تھائی لینڈ میں’’بھنگ میلہ‘‘نشئی جھوم اٹھے

تھائی لینڈ میں ’’عالمی بھنگ میلہ‘‘ نے دھوم مچا دی،دنیا بھر سے ہزاروں نشئی شریک ہوئے۔

مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ تھائی حکومت کی اجازت سے ٹیکس اور قومی آمدن میں اضافہ کیلیے بھنگ میلے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس میں عالمی دنیا بھر کے ہزاروں نشئی شریک ہوئے۔ حکومت تھائی لینڈ کواس میلہ سے ریکارڈ کمائی ہوئی ہے۔ جبکہ دسمبر 2022ء میں کرسمس کے آس پاس بھی ایک اوربھنگ فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ’’ملایا میل آن لائن‘‘ کے مطابق تھائی حکومت کو کورونا وبا کے بعد سیاحوں کی تعداد میں مسلسل کمی کا سامنا تھا جس سے حکومتی سیاحتی آمدن اورہوٹلز اورریسورٹس کی کمائی نصف ہوچکی تھی۔ اگرچہ تھائی لینڈ میں بھنگ پر مکمل پابندی تھی لیکن ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے بعد تھائی لینڈ حکومت اور وزارت ٹوورازم کی معاونت سے منعقدہ ایک اجلاس میں بھنگ پر پابندی کو ختم کردیا گیا اور’’بھنگ فیسٹیول‘‘ کا انعقاد کئے جانے کا اعلا ن ہوا تھا۔

عالمی جریدے’’اسٹریٹس ٹائمز‘‘ کے مطابق میلہ حکومتی توقعات کی عین مطابق کامیاب رہا، جس میں ہزاروں بھنگ کے رسیائوں نے شرکت کی۔ میلہ میں بھنگ سے تیار مٹھائیاں، سگریٹ، مشروبات اور دیگر اشیا کی ریکارڈ فروخت ہوئی۔ جبکہ شرکا کو 25 فیصد قیمت پر بھنگ کے پودے اور پنیریاں بھی پلاسٹک کے ڈبوںاور گملوں میں فراہم کی گئی تھیں۔ ویڈ ڈسپنسری نیچر ماسٹرز نامی تھائی کمپنی کے ڈائریکٹر وکٹر زینگ نے بتایا کہ ہم کئی دہائیوں سے تھائی لینڈ میں اس لمحہ کے منتظر تھے۔

تھائی تجزیہ کاروں نے اپنے معاشی جائزوں میں بتایا ہے کہ بھنگ پر پابندی کے اختتام کے بعد آنے والے دو سے تین برسوں میں یہاں قانونی بھنگ مارکیٹ ٹیکس کی مد میں تھائی حکومت کو کم و بیش 200 بلین ڈالرز تک کی آمدن فراہم کرسکتی ہے۔ تھائی بھنگ میلہ میں شریک ایک صحافی سنو تھوئی پاٹ کا کہنا تھا کہ میلہ میں ایسے حکومتی منتظمین بھی اسٹالز پر موجود تھے جو شائقین اور پہلی مرتبہ بھنگ کا استعمال کرنے والوں کو بھنگ پروڈکٹس کی طبی، نفسیاتی اور جسمانی افادیت سے روشناس کراتے رہے۔ ایک بھنگ اسٹال ایسا بھی موجود تھا جہاں بھنگ آمیزچائے اورکافی سمیت دیگر مشروبات بھی فروخت کیے جا رہے تھے۔

بھنگ میلہ کے ایک منتظم توئی تائی پھوٹ نے بتایا ہے کہ میلہ میں پیش کی جانیوالی پروڈکٹس محدود تھیں جو ہاتھوں ہاتھ خرید لی گئیں۔ بھنگ میلہ میں بودھ مذہب کے ایک سینیئر بھکشو اپنے روایتی تھیلے میں بھنگ کا بنا ہوا تیل اور بھنگ سے تیار کیا جانے والا عطر بھی فروخت کر رہے تھے۔

میلہ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس میلہ میں موجود تمام بھنگ پروڈکٹس اعلیٰ کارکردگی والی تھیں اور اگلے چند ماہ بعد دسمبر میں منعقد کیے جانے والے میلے میں تھائی حکومت اور میلہ منتظمین کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ امریکی بھنگ پروڈکٹس کو بھی فیسٹیول میں پہنچائیں۔ واضح رہے کہ کینیڈا، آسٹریلیا، چند امریکی ریاستوں سمیت اسرائیل میں بھنگ کی کاشت اور فروخت سمیت میلوں ٹھیلوں کے انعقاد پر کسی قسم کا کوئی قدغن نہیں ہے۔ اب ایشیائی ریاست تھائی لینڈ میں بھی بھنگ پر سے پابندی ختم کی جاچکی ہے۔

تھائی حکومت نے ایسے ہی مزید بھنگ میلوں کے سرکاری سرپرستی میں انعقاد کیلیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ تھائی حکومت اب پرائیوٹ کمپنیوں، نجی منتظمین اور ایونٹس ڈائریکٹرز سمیت شادی بیاہ اور سالگرہ سمیت گھریلو تقریبات کے ایونٹ منیجرز کو بھی ڈالرز میںفیس کی ادائیگی کے عوض بھنگ فیسٹیول اور مصنوعات کی فراہمی اور پروگرامز کیلئے لائسنس کی اجرائی پر متفق ہے۔ کیونکہ تھائی حکومت کو سیاحتی مراکز سمیت بھنگ لائسنس سے بھی کروڑوں ڈالر کی آمدن کی امید ہے۔

تھائی میڈیا کے مطابق تھائی ریاست ناکھون میں ہزاروں سیاحوں اور تھائی باشندوںنے ساحل پر موجود فیسٹیول کا رخ کیا جہاں بھنگ کی مختلف مصنوعات فروخت کیلئے رکھی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ ماضی کا تھائی لینڈ منشیات کیخلاف اپنے سخت گیرقوانین اور مجرموں کیلئے سنگین سزائوں کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ لیکن اب تھائی حکومت نے حالیہ برسوں میں ان قوانین اور سزائوں میں بتدریج نرمی لاگو کی ہے۔