ہندو درزی نے دو مرتبہ گستاخی کی تھی

عاشق رسول بھارتی مسلمان کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والا کنہیا لال نامی ہندو درزی تمام گستاخوں کیلیے نشان عبرت بن چکا ہے۔

پولیس انوسٹی گیش اور موقر مسلم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملعون ہندو درزی کنہیا لال نے دو مرتبہ گستاخی کی تھی اوراس ضمن میں مسلم کمیونٹی سے کئے جانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔ کنہیا لال نے 10 جون 2022ء کو پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخانہ پوسٹ کی تھی اور ملعونہ نوپور شرما کی حمایت بھی کی تھی۔ جس پر مسلم کمیونٹی نے شدید اعتراض کیا تھا اور دونوں باپ بیٹوں کیخلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرائی گئی تھی۔ پولیس نے کنہیا لال کو گرفتار کرکے عدالتی چالان پیش کردیا تھا۔ لیکن بعد ازاں اس کی ضمانت ہوگئی۔ پولیس ڈائریکٹر لا اینڈآرڈر ہوا سنگھ گھماریہ کے مطابق ایس ایچ او تھانہ نے کنہیا لال اور مسلم کمیونٹی کو ساتھ بٹھا کر ایک تحریری معاہدہ کرا دیا تھا، جس میں کنہیا لال اور اس کے بیٹے نے مسلمانوں سے معافی طلب کی تھی اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی گستاخی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ صرف چار روز بعد کنہیا لال اور اس کے بیٹے نے دوبارہ گستاخانہ پوسٹ کی، جس پر اس کی دکان پر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ مقدمہ کے اندراج اور ضمانت کے دوران ہندو درزی کنہیا لال کی ٹیلر شاپ چار پانچ روز سے بند تھی۔ ضمانت، رہائی اور معاہدے کے بعد کنہیا نے منگل کو اپنی موت کے دن دکان کھولی تھی۔ کئی عینی شاہدین یہ منظر دیکھ کر بیہوش ہوگئے۔ جبکہ ہندو دکانداروں کی اکثریت موقع سے دکانیں کھلی چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ایک گردن کٹنے کے بعد ہندوؤں کے خوف کا یہ عالم ہے کہ مارکیٹ کا کوئی دکاندار کیس میں گواہی دینے کو تیار نہیں۔

میڈیا گفتگو میں پولیس ایس پی مان سنگھ نے کہا کہ دکان میں کم از کم سات افراد کام کر رہے تھے۔ جس میں سے ایک ایشور سنگھ نے مداخلت کی کوشش کی تو تلوار سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا گیا۔ گستاخ رسول کی سزا پرعمل کرنے والے دونوں نوجوانوں ریاض اور غوث نے اس واقعہ کی ویڈیو بھی اپ لوڈ کی تھی۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے گستاخ ہندو درزی کا سر قلم کرنے والے مسلم نوجوانوں ریاض اورغوث کو ریمانڈ پرجیل بھیج دیا ہے اورآلہ قتل گنڈاسا اور تلوار برآمد کرلی ہے۔

دونوں نوجوانوں نے سینہ تان کراعتراف قتل کیا اورعہد کیا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا سر قلم کرنا تھا سو انہوں نے کردیا اور اب کوئی بھی ہندو پیغمبر اسلام کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ راجستھانی وزیر اعلیٰ اشوک گھلوٹ نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور ساتھ ساتھ وزیراعظم مودی کو سے مطالبہ کیا کہ جب ملک میں تناؤ کا ماحول ہے تو مودی جی کو چاہئے کہ وہ خاموشی ترک کرکے قوم سے خطاب کریں اور جنتا کو بتائیں کہ ہم دیش میں تشدد نہیں چاہتے۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گستاخ درزی کا سر قلم کئے جانے کے بعد اس کیس میں راجستھانی مسلمانوں کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کیلئے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کی قیادت میں 20 رکنی ٹیم اودے پور بھیجی ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس کو پولیس سے واپس لیکر اے این آئی خود قانونی کارروائی کرے گی۔ اس ضمن میں با خبر وزارت داخلہ انڈیا کے ذرائع کا کہنا تھا کہ کیس اے این آئی کو اس لئے دیا گیا ہے کہ ریاض اور غوث نے ویڈیو پیغام میں گستاخ کی سزا کا وزیر اعظم مودی پر بھی اطلاق کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سینئر بھارتی پولیس افسر نے واقعہ کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نوپور شرما اور جندل کو القاعدہ نے قتل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کی آڑ میں مسلمانوں کو بدترین انتقامی کارروائی کا ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

راجستھان محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کیلئے ریاست نے ایک اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم/ ایس آئی ٹی مقرر کی ہے، جس میں سینئر تفتیشی افسران شامل ہیں۔ اودے پور سے ملی اطلاعات میں تصدیق کی گئی ہے کہ سر قلم کرنے والے دونوں گرفتار نوجوانوں غوث اور ریاض کے تمام گھر والوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ انڈین ایکسپریس نے بتایا ہے کہ بدھ کو کنہیا لال کی لاش کو جلا دیا گیا جس میں سو سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

ادھر وزیر اعلیٰ راجستھان گھلوٹ نے ٹیلی فون پر دہلی میں وزیراعظم مودی سمیت قومی سلامتی مشیر سمیت وزیر داخلہ امیت شاہ سے واقعہ اور حالات کی سنگینی پر گفتگو کی۔ ریاست بھر میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست رفتار ہے، سائبر سیکورٹی تمام پوسٹوں کی اسکریننگ کر رہی ہے، ریاست بھر میں دفعہ 144 نافذ کی جاچکی ہے، جو اتوار تک جاری رہے گی۔ اودے پور سمیت ریاستی شہروں جودھپور، جے پور، بیکانیر، جیسلمیر، اجمیر، بھرت پور وغیرہ میں سخت خوف کا سماں ہے۔ ہندوؤں کو سر کاٹے جانے کا خوف ہے تو مسلم کمیونٹی کو ہندوؤں، پولیس اور حکومت کی مشترکہ مخالفانہ کارروائی اور گھر مسمارکیے جانے کا خوف لاحق ہے۔

راجستھان پولیس نے اودے پور پولیس اسٹیشن سمیت دیگر علاقوں میں سخت کرفیو کا نفاذ کیا ہوا ہے۔ دکانیں بند ہیں۔ سڑکوں پر سخت اسنیپ چیکنگ کی جا رہی ہے۔ مساجد و مندروں پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس ڈائریکٹر لا انفورس منٹ ہوا سنگھ گھماریہ کی جانب سے ضلعی کلکٹرتارا چند مینا سمیت وزیر اعلیٰ راجستھان اشوک گھلوٹ کو پیش کی جانے والی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مردود ہندو درزی کنہیا لال اوراس کا بیٹا مسلمانوں سے کی جانے والی عہد شکنی کے مرتکب ہوا۔ کوتوالی میں کنہیا لال کیخلاف ایف آئی آر کیلیے درخواست جمع کرائی گئی، جس پر معاملہ کو سلجھانے کی خاطر پولیس، کنہیا لال اور اس کے بیٹے، ہندو کمیونٹی اور مسلمان عمائدین کا مشترکہ پنچایتی جلسہ ہوا تھا، جس میں مسلمانوں کی کمپلین کو درست قرار دیکر کنہیا لال اوراس کے بیٹے سے بھری پنچایت میں معافی منگوائی گئی اور مستقبل میں ایسی کسی قسم کی دل آزاری پر مبنی پوسٹ شیئر کرنے سے احتراز کرنے کا وعدہ لیا گیا، جس کے گواہ پنچایتی ممبران، ہندو و مسلم کمیونٹی ارکان اور خود پولیس تھی۔ منگل کو کنہیا لال عہد شکنی کے ارتکاب پر بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔ ٹیلر شاپ پہنچ کر پنچنامہ تیار کرنے والے پولیس انسپکٹرکا کہنا تھا کہ ہندو درزی کی گردن اور دھڑ دکان کے باہر زمین پر پڑے ہوئے تھے۔

کنیہا لال کی دکان دھان منڈی، بھوت محل کے پاس ’’سپریم ٹیلرز‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ واقعہ دوپہر ڈھائی بجے ہوا، جس میںموٹر سائیکل سوار ریاض اختر اورغوث گنڈاسا اور تلوار لیکر آئے اور ناپ لینے کے دوران ریاض نے تلوار سے گستاخ کی گردن اُڑا ڈالی اورغوث نے اس کو بچانے کی کوشش کرنے والے معاون درزی ایشور سنگھ کا پیٹ پھاڑ ڈالا۔ ادھر ہندی جریدے امر اُجالا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گستاخی کے جرم میں پہلا سر کٹنے کے بعد مفرورگستاخوں جندال اور ملعونہ شرما کی سیکورٹی دوگنی کردی گئی ہے۔ دہلی پولیس اورصحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ممکن نہیں ہے کہ نوپور شرما کو پولیس کے روبرو تفتیش کیلئے پیش کیا جائے۔ دہلی میں اپنے گھر پر نظر بند گستاخ بی جے پی برطرف ترجمان نوین کمار جندال نے گزشتہ روزدہلی پولیس کو ایک اور تحریری کمپلین کرکے بتایا کہ اس کو بدھ کی صبح تین ای میل ملی ہیں، جس میں اودے پور کے درزی کنہیا لال کا حوالہ دیکر اس کا اور اس کی فیملی کا سر کاٹ ڈالنے کی دھمکی دی گئی ہے۔