پیٹرولیم کے دام بڑھنے پر ٹرانسپورٹ مافیا بے لگام

پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں اضافے کے بعد کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹرز نے بسوں، ویگنوں، رکشہ، ٹیکسی اور چنگ چی کے کرایوں میں 30 سے پچاس فیصد تک اضافہ کردیا۔ جب کہ خیبر پختون میں بھی ٹراسپورٹ مافیا بے لگام ہوگئی۔ پشاور سمیت دیگر شہروں میں بین الاضلاعی اور بین الصوبائی سفر کے کرائے 40 فیصد تک زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں بڑی بسوں اور مزدا والوں نے کم از کم کرایہ 30 روپے کر دیا ہے۔ کوچ والوں نے 40 روپے، چنگ چی رکشے والوں نے 15 سے بڑھا کر 30 روپے، تھری سیٹر رکشے والوں نے 20 سے 50 روپے اور ٹیکسی والوں نے 50 سے 80 روپے کرائے میں اضافہ کر دیا ہے۔ جس سے بس کنڈیکٹروں اور شہریوں میں جھگڑے معمول بن رہے ہیں۔ مہنگائی سے پسے شہریوں کو جہاں گھریلو اشیا مہنگی مل رہی ہیں اور مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہیں پبلک ٹرانسپورٹ والوں کی اندھیر نگری نے ان کو پریشان کر دیا ہے۔

شہریوں کا سوال ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کوئی سرکاری ادارہ ہے جو کرایوں کو مانیٹرنگ کرے؟ ٹریفک پولیس والوں سے شکایت کرتے ہیں تو وہ بولتے ہیں کہ سندھ حکومت کا محکمہ ٹرانسپورٹ ہے۔ ان سے شکایت کرو۔ اب من مانے کرائے دینے پر مجبور ہیں ورنہ گاڑیوں سے دھکے مار کر اتار دیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سندھ حکومت نئے کرایوں کا اعلان کرتی۔ پبلک ٹرانسپورٹ والوں نے بڑھنے والے فی لیٹر پر 30 روپے ہر شہری سے وصول کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ بسوں، مزدا، کوچوں کے علاوہ چنگ چی رکشوں نے اپنے لانگ یعنی مکمل روٹ ختم کر کے دو یا تین جگہوں سے کرائے پورے وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ایک جانب سندھ حکومت جلد از جلد اورنج بسوں کو چلانے کا اعلان کررہی ہے، تاہم کراچی کی وسیع آبادی اور مضافاتی، ساحلی آبادیوں تک رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کورنگی سے لیاقت آباد تک چلنے والے چنگ چی رکشوں کے مالک محمد مبین کا کہنا ہے کہ یکمشت پیٹرول پر 30 روپے بڑھائے گئے ہیں۔ اس لیے مجبور ہو کر چنگ چی رکشوں کے کرائے بڑھائے ہیں۔ کوشش کی ہے کہ کم از کم لوڈ شہریوں پر پڑے۔ کم از کم کرایہ 10 روپے تھا۔ جو 15 روپے کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کورنگی سے لیاقت آباد یعنی دور جانے والوں کے کرائے میں 10 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔

ادھر یلو کیب اور کالی پیلی ٹیکسی والوں نے بھی 50 سے 80 روپے یا زائد کرائے وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اب کرائے تو بڑھانے ہیں کہ اس طرح مہنگائی بڑھے گی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مرمت اور اسپیئر پارٹس مہنگے ہوں گے۔ جبکہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر والوں کی دیہاڑی بھی بڑھے گی۔ اس حوالے سے شہری پھٹ پڑے کہ تیل کی قیمتوں کے اضافے کے بعد مہنگائی کا سیلاب آجائے گا۔ اب کرائے کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسے شہریوں کو ہر کوئی لوٹنے کو تیار ہے۔ ایک شہری محمد ارشد کا کہنا تھا کہ من مانے کرائے وصول کیے جارہے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سخاوت رحمانی کا کہنا تھا کہ مزدا والوں نے کرائے پر 20 روپے زیادہ وصول کرنے شروع کر دیے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختون کے پبلک ٹرانسپورٹروں کی جانب سے بھی کرایوں میں 40 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس کے کرایوں میں 50 روپے سے ایک ہزار روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد، ہری پور، دیر اور چترال سمیت دیگر اضلاع کے کرایوں میں اے سی اور نان اے سی گاڑیوں کی مد میں تقریباً پانچ سو روپے تک کا اضافہ کیاگیا ہے ۔اسی طرح کارگو کے کرائے بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔ جبکہ اندرونِ پشاور چلنے والے مختلف رکشوں اور ٹیکسی، گاڑیوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کردیاگیا ہے۔ جس کے باعث آبائی اضلاع کو جانے والے مسافروں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسافروں اورٹرانسپورٹروں کے درمیان تکرار بھی شروع ہوگئی ہے۔

پشاورکے حاجی کیمپ اڈے میں گاڑی کے انتظار میں کھڑے ایک مسافر عبد الجبار نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ وہ اے سی گاڑی میں ایبٹ آباد جارہا ہے۔ تاہم پچھلے ہفتے کے مقابلے میں اس سے اب 100روپے زیادہ کرائے کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹروں نے کرایہ نامہ دکھانے کا بھی مطالبہ کیا تاہم انہیں گرمی میں کھڑے ہو کر گاڑیوں کے انتظار کا کہا گیا اور ان کے ساتھ تکرار بھی کی گئی۔ اس دوران شہری انتظامیہ منظر سے غائب رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس کا نوٹس لے کر کارروائی کرے۔

پشاور میں لوکل روٹس پر چلنے والی ٹیکسی، گاڑیوں میں بھی زیادہ کرائے وصول کئے جانے لگے ہیں اور اندرون شہر سے پشاور صدر تک کے کرائے میں 100روپے کا اضافہ کر دیاگیا ہے۔ جبکہ رکشہ ڈرائیور بھی من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں۔ ٹرانسپوٹروں کا موقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے مطابق کرائے بڑھائے ہیں۔ دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافے کے بعد دیگر اشیا سمیت مختلف ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بڑے بڑے ڈیلرز اور چھوٹے دکانداروں نے کروڑوں روپے کے پرانے اسٹاک کو بھی نئی قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ خیبر پختون کے شہریوں کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بجائے ٹرانسپورٹ مافیا اور فارما مافیا کی من مانیاں روکنے کے، عمران خان کے اعلان کردہ اگلے لانگ مارچ کی تیاریوں میں لگی ہے۔ اس حوالے سے تمام تر سرکاری وسائل بھی جھونکے جا رہے ہیں۔ لیکن صوبے کے غریب عوام کا پی ٹی آئی حکومت کو ذرا بھی خیال نہیں۔