ایران میں مظاہرین کی حمایت،سابق ایرانی صدر کی بیٹی گرفتار

تہران: ایران میں پولیس حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت پر سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی کو گرفتار کرلیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو مظاہروں کی حمایت پر تہران سے گرفتار کیا گیا، پولیس کی جانب سے ان پر فسادات کو ہوا دینےکا الزام عائدکیا گیا ہے۔

خیال رہےکہ ہاشمی رفسنجانی ایران کے چوتھے منتخب صدر تھے، وہ اس عہدے پر 2 بار 1989اور 1993 میں منتخب ہوئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 59 سالہ فائزہ ہاشمی رفسنجانی ایران میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے باعث پہلے بھی جیل جاچکی ہیں۔

واضح رہےکہ ایران میں پولیس کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف حکومت مخالف مظاہرے 12 روز سے جاری ہیں، مظاہرے ملک کے 80 سے زیادہ شہروں میں پھیل چکے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں اب تک 76 مظاہرین ہلاک اور 900 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

ایرانی پولیس کی حراست میں 22 سالہ لڑکی مہسا امینی 16ستمبرکو انتقال کرگئی تھی، مہسا امینی کو تہران میں اسکارف نہ پہننے پر حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

حجاب قانون کا جائزہ شروع

ڈھائی ماہ بعد ایرانی پارلیمنٹ نے حجاب قانون کا جائزہ لینا شروع کر دیا

حجاب سے متعلق قانون کا جائزہ لیا جا رہا ہے، پارلیمنٹ اورعدلیہ حجاب قانون پر کام کر رہے ہیں