’’ہہمں بچا لو‘‘ گستاخان رسول کی دہائیاں

امت رپورٹ:

شان رسالتؐ کے خلاف گستاخانہ کلمات کے مرتکب بی جے پی کے ملعون رہنما اب اپنی جان بچانے کی دُہائیاں دے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک، بھارت کی حکمراں پارٹی کی ترجمان نوپور شرما تاحال خفیہ مقام پر چھپی ہوئی ہے۔ جبکہ بی جے پی دہلی کا ملعون میڈیا سربراہ نوین جندال بھی خفیہ مقام پر روپوش ہے۔ دونوں سوشل میڈیا پر اپیلیں کر رہے ہیں کہ ان کے گھروں کا ایڈریس شیئر نہ کیا جائے۔ کیونکہ انہیں اور ان کے خاندانوں کو جان کا خطرہ لاحق ہے۔

گستاخی کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردعمل سے ملعون نوین جندال کس قدر خوفزدہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو روز پہلے اس کی فیملی بھی دہلی چھوڑ کر بھارت کے کسی اور شہر میں چھپ گئی ہے۔ نوین جندال کا خوفزدہ خاندان اس وقت دارالحکومت سے فرار ہوا، جب ان کی رہائش سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک دستی بم برآمد ہوا تھا۔ ملعون نوین جندال کا دعویٰ ہے کہ یہ دستی بم اس کے گھر پر مارا جانا تھا۔ جسے بعد میں بھارتی نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کے عملے نے ناکارہ بنادیا۔ نوین جندال اگرچہ پچھلے ڈیڑھ ہفتے سے خفیہ مقام پر چھپا ہوا ہے۔ تاہم اس نے ٹویٹر پر پوسٹوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ دستی بم برآمد ہونے کا ذکر اس نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر بھی کیا ہے۔ بارہ جون کو خوفزدہ ملعون نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر دستی بم برآمد ہونے سے متعلق چار سے پانچ خبروں کو ری ٹویٹ کیا۔ حالانکہ جیسا بتایا گیا ہے کہ یہ دستی بم نوین جندال کی رہائش گاہ سے دو کلومیٹر دور برآمد ہوا تھا۔ لیکن دستی بم کا خوف اس کے دماغ پر سوار ہو چکا ہے۔ اس کا اظہار کرتے ہوئے اس نے کہا ’’جب سے القاعدہ نے بھارت میں خود کش بمبار بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔ تب سے القاعدہ کے چاہنے والے میرے گھر کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں‘‘۔

دستی بم برآمد ہونے کے واقعہ کے بعد سے نوین جندال کا ٹویٹ اکائونٹ بھی خاموش پڑا ہے۔ اس نے آخری ٹویٹ اتوار کو کیا تھا۔ پیر کو رات گئے تک کوئی ٹویٹ نہیں سامنے آیا تھا۔ ہفتہ کو ہندی میں کئے جانے والے ایک ٹویٹ میں ملعون نوین جندال نے ایک ٹیلی فون نمبر بھی پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نمبر سے کی جانے والی کال کے ذریعے اسے اور اس کے خاندان کو قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ جس پر اس نے فوری پولیس کنٹرول روم کو اطلاع دی۔ ساتھ ہی نوین جندال نے لوگوں سے گڑگڑاتے ہوئے منت کی کہ ’’میرے اور میرے اہل خانہ کے بارے میں کسی قسم کی معلومات شیئر نہ کی جائیں۔ کیونکہ میرے خاندان کی جان کو خطرہ ہے۔ میری درخواست کے باوجود بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر میری رہائش کا پتہ شیئر کر رہے ہیں‘‘۔

بھارت میں موجود صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جندال نے اس خوف سے کہ کہیں اس کا سراغ نہ لگالیا جائے۔ اپنے قریب ترین لوگوں سے بھی رابطے منقطع کر رکھے ہیں۔ جبکہ توہین آمیز پوسٹ اس نے فوری ڈیلیٹ کردی تھی۔ ان ذرائع کے بقول فیملی کے ساتھ نوین جندال خود بھی دہلی چھوڑ چکا ہے۔ کیونکہ اس کو شکوہ ہے کہ اس کڑے وقت میں جس طرح پارٹی کو اس کا ساتھ دینا تھا، نہیں دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی اپنی ترجمان نوپور شرما کو معطل جبکہ دہلی کے میڈیا سربراہ نوین کمار جندال کو گستاخانہ کلمات پر پارٹی سے نکال چکی ہے۔ دونوں کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جا چکے ہیں۔ تاہم صحافتی ذرائع کے بقول معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وقتی طور پر مودی سرکار نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملعونوں کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ صرف سرکاری حکام کو علم ہے کہ دونوں کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ بلکہ انہیں سرکاری سرپرستی میں خفیہ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

گستاخ نوین جندال کی طرح ملعونہ نوپور شرما بھی تاحال روپوش ہے۔ اور اس کا ٹویٹر اکائونٹ پچھلے نو روز سے خاموش پڑا ہے۔ ملعونہ کے قریبی لوگوں کے مطابق اسے خوف ہے کہ کہیں ایکٹو ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے اس کا خفیہ مقام افشا نہ ہوجائے ۔ نوپور شرما نے آخری ٹویٹ پانچ جون کو کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر اس کے الفاظ سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ غیر مشروط طور پر اپنے بیان سے دستبردار ہوتی ہے۔ اور یہ کہ اس کا ارادہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ساتھ ہی ملعونہ نوپور شرما نے بھی تمام میڈیا ہائوسز اور لوگوں سے التجا کی کہ وہ اس کے گھر کے پتے کو عام نہ کریں۔ کیونکہ اس کی فیملی کو خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی سابق صدر ملعونہ نوپور شرما پیشے کے لحاظ سے وکیل ہے۔ بعدازاں اسے بی جے پی کے دہلی ونگ کا ترجمان بنادیا گیا تھا۔ ملعونہ کالج کے زمانے سے ہی مسلمان مخالف تقریریں کرتی چلی آرہی ہے۔ خود بھارتی میڈیا کے مطابق وہ انڈین سیاست میں ہمیشہ سے ایک متنازعہ شخصیت رہی ہے۔

ادھر بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد (پریاگ راج) میں چوبیس سالہ مسلمان اسٹوڈنٹ رہنما آفرین فاطمہ کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ اس سے ایک روز قبل پولیس نے گھر پر چھاپہ مار کر آفرین فاطمہ کے والد جاوید محمد، والدہ پروین فاطمہ اور بہن سمیعہ فاطمہ کو گرفتار کرلیا تھا۔ آفرین فاطمہ کے گھر کی مسماری سے متعلق اپنی رپورٹ میں الجزیرہ نے بتایا ہے کہ گھر کو گرانے کا منظر میڈیا کے درجنوں لوگوں نے ریکارڈ کیا۔ چند گھنٹوں کے اندر دو منزلہ عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی۔ جبکہ گھر کا فرنیچراوردیگرسامان، کتابیں اورتصاویر ساتھ والے خالی پلاٹ میں پھینک دی گئیں۔ ان میں ایک پوسٹر بھی تھا۔ جس پر لکھا تھا ’’جب ناانصافی قانون بن جاتی ہے تو مزاحمت فرض بن جاتی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ آفرین فاطمہ کے والد سماج وادی پارٹی کے مقامی رہنما اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے عہدیدار ہیں۔ تاہم ان کے خلاف جاری کارروائی پر پارٹی کاکوئی رہنما سامنے نہیں آیا۔ جاوید محمد کو پولیس نے گستاخانہ کلمات کے خلاف اترپردیش میں ہونے والے احتجاج کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رکھا ہے۔

آفرین فاطمہ نے کہا ہے کہ ان کے گھرکو منہدم کرنا حکومت کی انتقامی کارروائی تھی۔ کیونکہ سرکار گستاخانہ کلمات کے خلاف ہونے والے احتجاج کو ریاستی جبر کے ذریعے روکنا چاہتی ہے۔ لہٰذا دیگر مسلمانوں کے گھروں کو بھی گرایا جارہا ہے۔

بی جے پی کے ایک ترجمان نے کھلے عام یہ اعتراف کیا ہے کہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے حکم پر احتجاج میں حصہ لینے والے مسلمانوں کے گھر منہدم کئے جارہے ہیں۔ زعفرانی لباس پہننے والے اس متعصب ہندو یوگی کی مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

ادھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے پیر کے روز اپنی اسٹوڈنٹ لیڈرآفرین فاطمہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی۔ ریلی میں شریک طلبا کی بڑی تعداد وزیراعلیٰ اترپردیش کے خلاف نعروں کے ساتھ یہ شعر بھی پڑھ رہی تھی:

’’لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردنوں کی طرف  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے‘‘