8سال بعد پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نےبالاخر8سال بعد پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف الیکشن کمشنرکی سربراہی میں پی ٹی آئی کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی۔الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پرکیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاتاہم یہ نہیں بتایا کہ محفوظ کیا گیا فیصلہ کب سنایا جائے گا۔

 درخواست گزاراکبرایس بابرکے فنانشل ایکسپرٹ نے دوران سماعت  بتایاکہ پی ٹی آئی فنڈز میں آڈٹ کے اصول اور معیارکو نظراندازکیا گیا ہے۔ ڈونرز تھرڈ پارٹی نہیں،پی ٹی آئی قیادت کی اپنی بنائی ہوئی کمپنیاں ہیں۔

فنانشل ایکسپرٹ کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کو ڈونرزکی نامکمل تفصیلات فراہم کی گئیں ۔13ممالک سے فنڈنگ ہوئی لیکن اسکروٹنی کمیٹی کو نہیں بتایا گیا۔2013کے ڈونرز کی تفصیلات جمع نہیں کرائی گئیں۔

فنانشل ایکسپرٹ  نے کہا ہے کہ  فنڈنگ کے لیے بیرون ملک بنائی گئی کمپنیوں کی تفصیلات نہیں دیں۔اسٹیٹ بینک سے 11 اکاونٹس کی تفصیلات منگوائی جائیں ۔پی ٹی آئی وکیل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کچھ دن پہلے ڈونرز کی فہرست جمع کرا دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ یہ دلائل توپہلےدونوں اطراف کےوکلادےچکےہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ  قومی مفادکامعاملہ ہے، دل سے فریقین کا مشکور ہوں ، کیس میں  بہت کچھ سیکھنے کو ملا،بہت جلد دیگر جماعتوں کے کیس بھی فائنل ہونگے، یقینی بنائیں گے کہ کسی کیساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

 چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا کیس فائنل ہوا ہے۔ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں کہ باہر کون کیا کہہ رہا ہے۔انصاف کے مطابق اس کیس کا فیصلہ ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہاہے کہ قومی مفادکامعاملہ ہےجلددیگرجماعتوں کےکیس بھی فائنل ہوں گے۔یقینی بنائیں گے کسی کیساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔ملک کیلیےجمہوریت ضروری ہےجسےمضبوط بناناہے۔ووٹرز کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے، یقینی بنائیں گے سب کیساتھ انصاف ہو۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس 8 سال زیر سماعت رہا۔