’’شیطانی تکون‘‘ کا سفر کرنے کیلیےسینکڑوں افراد سربکف

پراسرار سمندری خطہ برمودا ٹرائینگل کے سفر کیلیے سینکڑوں افراد تیار ہوگئے ہیں۔ خطرناک مہم کا اہتمام ایک عالمی ٹریول ایجنسی نے کیا ہے اور سیاحوں کی بحفاظت واپسی کی گارنٹی بھی دی ہے۔ ٹریول کمپنی، انسائنٹ مسٹیریس کروز کے سفر کی تاریخ اور دیگر معاملات کی تفصیلات کا میڈیا اور اپنی ویب سائٹ پر جلد اعلان کرے گی۔

’’یو ایس ٹوڈے‘‘ کے مطابق برمودا ٹرائینگل کے لیے روانہ ہونے والے مسافر بردار بحری جہاز نے عجیب و غریب پیشکش کی ہے۔ جس میں مسافروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر جہاز غائب ہوگا تو انہیں سارے پیسے واپس مل جائیں گے۔ یاد رہے کہ برمودا ٹرائینگل بحر اوقیانوس کا ایک مخصوص حصہ ہے۔ اس علاقے کا ایک کونا برمودا، دوسرا کنارہ پورٹوریکو اور تیسرا کونا ملبورن آسٹریلیا سے متصل ہے۔ ان تینوں کونوں کے درمیانی حصے کو ’’شیطانی تکون‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

’’دی آسٹریلین‘‘ جریدے نے بتایا ہے کہ برمودا ٹرائینگل سمندر کے اندر ایک ایسا پراسرار علاقہ ہے جہاں اب تک درجنوں طیارے، کشتیاں اور بحری جہاز سفر کے دوران غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل سائنسی محققین اور کھوجیوں کی مدد سے ماضی میں گم ہوجانے والے ایک بحری جہاز کا یہاں پتا چلایا جاچکا ہے۔

عالمی ٹریول ایجنسی انسائنٹ مسٹیریس کروز نے دعویٰ کیا ہے کہ برمودا ٹرائینگل کے دورے کیلئے انہوں نے بڑی زبردست پلاننگ کی ہے اور اس سفر کیلئے جہاز کے انجنوں کا ایک زبردست پلان بنا رکھا ہے۔ تاکہ کسی قسم کی مقناطیسیت کی وجہ سے یا کسی اور شعائوں یا لہروں کی وجہ سے اگر اس جہاز کا انجن کام کرنا بند بھی کردے تو اس کی رفتار کو برقرار رکھنے کیلئے الگ نظام کام کرے گا اور جہاز اسی رفتار سے چلتا رہے گا۔ جبکہ جہاز کو کسی بھنور سے بچانے کیلیے بھی ایک الیکٹرونک نظام کام کرے گا اور کسی ایمرجنسی کی صورت میں اس عظیم الجثہ کروز شپ کو بچانے اور مسافروں کی جانوں کو محفوظ رکھنے کیلیے خصوصی ایمر جنسی پلان موجود ہے جس میں ایک نظام کے تحت زیر سمندر چلنے والی ’’آبدوز نما شیشہ کی کشتیاں‘‘ بھی کروز شپ پر رکھی گئی ہیں۔ شیشہ اور فائبر کی بنائی ہوئی کشتیوں کی مدد سے مسافروں کو نا صرف محفوظ مقام پر لایا جاسکے گا بلکہ اس کی الیکٹرونک /ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام بھی کام کرے گا۔ ساتھ ساتھ برمودا ٹرائینگل میں سفرکے دوران اگر کروز شپ پرکوئی مسئلہ محسوس ہو اتو اس جہاز سے لا سلکی، الیکٹرونکس، رئیل ٹائم ٹریکنگ سسٹم سمیت سیٹلائٹس ٹریکنگ یا ایمر جنسی کال کا پروگرام بھی کام کرے گا۔

انسائنٹ مسٹیریس کروز کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارے مسافروں کے جوش کو یقینی بنانے کیلئے ہم نے جو پروگرام ترتیب دیا ہے اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مسافر حضرات نا صرف اپنی خرچ کی جانے والی رقم کا نعم البدل پاسکیں۔ بلکہ ان کواس بات پر احساس تفاخر ہو سکے کہ وہ اولین مسافر ہیں جو اس سفر سے کامیابی کے ساتھ زندہ سلامت واپس بھی آئے ہیں۔ انسائنٹ مسٹریس کروز کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مسافروں کو جو پیشکش کی ہے وہ حقیقی اعتبار سے بہت پر کشش ہے۔ تمام خواہش مند مسافر اگلے برس مارچ2022ء میں نیویارک سے برمودا جانے والے نارویجن پرائما لائنر پر بحر اوقیانوس کا سفر شروع کریں گے۔

یاد رہے کہ برمودا ٹرائینگل میں اب تک بہت سے طیارے، کشتیاں اور جہاز غائب ہو چکے ہیں اور ان کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اکثر نظریہ سازوں نے بحری جہازوں اورہوائی جہازوں کی گمشدگی کیلئے مافوق الفطرت وجوہات کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ جنگ عظیم اول کے دوران امریکی جہاز ایس ایس کوٹوپیکسی برمودا ٹرائینگل میں غائب ہو چکا تھا۔ اس بحری جہاز پر بتیس عملہ اراکین سوار تھے جن کا بہت تلاش کے بعد بھی کچھ پتانہیں چلا۔ لیکن کم و بیش ایک صدی کے بعد آثار قدیمہ کے امریکی ماہرین اور غوطہ خوروں نے جہاز کا ملبہ فلوریڈا کے شہر سینٹ آگسٹن کے سمندر سے دریافت کر لیا۔ لیکن اس جہاز کے مسافروں کیساتھ اس وقت کیا ہوا؟ یہ ایک سربستہ راز ہے۔

سڈنی یونیورسٹی کے پروفیسر کارل کا خیال ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر خراب موسم اور انسانی غلطی کا نتیجہ تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ برمودا کا یہ علاقہ خط استوا کے قریب ہے اس لئے یہاں بہت ٹریفک ہے۔ آسٹریلوی پروفیسرکارل نے فلائٹ انیس کا بھی ذکر کیا ہے جو برمودا ٹرائینگل کی تمام گمشدگیوں میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔ فلائٹ انیس، پانچ طیاروں پر مشتمل تھی جس نے 5 دسمبر 1945ء کو فلوریڈا سے اڑان بھری جس میں عملہ کے 14 ارکان سوار تھے۔ لیکن امریکی بحریہ کے بمبار طیاروں کا پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔