سپریم کورٹ نے پرویزالہی اور حمزہ شہبازکو طلب کر لیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف اوراسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہی کولاہوررجسٹری میں فوری طور پر طلب کرلیا،عدالت نے ایک بار پھر وقفہ کردیا۔

چوہدری پرویزالہیٰ نے حمزہ شہبازکو وزیراعلیٰ برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہرکردی ، پرویزالہیٰ نے عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے ضمنی الیکشن تک وزیراعلیٰ کا انتخاب روکنے کی استدعا کردی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کچ، حمزہ شہبازکے وزیراعلیٰ رہنے پرکسی کو اعتراض نہیں ۔سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کو عدالت طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ  میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب آج 4 بجے  نہیں ہو سکتا۔

وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق تحریک انصاف کی اپیل پر سماعت کے دوران بابراعوان نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن ہوا، جس میں ایوان میں لڑائی ہوئی۔لڑائی جھگڑے کے بعد پولیس کو ایوان میں طلب کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ نے کہا ہے 197 میں سے 25 نکال دیں ، پچیس ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کا انتخاب درست نہیں رہتا۔ انتخاب کے دوسرے راؤنڈ میں سادہ اکثریت یعنی 186 کی ضرورت نہیں۔

بابر اعوان نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے ذہن میں 10 دن کا وقت تھا لیکن 7 دن کا عدالت سے وقت مانگاہے۔ مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن بھی 7دن تک ہو جائے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملک کے کسی بھی حصے سے 24 گھنٹے میں لاہور پہنچا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں، بابر اعوان نے جواب دیا کہ ہم تو دس دن چاھتے تھے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے۔

عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 7 دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا، جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ آئین میں کیا لکھا ہے کہ اگر وزیراعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائےگا۔