس کی رکاوٹ توڑ ڈالی۔ تاہم اگلی رکاوٹ نہ توڑ سکیں۔ راوی روڈ پر داتا دربادر، بھاٹی چوک، اسلام پورہ، کریم پارک، موہنی روڈ اور بادامی باغ میں بھی پولیس اور کارکنان آمنے سامنے آئے۔ شیلنگ کے جواب میں کارکنان نے پولیس پر شدید پتھرائو کیا۔ اسی طرح کالا شاہ کاکو انٹر چینج کے قریب حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران بھی کارکنوں کی شدید مزاحمت دیکھنے میں آئی۔

قبل ازیں لاہور میں صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال اور ان کے ساتھیوں کی بھی پولیس سے مڈبھیڑ ہوئی۔ لاہور میں پولیس کے ساتھ تصادم کرنے والے کارکنوں کی تعداد پانچ سو سے ساتھ سو کے قریب تھی۔ مجموعی طور پر لاہور میں آدھی چھٹی کا سماں رہا۔ دفاتر میں بھی حاضری کم رہی۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور پنجاب بیت المال کے چیئرمین اعظم ملک، ایم پی اے عاطف میاں اور خالی ہونے والی نشست پر پنجاب اسمبلی کی نامزد رکن فوزیہ عباس کل رات ہی ٹرین کے ذریعے لاہور سے راولپنڈی روانہ ہوگئے تھے۔ اس ٹرین میں ایک سو کے قریب پی ٹی آئی کارکنان نے اکانومی کلاس میں سفر کیا۔ پی ٹی کے کئی اہم ترین کردار کے حامل رہنما اس لانگ مارچ پر اپنی قیادت سے نالاں بھی تھے۔ ایک ایسے ہی رہنما نے پولیس کی گرفتاری سے بچنے کیلئے لاہور پریس کلب میں پرانے دوست صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی قیادت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ آزادی کشمیر کے حقیقی ہیرو یاسین ملک کو بھارتی عدالت سے سزا سنانے کے دن یہ لانگ مارچ نہیں ہونا چاہئے تھا اور نہ ہی کارکنوں کو پُرتشدد پیغام جانے چاہئے تھے۔ یہ سطور لکھے جانے تک پولیس اور پی ٹی آئی کے کارکناں میں لاہور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ اضلاع میں تصادم ختم ہوچکا تھا۔

دوسری جانب کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے شرپسند کارکنان کیخلاف کریک ڈائون جاری ہے۔ منگل اور بدھ کی شب سندھ میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی تھی۔ جس میں سندھ حکومت نے واضح کیا تھا کہ تیس روز تک صوبہ بھر میں کسی کو بھی جلسے جلوسوں، احتجاج اور دھرنوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کہ تحریک انصاف کے کچھ شر پسند کارکنان اپنے ذمہ داران کی ایما پر کراچی میں ہنگامہ آرائی اور پر تشدد احتجاج کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ جس پر پولیس کے ساتھ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لیاری، کیماڑی، اورنگی ٹائون، بلدیہ، لانڈھی، سرجانی، بنارس اور محمود آباد سمیت میں شہر کے متعدد مقامات پر چھاپے مار کر پی ٹی آئی 50 سے زائد کارکنان اور بعض ذمہ داران کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار شدگان کے موبائل فونز سے شہر میں گزشتہ روز ہونے والے احتجاجی اعلان میں ہنگامہ آرائی اور احتجاج کو پر تشدد کرنے کے منصوبے موجود تھے۔ ان کارکنان کے پاس سے پولیس کو منشیات بھی ملی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے بعض شرپسندوں نے گزشتہ شام مزار قائد کے قریب ایک پولیس وین کو بھی نذر آتش کر دیا تھا۔ جبکہ سندھ کے شہروں میر پورخاص، حیدرآباد، عمرکوٹ، نواب شاہ، سکھر، روہڑی، لاڑکانہ، جیکب آباد، ٹھٹہ اور دادو سمیت بدین میں بھی پولیس نے چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان کو حراست میں لیا۔ جن کے پاس سے وافر مقدار میں پیٹرول اور ناکارہ ٹائر بھی برآمد ہوئے۔ ان افراد کا مقصد احتجاج کے دوران ٹائروں کو نذر آتش کرکے شاہراہیں بند کرنا اور لوگوں کی نجی املاک کو آگ لگانا تھا۔ گزشتہ روز جب تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں سمیت نمائش چورنگی پر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس کے بعد پولیس بھی حرکت میں آگئی تھی اور پولیس نے نمائش چورنگی جانے والے متعدد راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا تھا۔ جن مقامات سے بند کیا گیا ان میں کیپری سگنل سے نمائش جانے والا روڈ، گرو مندر سے نمائش آنے والا راستہ، پیپلز چورنگی سے کوریڈور 3، سولجر بازار سے نمائش آنے والا راستہ شامل تھا۔ علاوہ ازیں شہر بھر کے اہم مقامات پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ جبکہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنان کو جہاں جہاں موقع ملا انہوں نے سڑکیں بند کرنے کی کوششیں کیں۔ جسے پولیس نے بروقت ناکام بنادیا۔ شہر کے متعدد مقامات پر واٹر کیننز کو بھی اسٹینڈ بائے پر رکھا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مذکورہ مقامات پر جمع کرنے کیلئے پیسوں کا لالچ بھی دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جلائو گھیرائو اور توڑ پھوڑ کیلئے پی ٹی آئی کے ذمہ داران نے ان افراد کا چنائو کیا۔ جو نشے کے عادی ہیں۔ تاہم پولیس کے الرٹ رہنے سے تحریک انصاف کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ روزشام کو کچھ دیہاڑی دار افراد اپنے ہمراہ خواتین کو لے کر نمائش چورنگی تک پہنچ گئے تھے۔ جہاں نعرے بازی بھی کی گئی۔ مگر جب پولیس اس مقام پر پہنچی تو احتجاج کرنے والے مرد بھاگ نکلے اور خواتین پولیس کے نرغے میں آگئیں۔ جن کے ساتھ چھوٹے بچے بھی تھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی خواتین اہلکاروں نے انہیں احترام سے پولیس وینز میں بٹھا کر نزدیکی تھانے منتقل کیا۔ تاکہ انہیں تنبیہ کرکے ان کے اہلخانہ کے حوالے کیا جا سکے۔

پولیس کی جانب سے راستوں کی بندش کی وجہ سے کراچی کے عام شہری بھی شدید پریشانی کا شکار دکھائی دئیے۔ جن میں دفاتر جانے والے، صدر میں دکانوں پر جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی شامل تھے جو علاج و معالجے کیلئے اسپتال جا رہے تھے۔ راستوں کی بندش سے یہ لوگ بروقت اسپتالوں، دفاتر اور دکانوں پر نہ پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ کوریڈور 3 میں قائم جن امتحانی مراکز میں بچوں کو امتحان دینے تھے، وہ بھی امتحانی مراکز بروقت نہیں جا سکے۔ جس کی وجہ سے انہیں اور ان کے والدین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں پولیس نے بچوں کے ایڈمٹ کارڈ دیکھ کر انہیں امتحانی مراکز پہنچنے کی اجازت دی۔ اسی طرح کی صورتحال حیدرآباد میں بھی دیکھنے میں آئی۔ جہاں تحریک انصاف کی جانب سے دیہاڑی پر مزدوروں اور نشے کے عادی افراد کو حیدرآباد کے مختلف مقامات پر احتجاج کے لئے لایا گیا تھا۔ مگر جب وہاں پولیس پہنچی تو پی ٹی آئی کے اصل ذمہ داران اور کارکنان بھاگ گئے۔ جبکہ پولیس کے ہاتھ غریب دیہاڑی دار مزدور اور نشے کے عادی افراد لگے۔ جن کا کہنا تھا کہ انہیں تو 3 سو روپے دینے کا کہہ کر یہاں لایا گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے حیدرآباد میں بھی پی ٹی آئی کے شر پسند کارکنان اور ذمہ داران کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کیا۔ لطیف آباد میں واقع پی ٹی آئی سیکریٹریٹ سے پولیس نے تین کارکنان کو گرفتار کرکے سیکریٹریٹ کو تالہ لگا کر سر بہ مہر کر دیا۔ جن کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں عامر نیازی، عبید آفریدی اور فقیر رند شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عامر نیازی لوگوں کو رقم کا لالچ دے کر احتجاج کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے متعدد بار ایسی کوششیں کی گئیں کہ جس سے عوام اور پولیس کے مابین تصادم ہو۔ مگر ہر بار پولیس نے نہایت حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔ پولیس کی جانب سے بار بار اعلانات بھی کروائے گئے کہ لوگ اپنے گھروں کو جائیں اورقانون کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا اقدام نا کریں، جس سے پولیس کو سختی کرنے پر مجبور ہونا پڑے۔