ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے،سجاد عباسی

خوش شکل ، خوش گفتار ، خوش مزاج اور خوش لباس فرخ سعید خواجہ بھی رب کے حضور پیش ہو گئے ۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔ طویل عرصہ کینسر کیخلاف جنگ لڑتے رہے مگر یہ موذی مرض ان سے مسکراہٹ چھیننے میں تو کامیاب نہیں ہو سکا۔۔ بالآخر زندگی چھیننے میں کامیاب ہوگیا۔۔ بے شک ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
جنگ گروپ کے بعد امّت جوائن کیا تو ابتدائی برسوں میں خواجہ صاحب سے بہت قریبی تعلق اور رابطہ رہا۔پہلے پہل ہفت روزہ غازی کی ادارت سنبھالی تو اس کا کوئی شمارہ خواجہ صاحب کی رپورٹ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا ۔ وہ لاہور میں امّت کے بیوروچیف تھے، اس سے پہلے نوائے وقت سے منسلک رہے اور بعد میں پھر چیف رپورٹر کے طور پر نوائے وقت جوائن کیا۔۔ ان کا شمار لاہور کے ٹاپ پولیٹیکل رپورٹرز میں ہوتا تھا۔ اقتدار کی راہداریوں تک رسائی رکھتے تھے اور شاید ہی کوئی سیاسی خبر یا واقعہ ان سے پوشیدہ رہ پاتا تھا۔ وہ باقاعدگی سے کالم نگاری کرتے تھے ، ان کی تحریر سادہ اور رواں ہوتی ۔ مشکل سے مشکل بات کو بڑی آسانی سے کہنے کا ہنر رکھتے تھے۔۔ ایک بار ہمارے مدیراعلی رفیق افغان صاحب کسی کو فون پر سمجھا رہے تھے کہ ” بھائی مشکل جملے لکھ کر کیوں خود کو اور قاری دونوں کو مشکل میں ڈالتے ہو، بس خواجہ صاحب کا طرز تحریر اپناؤ” ظاہر ہے ایک "مشکل پسند” مدیر کے یہ الفاظ کسی بھی کالم نگار کے لئے سند سے کم نہیں ہیں۔ ہم نے یہ بات خواجہ صاحب کو فون پر بتائی تو بہت خوش ہوئے اور روایتی قہقہہ لگاتے ہوئے بولے۔ دل خوش ہو گیا۔
” اگر میں کول ہوندا ، تے اپنڑیں ویر نوں گُھٹ کے جپھی پاندا ” ( اگر میں پاس ہوتا تو اپنے بھائی کو زور دار جپھی ڈالتا ) ۔۔ خواجہ صاحب ایسے ہی تھے ، خوش مزاج اور کھلے ڈلے لاہوری۔۔ اچھے جملوں کا بلند آہنگ قہقہے کے ساتھ لطف اٹھانے والے۔۔ ہنستے تو گول مٹول گلابی مائل چہرے پر سجی روشن آنکھیں اور موتیوں جیسے دانت سماں باندھ دیتے۔۔ عالی ظرف اور وضع دار ایسے کہ کسی دوست یا کولیگ کو کام پڑ جائے تو جیسے خواجہ صاحب اسی انتظار میں بیٹھے ہوں ، کام چھوٹا ہے یا بڑا ، کبھی ان کی پوزیشن اور سنیارٹی حائل نہ ہوتی ۔۔ایک بار میری فیملی لاہور سے کراچی آرہی تھی ، میں نے کراچی ایکسپریس کی سیٹس بک کرانے کے لیے خواجہ صاحب کو زحمت دی اور درخواست کی کہ کسی بچے کے ہاتھ ٹکٹ اسٹیشن پر بھجوا دیں۔۔ مگر خواجہ صاحب ٹکٹ لے کر خود اسٹیشن پہنچ گئے۔۔ تب موبائل عام نہیں تھے۔ میں نے بھائی کو سفاری سوٹ میں ملبوس گورے چٹے گول مٹول شخص کا حلیہ بتایا، بھائی نے ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے پی سی او پر کھڑے اسی حلیے کے ایک اور صاحب کو جا لیا ، جنہوں نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی۔۔ بعد میں معلوم ہوا خواجہ صاحب مسافروں سے پہلے ٹرین کی متعلقہ بوگی میں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں، کمپارٹمنٹ نمبر انہوں نے فون پر بتا دیا تھا ۔۔ خواجہ صاحب سے کبھی اس موضوع پر بات ہوتی تو پھر قہقہے گونجنے لگتے۔۔
غالبا” پانچ چھ برس کی رفاقت کے بعد خواجہ صاحب اپنے پرانے ادارے میں لوٹ گئے۔۔ اس کے بعد کبھی کبھار فون پر رابطہ رہتا ۔۔ چند برس پہلے ایک بار لاہور جانے پر مختصر سی ملاقات بھی ہوئی۔ دو سال پہلے شاہ جی ( سید سعود ساحر صاحب) کے جنازے میں خواجہ صاحب بھی دیگر احباب کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے۔۔ تب معلوم ہوا کہ مسکراتے چہرے اور روشن آنکھوں والا یہ شخص کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہا ہے ۔۔ ابھی حاجی نواز رضا صاحب کی تحریر نظر سے گزری تو معلوم ہوا کہ خواجہ فرخ سعید نے کیا بھرپور زندگی گزاری ہے ۔۔ اسٹوڈنٹ لیڈر اور پھر صحافی رہنما کے طور پر بھی ان کا کیریئر قابل رشک رہا ۔۔ روشن آنکھوں اور گلابی رنگت والے خواجہ صاحب 72 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے ۔۔ الله ان کی قبر کو روشن رکھے ۔۔ آمین

یہ بھی دیکھیں

تصویر کی اذیت۔۔ ڈاکٹر ظفر اقبال 

 کہتے ہیں دیت کے بعد کیس ختم ہوا۔ انسانی جان کے خاتمے کے اس کیس کے ساتھ رجحان سازی کا گہرا تعلق بن چکا۔ اس حوالہ سے ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں؟