این اے 240۔ایم کیو ایم ،پی ایس پی کارکنوں میں تصادم۔انیس قائم خانی کی گاڑی پرفائرنگ

کراچی: قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے کے دوران ایم کیو ایم اورپی ایس پی کے کارکنوں میں تصادم ہو گیا،متعدد کارکن زخمی ہو گئے،پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی کی گاڑی پرفائرنگ کی گئی جس سے گاڑی کونقصان پہنچا۔

پی ایس پی کے رہنمائوں نے لانڈھی نمبر6 میں ہونے والی فائرنگ کا الزام ٹی ایل پی پرلگا دیا،دوسری جانب ٹی ایل پی نے دعوی ٰ کیا ہے کہ سعد رضوی کی گاڑی پربھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی گئی ہے،علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے،وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم  ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشرکرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پرقابوپالیا۔

ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

ریجنل الیکشن افسرکے مطابق  پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا،  واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اورپولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

حلقے کے کل 309 پولنگ اسٹیشنز میں سے 203 انتہائی حساس قرار  دیے گئے ہیں جہاں پولنگ اسٹیشنز سمیت بوتھس پر بھی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔