جانوروں کے ہیلتھ سرٹیفکیٹ کے نام پرکمائی کا نیا دھندا

محمد اطہر فاروقی:

ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں جانوروں کے داخلے کیلیے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی فراہمی کو حکومت کے مقرر کردہ عملے نے دھندا بنالیا ہے۔ پنجاب اوراندورن سندھ سے سہراب گوٹھ مویشی منڈی میں جانور لانے والے بیوپاری سے پیسے بٹور کر سرٹیفکیٹ کے نام پر محض سادے کاغذ پر جانوروں کی تعداد لکھ کر دی جا رہی ہے۔

صوبائی حکومت نے ٹھیکداروں کو سندھ میں داخل ہونے والے جانوروں کو 3 مقامات پر روک کر سرٹیفکیٹ چیک کرنے کیلئے مقرر کر رکھا ہے۔ بیشتر کیسز میں عملہ فی ٹرالہ ایک ہزار سے 5 ہزار تک وصولی کے بعد جانوروں کو چیک کیے بغیر صوبے میں داخل کردیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں صوبے کی منڈیوں میں بیمار جانور لائے جا رہے ہیں۔ ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی سہراب گوٹھ لائے جانے والے9 ٹرالروں میں لمپی اسکن کے جانور کی موجودگی کی تصدیق منڈی انتظامیہ بھی کر چکی ہے۔ صوبہ بھر میں وائرس سے متاثرہ جانوروں کی تعداد51 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ سندھ میں یومیہ 170 سے 230 جانور اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک نے منڈی میں وائرس سے متاثرہ جانوروں کے لائے جانے کا ملبہ کے ایم سی پر ڈال دیا۔ محکمے کے بقول تاجروں سے ٹیکس کے ایم سی وصول کرتا ہے۔ منڈی انتظامیہ کے مطابق جانوروں کو منڈی میں لانے کی اجازت سے قبل طبی کیمپ میں لایا جاتا ہے۔ جہاں 10 ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم آنے والے جانوروں کی ویکسینیشن کارڈ چیک کرنے کے بعد ان کا طبی معائنہ کرتی ہے۔ اس کے بعد کلیئر سلپ دی جاتی ہے۔ جسے مرکزی گیٹ پر دکھانے کے بعد ان کو کلیئرنس سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس جانوروں میں لمپی اسکن وائرس کی موجودگی کے سبب محکمہ لائیو اسٹاک نے جانوروں کی نقل و حرکت اور مویشی منڈی میں داخلے کیلئے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا تھا۔ جس کے بعد صوبہ بھر میں جانوروں کے داخلے کیلئے مقامی حکومت کے مقرر کردہ ٹھیکیداروں نے چوکیاں قائم کرکے بیوپاریوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق صوبہ سندھ میں 3 مقام پر عملے کی چوکیاں قائم ہیں۔ ان میں سے ایک قومی شاہراہ پر سسی ٹول پلازہ کے قریب۔ دوسری ایم، 9 پر ایک سیمنٹ فیکٹری کے سامنے۔ اور تیسری شمالی بائی پاس پر مواچھ گوٹھ کے علاقے میں جانوروں کی منڈی کے ساتھ بنائی گئی ہے۔ تینوں مقامات پر ٹھیکداروں کا عملہ اندورن ملک سے آنے والے بیوپاریوں سے سرٹیفیکٹ کے عوض ہزاروں روپے بٹور رہا ہے۔ چوکیوں پر جانوروں کے ڈاکٹرز تک موجود نہیں۔ جبکہ محض سرٹیفکیٹ کو دیکھ کر انہیں صوبے میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جا رہی ہے۔

’’امت‘‘ کو سہراب گوٹھ منڈی میں پنجاب کے ضلع راجن پور سے آنے والے بیوپاری انعام اللہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے سے ہی ویکسین اور ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ بنایا ہے۔ جس کی مد میں ان سے 200 روپے وصول کیے گئے۔ جبکہ صوبہ سندھ میں جانوروں کے ساتھ داخلے پر انہیں ایک چوکی پر روکا گیا۔ سرٹیفکیٹ ہونے کے باوجود ٹرالے کو صوبے میں داخلے کیلئے پیسے طلب کیے گئے۔ انکار پر ٹرالے کو صوبے میں داخل ہونے سے روکنے کا کہا گیا ہے۔ یاد رہے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفیکٹ کیلئے کسی قسم کے پیسے وصول نہیں کیے جاتے۔ جبکہ بیوپاری انعام اللہ سے اس کے بھی پیسے وصول کیے گئے۔ ’’امت‘‘ کو بیوپاری سے حاصل ہونے والے سرٹیفیکٹ میں محض ایک سادہ کاغذ پر قلم سے ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفکیٹ لکھا ہوا تھا۔ جس پر راجن پور کی مہر بھی لگی ہوئی تھی۔ صوبے میں موجود چوکیوں کے حوالے سے تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ اکثر بیوپاریوں سے جانوروں کو صوبے میں داخل ہونے کیلئے ایک ہزار سے 5 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ تاہم جانوروں کو چیک نہیں کیا جاتا۔ بیمار جانوروں کو علیحدہ کرنے کیلئے شہر کے داخلی مقامات پر کسی بھی موثر طریقہ کار کی عدم موجودگی کے سبب لپمی اسکن سے متاثرہ جانوروں کو عیدالاضحیٰ سے قبل کراچی کی مویشی منڈیوں میں لائے جانے کا انکشاف بھی ہوا۔

امت کو حاصل معلومات کے مطابق 27 مئی کو سہراب گوٹھ مویشی منڈی لگنا شروع ہوئی۔ جس کے بعد اندورن ملک سے جانوروں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ 27 مئی سے 6 جون تک منڈی میں 9 جانوروں میں لمپی اسکن وائرس پایا گیا تھا۔ منڈی میں 9 ٹرالوں میں 9 جانور ایسے تھے۔ جس میں محکمہ لائف اسٹاک کے عملے نے لمپی اسکن وائرس کی موجودگی ظاہر کی۔ ملک کے دیگر مختلف شہروں سے آنے والے 9 ٹرالوں میں ایک ایک جانور لمپی اسکن سے متاثر تھا۔ جس کے بعد مذکورہ 9 ٹرالوں میں موجود تقریبا 80 سے زائد جانوروں کو منڈی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ 27 مئی سے اب تک منڈی میں 4 ہزار جانور لائے جا چکے ہیں۔ جبکہ بکروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ منڈی کے گیٹ نمبر 5 کو فی الحال کھولا گیا ہے۔ جبکہ منڈی میں جانوروں کو کھڑا کرنے کیلئے پلاٹ کی فروخت کا عمل بھی جاری ہے۔ امت کو حاصل دستاویزات کے مطابق صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر1 کروڑ 13 لاکھ سے زائد بڑے جانور موجود ہیں۔6 جون پیر کے روز تک صوبہ بھر میں لمپی اسکن کے 51 ہزار 446 کیس رپورٹ ہوئے۔ جس میں سب سے زیادہ تعداد کراچی میں 20 ہزار551 کیس رپورٹ ہوئے۔ سندھ بھر میں صرف پیر کے روز لمپی اسکن کے171 کیس رپورٹ ہوئے۔ جس میں سب سے زیادہ لاڑکانہ میں 38، قمبر کوٹ میں 20 اور کراچی میں24 جانور وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق صوبہ بھر میں 562 جانوروں کو مانیٹرنگ پر رکھا ہوا ہے۔ جبکہ 23 لاکھ 5 ہزار 910 جانوروں کو ویکسین لگ چکی ہے۔

’’امت‘‘ نے لمپی اسکن سے متاثرہ جانوروں کی موجودگی اور منڈی میں اس کے انتظامات کے حوالے سے منڈی کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ محکمہ لائف اسٹاک کا عملہ گیٹ پر تعینات ہے۔ جو مکمل جانوروں کو چیک کرنے کے بعد منڈی میں داخلہ کی اجازت دیتے ہیں۔ جانوروں کو منڈی میں اجازت سے قبل طبی کیمپ میں لایا جاتا ہے۔ جہاں 10 ڈاکٹروں کی ٹیم آنے والے جانوروں کی ویکسینیشن کارڈ چیک کرنے کے بعد ان کا طبی معائنہ کرتی ہے۔ اس کے بعد کلیئرنس سلپ دی جاتی ہے۔ جسے مرکزی گیٹ پر دکھانے کے بعد کلیئرنس سرٹیفیکٹ دیا جاتا ہے۔ ترجمان نے 9 جانوروں میں لمپی اسکن کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی بیوپاری کے پاس ہیلتھ کلیئرنس سرٹیفیکٹ ہونے کے باوجود اس کے تمام جانوروں کو ڈاکٹرز کی ٹیم معائنہ کرتی ہے۔ اگر کسی جانور میں بیماری ظاہر ہوتی ہے تو پورے ٹرالے کو واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منڈی میں ملک بھر سے آنے والے مویشی کے بیوپاریوں کی سہولت کیلئے پلاٹ کی بکنگ کیلئے مختص فیس500 روپے کم کرکے صرف 100 روپے کردی گئی ہے اور بکنگ کا عمل جاری ہے۔

دوسری جانب محکمہ لائف اسٹاک نے منڈی میں بیمار جانوروں کی آمد کا سارا ملبہ کے ایم سی پر ڈال دیا۔ صوبائی ڈائریکٹر جنرل محکمہ لائیو اسٹاک ڈاکٹر نذیر کلہوڑو نے کہا کہ کے ایم سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں مویشی منڈیوں کی نگرانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بیمار جانور منڈیوں میں داخل نہ ہو۔ کیونکہ وہ تاجروں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’’ہم جانتے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ کا عملہ بغیر کسی خدمات کے تاجروں سے پیسے وصول کر رہا ہے۔ لیکن ہمیں ابھی تک تحریری طور پر کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ جبکہ محکمہ لائیو اسٹاک نے عیدالاضحیٰ کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلیے دو ہفتے قبل کے ایم سی کو خط بھیجا تھا۔ ہم گھوٹکی، کشمور اور حب میں 3 صوبائی سرحدی مقامات پر ان ہدایات پر عمل درآمد کر رہے ہیں اور اگر مقامی حکومت نے صورتحال پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا تو ہم چوکیوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر نذیر کلہوڑو نے بتایا کہ محکمہ لائیو اسٹاک میں عملے کی کمی ہے اور اس کی افرادی قوت بھی لمپی اسکن کی بیماری کی ویکسینیشن میں مصروف ہے۔ ہم اب تک 22 لاکھ مویشیوں کو ٹیکا لگا چکے ہیں اور رواں ماہ کے آخر تک یہ تعداد 40 لاکھ مویشیوں تک لے جانے کا ہدف ہے۔ اس حوالے سے کے ایم سی کے عہدیدار نے کہا کہ ’’کارپوریشن نے مویشی منڈیوں کی نگرانی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ جبکہ جانوروں کی فیس متعلقہ ضلع میونسپل کارپوریشن وصول کر رہی ہے‘‘۔